Tag: خالد علیم
ناصر زیدی نمبر ۔۔۔ جنوری، فروری 2020ء
ناصر زیدی نمبر DOWNLOAD
Read Moreنعت رسول مقبولﷺ ۔۔۔ خالد علیم
ﷺ آپ کا ذکرِ مبارک لب بہ لب، شاہ ِؐ عرب آپ کی توصیف ہے وجہِ طرب، شاہِ ؐ عرب عمر بھر کرتا رہوں میں آپ کی مدحت رقم اس سے بڑھ کر کچھ نہیں میری طلب، شاہِ ؐ عرب آپ کی ذاتِ مقدس محسنِ نوعِ بشر آپ پر قرباں ہوں میرے جدّ و اَب، شاہِ ؐ عرب آفتاب ِدہر، قندیلِ شبستانِ وجود شمعِ محفل، ماحیِ ظلماتِ شب، شاہِ ؐ عرب عقل و فہم و دانش و حکمت کا بحرِ بے کراں مخزنِ علم و ادب، اُمی لقب، شاہِ ؐ…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ ترے لیے کبھی وحشت گزیدہ ہم ہی نہ تھے
ترے لیے کبھی وحشت گزیدہ ہم ہی نہ تھے وہ دشت بھی تھا، گریباں دریدہ ہم ہی نہ تھے لُٹے پٹے ہوئے اُن راستوں سے آتے ہوئے یہ سب زمین تھی، آفت رسیدہ ہم ہی نہ تھے ہمارے ساتھ کِھلے، ہم پہ مسکرانے لگے تھے تم بھی ایک گلِ نودمیدہ، ہم ہی نہ تھے تم ایک خواب ہوئے اور بن گئے مہتاب فلک کی آنکھ میں اشکِ چکیدہ ہم ہی نہ تھے بجھی ہوئی تھیں فضائیں، سُلگ رہا تھا دھواں بہ رنگِ طائرِ رنگِ پریدہ ہم ہی نہ تھے جھکا…
Read Moreنعت رسول کریم ﷺ ۔۔۔ خالد علیم
نعت رسولِ کریم ﷺ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ قصرِ شاہ، نہ دربارِ کج کلاہ میں ہے قرارِ جاں مرے آقا ؐ کی بارگاہ میں ہے سرورِ دل وہ کسی اور انجمن میں کہاں جو تاج دارِ ؐ مدینہ کی جلوہ گاہ میں ہے گل و سمن میں نہ مشکِ ختن میں وہ تاثیر جو سرزمینِ مدینہ کی خاکِ راہ میں ہے کہاں ملے گا کسی اور کی نظر سے مجھے نشاطِ جاں کا جو سامان اُن ؐ کی چاہ میں ہے روا نہیں ہے یہاں امتیازِ رنگ و نسب ہر ایک خُرد…
Read Moreسیّد یزدانی جالندھری، عظیم قریشی، حامد یزدانی، خالد علیم، محمد احمد شاد
غالباً ستّر کی دہائی کے آخر میں بزمِ خلیقِ ادب گوجرانوالا کی محفلِ مشاعرہ میں برصغیر کے مشہور شاعر جناب سیّد یزدانی جالندھری اپنا کلام پیش کر رہے ہیں۔ اسٹیج پر (بائیں جانب سے) سیکرٹری بزمِ تخلیقِ ادب محمد احمد شاد، راقم الحروف خالد علیم (حضرت یزدانی صاحب کی اوٹ میں، کچھ جانے پہچانے سے) ، تین مصرعوں میں نظم ہٹ کردینے والے شاعر عظیم قریشی اور ان کے ساتھ ہی ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، یعنی جناب حامد یزدانی محوِ سماعت ہیں۔ ( خالد علیم)
Read Moreدریچے کی آنکھ سے ۔۔۔ خالد علیم
دریچے کی آنکھ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پورا زور لگا کر اپنی دونوں کہنیاں بستر پر ٹکائیں ۔ کہنیوں کے بل دائیں کندھے کوبستر پر جھکا کر اپنا سر تکیے کی طرف موڑا اور آہستہ آہستہ پائوں کو کھینچتا ہوا بستر پر لے آیا۔ پھر نیم دراز حالت میں کمرے کی مغربی کھڑکی کو دیکھنے لگا۔ ٹوٹے ہوئے شیشے والے حصے سے باہر کا منظر نسبتاً صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اجالا قدرے بڑھ گیا تھا مگر اسے یوں لگ رہا تھا جیسے یہ اجالا بھی اس کے ضمیر کے…
Read Moreخالد علیم
موسمِ یخ میں کوئی خاک بسر سیلانی ڈھونڈتا پھرتا تھا گم گشتہ سفر پانی میں
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ آنکھ کا پردۂ نم ناک ہے خاک
آنکھ کا پردۂ نم ناک ہے خاک از زمیں تا سرِ افلاک ہے خاک یوں تو ہر آن لہو سا چھلکے دل کہ درپردۂ صد چاک ہے خاک آدمی کا ہوئی پیراہنِ جاں کس قدر سرکش و چالاک ہے خاک ہر قدم رہتی ہے زنجیر بپا کیوں تری زلف کا پیچاک ہے خاک ایک تو ہے کہ ہَوا ہے کوئی ایک میں ہوں، مری پوشاک ہے خاک پائوں سے نکلے تو سر تک پہنچے کیا سمجھتے ہو میاں، خاک ہے خاک
Read Moreجاں آشوب ۔۔۔ خالد علیم
جاں آشوب ۔۔۔۔۔۔۔ کیا نکلا سنگِ چقماق کے دَور سے یہ نادان پتھر بن کر رہ گیا پورا، مٹی کا انسان جذبے پتھر، سوچیں پتھر، آنکھیں بھی پتھر تن بھی پتھر، من بھی پتھر، پتھر ہے وجدان اپنے پتھر سینے میں ہے پتھر کی دھڑکن اپنے پتھر ہونٹوں پر ہے پتھر کی مسکان آج بھی ہم پتھر کی پوجا پاٹ میں بیٹھے ہیں اپنے ہاتھ سے آپ تراش کے پتھر کا بھگوان ۔۔۔۔ ہم نے شہر بنائے، ہم نے گھر آباد کیے ہم نے انسانوں کو دی تہذیبوں کی پہچان…
Read More