احمد مشتاق

اب شام تھی اور گلی میں رکنا اُس وقت عجیب سا لگا تھا

Read More

آج بازار میں پابجولاں چلو ۔۔۔۔۔۔ فیض احمد فیض

آج بازار میں پابجولاں چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چشمِ نم، جانِ شوریدہ کافی نہیں تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں آج بازار میں پابجولاں چلو دست اَفشاں چلو، مست و رقصاں چلو خاک برسر چلو، خوں بہ داماں چلو راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو حاکمِ شہر بھی، مجمعِ عام بھی تیرِ الزام بھی، سنگِ دشنام بھی صبحِ ناشاد بھی، روزِ ناکام بھی ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے رختِ دل باندھ لو، دل فگارو! چلو…

Read More

ابرار احمد

میرے پاس کیا کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس راتوں کی تاریکی میں کھلنے والے پھول ہیں اور بے خوابی دنوں کی مرجھائی روشنی ہے اور بینائی ۔۔۔ میرے پاس لوٹ جانے کو ایک ماضی ہے اور یاد ۔۔۔ میرے پاس مصروفیت کی تمام تر رنگا رنگی ہے اور بے معنویت اور ان سب سے پرے کھلنے والی آنکھ ۔۔۔۔ میں آسمان کو اوڑھ کر چلتا اور زمین کو بچھونا کرتا ہوں جہاں میں ہوں وہاں ابدیت اپنی گرہیں کھولتی ہے جنگل جھومتے ، بادل برستے ، مور ناچتے ہیں میرے…

Read More

احمد مشتاق ۔۔۔۔۔ یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب

یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مرے لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک نہ گئے مگر قریب سے گزرے ہیں بارہا مرے لب اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مرے کان بے نوا مرے لب یہ شاخسانۂ وہم و گمان تھا شاید کجا وہ ثمرۂ باغِ طلب کجا مرے لب

Read More

یہ میری غزلیں، یہ میری نظمیں ۔۔۔۔ احمد فراز

یہ میری غزلیں، یہ میری نظمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میری غزلیں، یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں یہ شعر تیری شکایتیں ہیں میں سب تری نذر کر رہا ہوں یہ اُن زمانوں کی ساعتیں ہیں جو زندگی کے نئے سفر میں تجھے کسی وقت یاد آئیں تو ایک اک حرف جی اُٹھے گا پہن کے انفاس کی قبائیں اُداس تنہائیوں کے لمحوں میں ناچ اُٹھیں گی اپسرائیں مجھے ترے درد کے علاوہ بھی اور دکھ تھے یہ مانتا ہوں ہزار غم تھے جو زندگی…

Read More

احمد مشتاق

ہر نئے چہرے کے ساتھ اک آرزو جاتی رہی گم ہوئیں چیزیں مری نقل مکانی میں بہت

Read More

کہیں ٹوٹتے ہیں ….. ابرار احمد

کہیں ٹوٹتے ہیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت دور تک یہ جو ویران سی رہگزر ہے جہاں دھول اڑتی ہے صدیوں کی بے اعتنائی میں کھوئے ہوئے قافلوں کی صدائیں ، بھٹکتی ہوئی پھر رہی ہیں درختوں میں ۔۔۔۔ آنسو ہیں صحراؤں کی خامشی ہے اُدھڑتے ہوے خواب ہیں اور ہواؤں میں اڑتے ہوے خشک پتے ۔۔۔ کہیں ٹھوکریں ہیں صدائیں ہیں افسوں ہے سمتوں کا ۔۔۔ حدِ نظر تک یہ تاریک سا جو کرہ ہے اُفق تا اُفق جو گھنیری ردا ہے جہاں آنکھ میں تیرتے ہیں زمانے کہ ہم ڈوبتے ہیں…

Read More

احمد مشتاق

اِن مضافات میں چھپ چھپ کے ہوا چلتی تھی کیسے کِھلتی تھی محبت کی کلی، یاد نہیں

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔۔۔۔ وہ سمجھتا ہے اِس کنائے کو

وہ سمجھتا ہے اِس کنائے کو پُل کی حاجت نہیں ہے سائے کو میں جو کہتا ہوں کچھ نہیں ہو گا آگ میں ڈال سب کی رائے کو لے کے دو چسکیاں مرے کپ سے شہد کر دے گا پھیکی چائے کو کھل کے دیتا نہیں وہ داد کبھی آگ لگ جائے اُس کی ’’ہائے ‘‘کو تجھ کو دیکھا تو خود بدل لیں گے صائب الرائے اپنی رائے کو میں یہاں آخری مسافر ہوں اک نظر دیکھ لوں سرائے کو

Read More

نجیب احمد

ہزار موڑ ہیں اس راہ میں، کہیں نہ کہیں وہ مسکرا کے مرا ہاتھ چھوڑ جائے گا

Read More