جب طوفاں کے بیچ کنارہ ہو سکتا تھا دریا کے باہر بھی دھارا ہو سکتا تھا اِک دیوار گرانے، اِک پردہ اُٹھنے سے اندر باہر ایک نظارہ ہو سکتا تھا تاریکی کی قسمت بدلی جا سکتی تھی ہر بستی میں ایک ستارہ ہو سکتا تھا قریہ قریہ خاک اُڑائی جا سکتی تھی میری آنکھوں کا بٹوارا ہو سکتا تھا جاں دے کر سستے میں جان بچا لائے ہو ورنہ عشق میں اور خسارا ہو سکتا تھا کب تک رستہ خوشبوئوں کا روکے رہتے کب تک اپنا جسم گوارا ہو سکتا…
Read MoreTag: Ahmad
احمد ندیم قاسمی
لچک سی جیسے لچکتی ہوئی صدا میں پڑے تِرا خرام جو دیکھا تو بَل ہوا میں پڑے
Read Moreشہزاد عادل
ہم ایسے لوگ طلب کے قمار خانے میں حیات بیچ کے جو کچھ ملا وہ ہار آئے
Read Moreاُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو ۔۔۔ سید علی مطہر اشعر
اُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو وہ آشکار اپنی کسی بات سے بھی ہو ہم اتفاق کیسے کریں اُس کی رائے سے جب منحرف وہ اپنے بیانات سے بھی ہو ممکن ہے پیش رفتِ قیامِ سکوں کے بعد اُس کا کوئی مفاد فسادات سے بھی ہو پابندیِ وفا مری میراث ہی سہی کوئی اُمید اُس کی مگر ذات سے بھی ہو اُس شخص کو مزید پرکھنے کے واسطے کچھ دن گریز خوئے مدارات سے بھی ہو چہرے بھی پڑھتے رہیے کتابوں کے ساتھ ساتھ کچھ استفادہ صورتِ…
Read Moreبشیر بدر
خوبصورت، اُداس، خوف زدہ وہ بھی ہے بیسویں صدی کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: امیج ناشر:نصرت پبلشرز ، وکٹوریہ اسٹریٹ، لکھنو طباعت: نامی پریس، لکھنو سنِ اشاعت: جولائی ۱۹۷۳ء
Read Moreکھلا تھا اک یہی رستہ تو اور کیا کرتا ۔۔ سید آلِ احمد
کُھلا تھا اِک یہی رستہ تو اور کیا کرتا نہ دیتا ساتھ ہَوا کا تو اور کیا کرتا بہت دنوں سے پریشان تھا جدائی میں جو اَب بھی تجھ سے نہ ملتا تو اور کیا کرتا نہ کوئی دشتِ تسلی‘ نہ ہے سکون کا شہر اُجالتا جو نہ صحرا تو اور کیا کرتا بشر تو آنکھ سے اندھا تھا، کان سے بہرہ تجھے صدا جو نہ دیتا تو اور کیا کرتا مرے سفر میں مَحبت کا سائبان نہ تھا بدن پہ دھوپ نہ مَلتا تو اور کیا کرتا ترے حضور…
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
سجدہ، اظہارِ ماندگی ہی تو ہے سانس پھولی تو لَو خدا سے لگی
Read Moreاحمد ندیم قاسمی ۔۔۔ پھر بھیانک تیرگی میں آگئے
پھر بھیانک تیرگی میں آگئے ہم گجر بجنے سے دھوکا کھا گئے ہائے خوابوں کی خیاباں سازیاں آنکھ کیا کھولی، چمن مرجھا گئے کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئنے کی چادریں پھیلا گئے کس تجلی کا دیا ہم کو فریب کس دھندلکے میں ہمیں پہنچا گئے اُن کا آنا حشر سے کچھ کم نہ تھا اور جب پلٹے قیامت ڈھا گئے اک پہیلی کا ہمیں دے کر جواب ایک پہیلی بن کے ہر سو چھا گئے پھر وہی اختر شماری کا نظام ہم تو اس تکرار سے اکتا…
Read Moreانسان ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی
انسان ۔۔۔۔۔ خدا عظیم، زمانہ عظیم، وقت عظیم اگر حقیر ہے کوئی یہاں تو صرف ندیم وہی ندیم، وہی لاڈلا بہشتوں کا وہی ندیم، جو مسجود تھا فرشتوں کا وہ جس نے جبر سے وجدان کو بلند کیا وہ جس نے وسعتِ عالم کو اِک زقند کیا وہ جس نے جرمِ محبت کی جب سزا پائی تو کائنات کے صحراؤں میں بہار آئی وہ جس نے فرش کو بھی عرش کا جمال دیا وہ جس نے تند عناصر کو ہنس کے ٹال دیا بڑھا تو راہیں تراشیں، رُکا تو قصر…
Read Moreاور بارش ہے … ابرار احمد
اور بارش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بے کار محبت کی سیہ کاری میں بھیگ جاتا ہوں تو سو جاتا ہوں اور بارش ہے کہ گرتی ہی چلی جاتی ہے بند آنکھوں پہ تھکے اعضا پر شہر نم ناک میں سانسوں سے بھری گلیوں پر نارسائی کی طنابوں سے بندھے جسموں پر اور ناکردہ گناہوں کے تعفن زدہ کپڑوں سے بھرے کوٹھوں پر اور بے انت کے میدانوں میں!
Read More