اک ستارہ ہے جو بیدار کیا کرتا ہے رات بھر تذکرۂ یار کیا کرتا ہے بیٹھنے پاتے نہیں سایۂ دیوار میں ہم کوئی گریہ پسِ دیوار کیا کرتا ہے وہ بھڑکتا ہے مرے سینے میں شعلے جیسا پھر اسی آگ کو گلزار کیا کرتا ہے ایک ناسور ہے احساس میں حق تلفی کا جو مری ذات کو مسمار کیا کرتا ہے بادباں کھول کے دیکھو تو سفینے والو خشک دریا بہت اصرار کیا کرتا ہے کوئی خوشبو کی طرح نام ترا لے لے کر پھول کے کان میں گنجار کیا…
Read MoreTag: Best Urdu Ghazals
مظفر حنفی ۔۔۔ ہوا ناراض تھی ہم سے کنارا دور تھا ہم سے
ہوا ناراض تھی ہم سے کنارا دور تھا ہم سے سمندر تھا کہ یاں سے واں تلک بھر پور تھا ہم سے خودی، خود آگہی، خودرائی جس میں جلوہ گر ہوتے وہ آئینہ تو پہلے دن ہی چکنا چور تھا ہم سے محبت اور جو آنا مرگ، رونا داستاں گو کا گھنی باتوں کا جنگل رات بھر پُرنور تھا ہم سے مزا بھی ہے سزا بھی ہے مسلسل رقص کرنے میں مگر ہم رقص ہم تھے آسماں مجبور تھا ہم سے خود اپنے کو بھی اک پردے میں رہ کر…
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔۔ نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے
نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے یہ ہم نے کیسے عجیب سے گھر بنا لیے تھے وہ جس ورق سے ہمیں بنانا تھی ایک کشتی اُسی ورق پر کئی سمندر بنا لیے تھے نہ جانے کیوں آسماں بہت یاد آ رہا تھا سو کچھ ستارے ہی سونی چھت پر بنا لیے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ عشق تقلید چاہتا ہے سو ہم نے بھی سارے اشک، پتھر بنا لیے تھے تو پھر وہ صحرا کے ساتھ رہتا تھا اپنے گھر میں سبھی دریچے ہوا کے…
Read Moreثروت حسین
ثروت تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو جیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہو گا
Read Moreعادل منصوری
وہ کون تھا جو دن کے اجالے میں کھو گیا یہ چاند کس کو ڈھونڈنے نکلا ہے شام کو
Read Moreقابل اجمیری
بے کسی سے بڑی امیدیں ہیں تم کوئی آسرا نہ دے جانا
Read Moreعزیز اعجاز
تعلقات ہی اے دوست تجھ سے نازک تھے کڑا دباؤ پڑا ٹوٹتے سہارے پر
Read Moreاحمد فراز
سُنا ہے اُس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ حادثوں میں رہتا ہے چہرہ لالہ گوں اپنا
حادثوں میں رہتا ہے چہرہ لالہ گوں اپنا حوصلے کا آئینہ ہے دلِ زبوں اپنا تیرا دھیان بھی جیسے کعبۂ تقدس ہو تیرے بعد بھی رکھا ہم نے سرنگوں اپنا رخشِ وصل کی باگیں دستِ شوق کیا تھامے فصلِ انبساط آگیں حال ہے زبوں اپنا فاصلوں کی دوپہریں رنگِ رُخ اُڑاتی ہیں خون خشک کرتا ہے دور رہ کے کیوں اپنا عقل بیٹھ جاتی ہے تھک کے جب دوراہے پر کام آ ہی جاتا ہے جذبۂ جنوں اپنا تجھ پہ بار کیوں گزرا میری چپ کا سناٹا تو جو خود…
Read Moreاسحاق وردگ ۔۔۔ وہ جس میں وقت کی دریا دلی نہیں آتی
وہ جس میں وقت کی دریا دلی نہیں آتی تو میرے ہاتھ پہ ایسی گھڑی نہیں آتی سنا رہا ہے لطائف وہ بادشاہوں کو اُداس شخص، جسے خود ہنسی نہیں آتی دکانِ خواب سجائے ہوئے ملے ہم کو وہ لوگ‘ شب کو جنہیں نیند بھی نہیں آتی میں آٹھ سال سے ان وادیوں میں رہتا ہوں یہ کوہِ قاف ہے لیکن پری نہیں آتی فلک کے رخ پہ دریچے بنانے پڑتے ہیں مکانِ ذات میں جب روشنی نہیں آتی کلامِ میر سناتے رہو ترنم سے ہماری آنکھ میں جب تک…
Read More