جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
Read MoreTag: caarwan
قتیل شفائی
صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
Read Moreقتیل شفائی
حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں
Read Moreقتیل شفائی
دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی
Read Moreقتیل شفائی
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں
Read Moreقتیل شفائی
گریباں در گریباں نکتہ آرائی بھی ہوتی ہے بہار آئے تو دیوانوں کی رسوائی بھی ہوتی ہے
Read Moreقتیل شفائی
ستم کے بعد کرم کی ادا بھی خوب رہی جفا تو خیر جفا تھی وفا بھی خوب رہی
Read Moreقتیل شفائی
حدودِ جلوۂ کون و مکاں میں رہتے ہیں نہ جانے اہل نظر کس جہاں میں رہتے ہیں
Read More