Tag: caarwan
رفیق سندیلوی… دل کی طلب کہ جسم کی وحشت سے آئے ہیں
ڈاکٹر خورشید رضوی… ہوئے چمن میں مرے ترجماں گلاب کے پھول
احمد ساقی … ہوائے حرص و ہوس ساتھ ساتھ جاری ہے
قتیل شفائی
ایک یہی پہچان تھی اپنی اس پہچان سے پہلے بھی پاکستان کا شہری تھا میں پاکستان سے پہلے بھی
Read Moreقمر رضا شہزاد
اور پھر اس نے خامشی کے ساتھ ایک آواز کو نشانہ کیا
Read Moreقابل اجمیری
لوگ لے آتے ہیں کعبہ سے ہزاروں تحفے ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے
Read Moreمیرتقی میر ۔۔۔ بے تاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا
بے تاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا اپنے کیے کا اُن نے ثمرہ شتاب دیکھا دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے تیرے بلاکشوں کا ہم نے حساب دیکھا آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت اُس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا لیتے ہی نام اُس کا سوتے سے چونک اُٹھے ہو ہے خیر میر صاحب! کچھ تم نے خواب دیکھا!
Read Moreنصیر ترابی
ہم اہلِ ہجر کو صحرا ہی ایک رستہ تھا اب اس طرف سے بھی خلقِ خدا گزرتی ہے
Read Moreآرزو لکھنوی
جو سینے میں دل ہے تو بارِ محبت اُٹھے یا نہ اُٹھے، اُٹھانا پڑے گا
Read More