اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجے؟ ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا دوست دارِ دشمن ہے! اعتمادِ دل معلوم آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا حالِ دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے…

Read More

آرزو لکھنوی

رہنے دو تسلی تم اپنی، دکھ جھیل چکے، دل ٹوٹ گیا اب ہاتھ مَلے سے ہوتا ہے کیا جب ہاتھ سے ناوک چھوٹ گیا

Read More

محسن اسرار

پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے سفر محال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

Read More

میر اثر

وائے غفلت کہ ایک ہی دم میں مَیں کہیں اور کاروان کہیں

Read More

نواب مصطفٰی خان شیفتہ

حسرت سے اُس کے کوچے کو کیوں کر نہ دیکھیے اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا

Read More

آرزو لکھنوی

لطفِ بہار کچھ نہیں گو ہے وہی بہار دل کیا اُجڑ گیا کہ زمانہ اُجڑ گیا

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ حرف دو حرف

حرف دو حرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل دریچوں میں وہی زرد گمانوں کا غبار وہی احساس کا بے رنگ سا موسم وہی تکرارِ خیال وہی یادوں کے تھکے عکس۔۔۔نگہ کی دیوار وہی ثابت وہی سیّار وہی بے ربط سی بے کیف صدائوں کے الٹ پھیر۔۔۔سماعت کا عذاب سرِ قرطاس نیا کوئی سوال اور نہ جواب خالقِ لوح و قلم! تیرے کرم کے قرباں! پھر تری رحمتِ جاں تاب سے ارزانی ہو سوچ آنگن میں کوئی تازہ ہوا کا جھونکا حرف دو حرف سفر آگے کا

Read More

مژدم خان ۔۔۔ کس کو روشن بنا رہے ہو تم ؟

کس کو روشن بنا رہے ہو تم ؟ اِتنا جو بجھتے جا رہے ہو تم گاؤں کی جھاڑیاں بتا رہی ہیں شہر میں گُل کِھلا رہے ہو تم ایک تو ہم اُداس ہیں اُس پر شاعروں کو بُلا رہے ہو تم اور کس نے تمھیں نہیں دیکھا اور کس کے خدا رہے ہو تم پھول کس نے قبول کرنے ہیں جب تلک مسکرا رہے ہو تم

Read More

نوشاد منصف … بھڑکتی کیوں نہ مری آتشِ انا پھر سے

بھڑکتی کیوں نہ مری آتشِ انا پھر سے بنا ہے رونقِ محفل وہ بے وفا پھر سے یہ آج گردشِ دوراں کہاں پہ لے آئی میں ڈھونڈتا ہوں نیا کوئی آسرا پھر سے نکل پڑے ہیں اچانک ہی اشک خون آلود لوآج پھوٹ پڑا دل کا آبلہ پھر سے وہ جس میں آئی نظرمنزلِ مراد مری تو دے سکے گا وہی مجھ کو آئنہ پھر سے؟ ابھر رہا ہے زمانے میں بعد مدت کے ستم گروں کے ستم کا وہ سلسلہ پھر سے چراغِ زیست کوئی کس طرح جلے منصف…

Read More

الیاس بابر اعوان ۔۔۔ دِلوں کے داغ سمٹ کر جبیں پہ آ گئے ہیں

دِلوں کے داغ سمٹ کر جبیں پہ آ گئے ہیں ہم آسمان سے سیدھے زمیں پہ آ گئے ہیں جو کشتی چھوڑ گئی ہے وہ لے بھی جائے گی گماں کی سمت فقط اِس یقیں پہ آ گئے ہیں درست طور غَلط اُنگلی تھام لی گئی تھی کہیں پہ جانا تھا لیکن کہیں پہ آ گئے ہیں بس ایک دُکھ نے سبھی کو اِکٹھا کر دیا ہے تمام لوگ محبت کے دیں پہ آ گئے ہیں جس اہتمام سے ہم راستوں سے بھٹکے تھے جہاں پہ جانا تھا آخر وہیں…

Read More