عباس رضوی ۔۔۔ مثالِ موجِ صبا اعتبار اپنا نہیں

مثالِ موجِ صبا اعتبار اپنا نہیں کہ دل تو اپنا ہے پر اختیار اپنا نہیں یہ برگ و بار، یہ سرو و سمن اُسی کے ہیں کوئی گلاب سرِ شاخسار اپنا نہیں نہ منزلوں کی خبر ہے، نہ کارواں ہے کوئی مگر قیام سرِ رہ گُذار اپنا نہیں اُنھی کا خوف اُنھی سے خطر جو اپنے ہیں امید ہے تو اُسی سے ہزار اپنا نہیں گئے وہ دن کہ ہمی پیاس تھے ہمی شبنم نہ جانے کس کا ہے اب انتظار، اپنا نہیں یہ اور بات کہ شامل غبارِ راہ…

Read More

اشرف سلیم

اب آئنے کے برابر ٹھہر گیا ہے سلیم غزال شہر میں وہ خود نمائی چاہتا ہے

Read More

بانی ۔۔۔ آج تو رونے کو جی ہو جیسے

آج تو رونے کو جی ہو جیسے پھر کوئی آس بندھی ہو جیسے شہر میں پھرتا ہوں تنہا تنہا آشنا ایک وہی ہو جیسے ہر زمانے کی صدائے موعتوب میرے سینے سے اٹھی ہو جیسے خوش ہوئے ترکِ وفا کر کے ہم اب مقدّر بھی یہی ہو جیسے اس طرح شب گئے ٹوٹی ہے امید کوئی دیوار گری ہو جیسے یاس آلود ہے ایک ایک گھڑی زرد پھولوں کی لڑی ہو جیسے میں ہوں اور وعدۂ فردا تیرا اور اک عمر پڑی ہو جیسے بے کشش ہے وہ نگاہِ صد…

Read More

ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ کوئی دیوار سلامت ہے نہ گھر باقی ہے

Read More

مرزا واجد حسین یاس یگانہ

سمجھتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانہِ درد سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سُنا نہ گیا

Read More

قابل اجمیری

ہاں ہوشیار، چشمِ فسوں کار ہوشیار دل کو تری نگاہ کے انداز آ گئے

Read More

حفیظ اللہ بادل … زمین کھینچتے ہیں، آسمان کھینچتے ہیں

زمین کھینچتے ہیں، آسمان کھینچتے ہیں ہم اپنے جسم سے کیا کیا جہان کھینچتے ہیں بس ایک خطِ محبت ہے اور کچھ بھی نہیں جِسے ہم اپنے ترے درمیان کھینچتے ہیں کِھنچے ہوے ہیں کسی خواب کی کمان میں ہم اس ایک اڑان سے سارا جہان کھینچتے ہیں ہم اپنی عاجزی میں مَست ہیں سو شہر کے لوگ  براے شغل ہمیں پر زبان کھینچتے ہیں یہاں تو قیس کی نِسبت سے ہیں، وگرنہ ہمیں مکین کھینچتے ہیں اور مکان کھینچتے ہیں غزالِ دشت! ہمارا مزاج اپنا ہے ہم اپنے ہاتھ…

Read More

ممتاز اطہر … دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے

دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے وقت کی سانس اٹکنے لگی ہے میں نے رکھا ہے دریچے میں دیا اور ہوا راہ بھٹکنے لگی ہے عشق تھا پہلے پڑاٶ پہ ابھی پھر نٸی آگ دہکنے لگی ہے مجھ کو بھی خواب نے گھیرا ہوا ہے رات بھی آنکھ جھپکنے لگی ہے ایک دھندلی سی کسی یاد کی لَو کتنی یادوں میں دمکنے لگی ہے کوٸی صحرا مرے اندر ہے رواں ریت آنکھوں سے ٹپکنے لگی ہے اب ترا ساتھ ضروری ہے مجھے زندگی ہاتھ جھٹکنے لگی ہے کون اطہر…

Read More

فیصل ہاشمی

وہ آنکھ جس کے لیے میں اُداس رہتا ہوں بھری ہوئی ہے کسی اور ہی نظارے سے

Read More

شاہد ماکلی … مرے سُکوت سے ٹکراتی تھی ہنسی اس کی

مرے سُکوت سے ٹکراتی تھی ہنسی اس کی زیادہ دن نہ چلی دوستی مری اس کی وہ منہدم ہوا اپنی کشش کے زیرِ اثر اور ایک نقطے میں جِھلمل سمٹ گئی اس کی میں ایک منظرِ گم گشتہ کی تلاش میں تھا اُمید آگے سے آگے لیے پھری اس کی فسردہ یوں بھی نہیں ہوں مَیں دل کے بجھنے پر تم آؤ گے تو چمک لوٹ آۓ گی اس کی نہ صرف یہ کہ چھٹی حِس یقیں دلاتی ہے گواہی دیتے ہیں پانچوں حواس بھی اس کی خبر دُھوئیں کی…

Read More