مجید امجد کی نظم نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجید امجد کا شعری اطلس دھرتی کے تار و پود سے تیار ہوا ہے جس کی ملائمت اَور سوندھے پن نے ہر طرف اپنا جادو جگا رکھا ہے۔ اُن کی لفظیات اَور اِمیجری میں ہمارے اِرد گرد پھیلے شہروں‘ کھیتوں کھلیانوں‘ جنگلوں‘ پہاڑوں‘ میدانوں‘ دریاؤں اَور سبزہ زاروں کی خوشبو کچھ اِس انداز سے رچی بسی ہے کہ تخلیقات کا مطالعہ کرتے وقت قاری کو اپنا پورا وجود مہکتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔ مجید امجد نے اگرچہ غزل بھی کہی مگر اُن کی اصل…
Read MoreTag: essays
بہت شور سنتے تھے! ۔۔۔ نوید صادق
میرا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔ بہت شور سنتے تھے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم صاحب نے ایک روز قبل بیان دیاتھا کہ وہ کورونا وائرس سے پھیلی وبا سے نمٹنے کے لیے روڈ میپ دیں گے۔ بہت انتظار تھا کہ دیکھیے کیا روڈ میپ ملتا ہے، کیا لائحہ عمل سامنے آتا ہے۔ سارا گھر ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھا تھا۔ نو بج کر پندرہ منٹ ۔۔۔ وزیراعظم ۔۔۔مضطرب عوام ۔۔۔ اور پھر وہ وقت آ ہی گیا۔وہی باتیں، جو پچھلے خطبات ۔۔۔ ایک بات یوں ہی دل میں آ ئی کہ ہمارے ہاں جو رواج…
Read Moreتناظر : ایک ماحولیاتی تنقیدی تجزیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ الیاس بابر اعوا ن
تناظر : ایک ماحولیاتی تنقیدی تجزیہ (An Ecocritical Analysis) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ ماحولیاتی تنقیدی تناظر ادب اور طبیعیاتی ماحول کے مابین تعلق کے مطالعے کا نام ہے:شیرل گلاٹ فلٹی(۱ (ماحولیاتی تنقیدی تھیری یا گرین سٹڈیز دونوں دراصل ایک ہی ہیں۔امریکہ میں اس نظریے کا آغاز ۸۰ کی دہائی اوربرطانیہ میں ۹۰ کی دہائی میں ہُوا۔امریکہ میں اس کی داغ بیل شیرل گلاٹ فلٹی نے ڈالی جس نے ۱۹۹۶ء میں The Ecocriticism Reader: Landmarks in Literary Ecology کے نام سے ایکو کرٹی سزم پر مشتمل مضامین…
Read More