چل گیا اُس نگاہ کا جادو کہہ گئے دل کی بات، کیا کہیے
Read MoreTag: Khan
مولانا حامد علی خاں ۔۔۔ آشفتہ بیانی
میاں داد خاں سیاح
جی بھر کے دوستوں سے گلے بھی نہ مل سکا کیا جلد قافلے نے کیا ایک بار کوچ
Read Moreڈاکٹر اشفاق ناصر ۔۔۔ عکس کو پُھول بنانے میں گزر جاتی ہے
عکس کو پُھول بنانے میں گزر جاتی ہے زندگی آئنہ خانے میں گزر جاتی ہے شام ہوتی ہے تو لگتا ہے کوئی رُوٹھ گیا اور شب اُس کو منانے میں گزر جاتی ہے ہر محبّت کے لیے دِل میں الگ خانہ ہے ہر محبت اُسی خانے میں گزر جاتی ہے زندگی بوجھ بتاتا تھا، بچھڑنے والا یہ تو بس ایک بہانے میں گزر جاتی ہے جو گھڑی رکھتے ہیں اِظہارِ محبّت کے لیے وہ گھڑی بات بنانے میں گزر جاتی ہے تو بتا، آنکھ نیا خواب کہاں سے دیکھے روز…
Read Moreنواب مصطفٰی خان شیفتہ
پانی وضو کو لائو، رُخِ شمع زرد ہے مینا اٹھائو وقت اب آیا نماز کا
Read Moreمیاں داد خاں سیاح
قیس جنگل میں اکیلا ہے، مجھے جانے دو خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
Read Moreخوشحال خان خٹک ۔۔۔ آئی جو میرے کان میں پازیب کی صدا
آئی جو میرے کان میں پازیب کی صدا گھبرا کے میری جاگ کھلی، اُٹھ کھڑا ہوا یہ حور ہے، پری ہے کہ انساں ہے، کیا ہے یہ؟ پہروں میں اپنے دل میں یہی سوچتا رہا کالی بھنویں کمانیں تھیں اور پلکیں تیر تھیں موتی کی طرح دانت تھے، ہونٹوں میں قند تھا اے بے بصر! نگاہ اٹھا کر نظارہ کر اُس نے عجب اَدا سے مجھے دیکھ کر کہا تو جانتا نہیں ہے مَیں وہ مہ جبین ہوں پیدا جواب جس کا زمانہ نہ کر سکا طالب ہیں میرے بوسہء…
Read Moreغالب ۔۔۔ نہ بھولا اضطرابِ دم شماری، انتظار اپنا
نہ بھولا اضطرابِ دم شماری، انتظار اپنا کہ آخر شیشہء ساعت کے کام آیا غبار اپنا زبس آتش نے فصلِ رنگ میں رنگِ دگر پایا چراغِ گُل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا اسیرِ بے زباں ہوں، کاشکے! صیادِ بے پروا بہ دامِ جوہرِ آئینہ، ہو جاوے شکار اپنا مگر ہو مانعِ دامن کشی، ذوقِ خود آرائی ہوا ہے نقش بندِ آئینہ، سنگِ مزار اپنا دریغ! اے ناتوانی! ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے طلسمِ رنگ میں باندھا تھا عہدِ اُستوار اپنا اگر آسودگی ہے مدعائے رنجِ بے تابی…
Read Moreمژدم خان ۔۔۔۔۔ کوئی زمین نہیں مانگتا خلا کے عوض
کوئی زمین نہیں مانگتا خلا کے عوض خسارا کون کرے سانس کا ہوا کے عوض ہمارا دیکھنا احسان بھی ہے خرچہ بھی نظر ملی ہے ہمیں آنکھ میں جگہ کے عوض میں اچھا آدمی بھی بن گیا ہوں شاعر بھی درست، واہ! ارے خوب تر بجا کے عوض ہمارا ڈر بھی کرائے کا ہے تمھاری طرح ڈرانا پڑتا ہے بچوں کو بھی بلا کے عوض تمھارے جیسے کسی اور پر بھی مر جائیں اور اس کے جیسے پہ بھی ہجر کی دوا کے عوض کسی نے مرد کے پورے بدن…
Read Moreافضل خان ۔۔۔۔۔۔ جو یہ کہتے ہیں کوئی پیشِ نظر ہے ہی نہیں
جو یہ کہتے ہیں کوئی پیشِ نظر ہے ہی نہیں کون سی ذات کے منکر ہیں اگر ہے ہی نہیں پھر جو اس شہر میں آنا ہو تو ملنا مجھ سے گھر کا آسان پتہ یہ ہے کہ گھر ہے ہی نہیں بے ارادہ ہی ترے پاس چلا آیا ہوں کام کچھ ہو تو کہوں تجھ سے،مگر ہے ہی نہیں اس لیے ہم کو نہیں خواہشِ حوران ِبہشت ایک چہرہ جو اِدھر ہے وہ اُدھر ہے ہی نہیں لفظ سے لفظ مجھے جوڑنا پڑتا ہے میاں میری قسمت میں کوئی…
Read More