نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی

وردِ درود پاک نے ایسا کمال کر دیا فکر و دل و نگاہ کو شاخِ نہال کر دیا لہجہ مرے رسول کا معجزۂ مقال تھا جس نے ہر ایک تند خو شیریں مقال کر دیا عزتیں بخش دیں تمام کس نے صہیبِ روم کو کس نے رخِ بلال کو رشکِ جمال کر دیا نعتِ نبی سے فکر میں ایسے گلاب کھل اٹھے حرف و خیال و صوت کو خوشبو مثال کر دیا دونوں جہاں کی دولتیں اس پہ نثار ہو گئیں جس نے فدا حضور پر مال و منال کر…

Read More

سجاد حسین ساجد ۔۔۔ وجودِ ذات میں روشن جہان کیسے لگے

وجودِ ذات میں روشن جہان کیسے لگے مکاں میں رہتے ہوے لا مکان کیسے لگے سجا کے آنکھ میں لاشے حسین خوابوں کے وفا کے لٹتے ہوے کاروان کیسے لگے میں ممکنات سے لمحے چرا کے لایا ہوں جو درد تونے کیے مجھ کو دان، کیسے لگے لطیف وقت تھا جو تیرے ساتھ بیت گیا جو ٹوٹے ہجرکے پھر آسمان، کیسے لگے تجھے کہا تھا: محبت فریب دیتی ہے سجائے عشق کے دل پر نشان، کیسے لگے ہوا کے زور سے گر تو گئے درخت‘ مگر پرندے پھرتے ہوے بے…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے

دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے مگر فطرت کہاں سب نقش لوحوں پر بناتی ہے پَروں میں مضطرب کن آسمانوں کی اڑانیں ہیں تمنا کس بہشتِ شوق کے منظر بناتی ہے جہانِ دل میں کیا کیا اشتیاق آباد ہیں دیکھیں نگاہِ لطف اُس کی اب کہاں محشر بناتی ہے یہاں خوشبو کی صورت روز و شب کی دھڑکنوں میں جی یہ دنیا ریت کرنے کے لئے پتھر بناتی ہے فرازِ وقت سے اُس کو صدا دینے تو دے عالی ہوا پھر دیکھ دیوارو ں میں کتنے در…

Read More

ڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ ہوئے چمن میں مرے ترجماں گلاب کے پھول

Read More

دوارکا داس شعلہ … دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کر

دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کر میکدے میں خدا کی بات نہ کر میں تو بے مہریوں کا عادی ہوں مجھ سے مہر و وفا کی بات نہ کر شوقِ بے مدعا کا مارا ہوں شوقِ بے مدعا کی بات نہ کر وہ تو مدت ہوئی کہ ٹوٹ گیا میرے دستِ دعا کی بات نہ کر جو نہیں اختیار میں میرے اس بتِ بے وفا کی بات نہ کر عشق کی انتہا کو دیکھ ذرا عشق کی ابتدا کی بات نہ کر کیا ملا فکر کی رسائی سے…

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آستہ

کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آستہ ہوئی سارے زمانے کی خبر آہستہ آہستہ ہمیشہ کروٹیں لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے زمیں محور سے ہٹتی ہے مگر آہستہ آہستہ کسی آہٹ سے کب کوئی مکاں مسمار ہوتا ہے چٹخ کر ٹوٹتے ہیں بام و در آہستہ آہستہ بلندی کی طرف اُن کو ہوائیں لے کے جاتی ہیں بناتے ہیں پرندے رہگزر آہستہ آہستہ ہوا تبدیلیوں کی چل پڑی موسم بدلنے سے ملیں گے اب نئے شام و سحر آہستہ آہستہ خود اپنی ذات کے بارے میں بھی کب…

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ رنگوں کا اک جہاں مرے اندر نہیں کھلا

رنگوں کا اک جہاں مرے اندر نہیں کھلا خوشبو کے باوجود گُلِ تر نہیں کھلا لہروں کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا میں تشنہ لبی میں ، مجھ پہ سمندر نہیں کھلا اک خواب تھا ، میں جس کو نہ تعبیر دے سکا ذہنوں پہ منکشف تھا ، زباں پر نہیں کھلا میں جس پہ دستکوں کے نشاں چھوڑ کر گیا حیراں ہوں کائنات کا وہ در نہیں کھلا میں اُس کی جستجو میں رہا ہوں تمام عمر یہ اور بات مجھ پہ ستم گر نہیں کھلا

Read More

جمیل یوسف ۔۔۔ رافی

رافی ۔۔۔۔۔ برگِ گُل سے بنائی مورت ہو ہائے تم کتنی خوبصورت ہو میرے احساس کی تجلی ہو میرے وجدان کی بشارت ہو نبضِ ہستی کو جو رواں رکھے تم مرے خوں میں وہ حرارت ہو میں جسے آج تک سمجھ نہ سکا تم محبت کی وہ بجھارت ہو میرے فکر و خیال کی رفعت میرے جذبات کی طہارت ہو شعر و عرفاں کی روشنی ہو تم کس قدر خوشنما عبارت ہو دھیان جس کا طواف کرتا ہے دل کی نگری میں وہ زیارت ہو دل کو پھر زندہ کر…

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ آئنہ دل اور ستارہ ٹوٹ کر

آئنہ دل اور ستارہ ٹوٹ کر جڑ نہیں سکتا دوبارہ ٹوٹ کر آج بھی ہے آنکھ میں اُس کی خلش چبھ گیا تھا اک نظارہ ٹوٹ کر اُس کے قدموں میں بکھرنے کے لیے پھول کرتے ہیں اشارہ ٹوٹ کر زندگی کیا ہے بڑی آسانی سے کہہ گیا مجھ کو ستارہ ٹوٹ کر جا لگا چُپ چاپ دریا کے گلے ایک دن آخر کنارہ ٹوٹ کر تم کو ثابت دیکھ کر حیرت ہوئی جس جگہ پر ہے گزارہ ٹُوٹ کر ہاتھ کب آتا ہے راحت سرحدی تار سے گیسی غبارہ…

Read More