انصر حسن ۔۔۔ مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے

مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے کوئی میری زندگی ہے کوئی میری جان ہے کس لئے کوئی نگارش میں زمانے کی پڑھوں بچپنے سے پاس میرے میر کا دیوان ہے جسم کے زندان سے آزاد کوئی ہو گیا یار مسجد میں کسی کی موت کا اعلان ہے رہ رہا ہوں ان دنوں میں ایک ریگستان میں شہر ہے برباد بستی بھی مری ویران ہے دل یہ کہتا ہے کہ آئیں گے مسافر لوٹ کر دل یہ کہتا ہے کہ ملنے کا ابھی امکان ہے جو ترا…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ بوتے ہیں خواب میں دن، اوِر رات کاٹتے ہیں

بوتے ہیں خواب میں دن، اوِر رات کاٹتے ہیں ہم اپنی جاں پہ کیا کیا آفات کاٹتے ہیں لطفِ سخن ہی اُن سے باقی نہیں رہا اَب ہم بات جوڑتے ہیں وہ بات کاٹتے ہیں کیا پوچھتے ہو ہم سے کیا لکھ رہے ہیں ، لیکن اِتنی خبر ہے جس پر یاں ہات کاٹتے ہیں اے آسماں تجھے کچھ معلوم ہے حقیقت ہم کس طرح سے اپنے اوقات کاٹتے ہیں تھم جائے گا بالآخر یہ زورِ گریہ خاورؔ چلیے اِک اور غم کی برسات کاٹتے ہیں

Read More

قابل اجمیری

خود اہلِ کشتی کی سازشیں ہیں کہ نا خدا کی نوازشیں ہیں وہیں تلاطم کو ہوش آیا جہاں کناروں نے ساتھ چھوڑا

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے

ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیرِ کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ  گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا ! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت  سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں…

Read More

تابِ سخن تمام ۔۔۔ خالد احمد

تابِ سخن تمام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کس رُخ کروں قصیدۂ شاہِ زَمن تمام تشیب  ہی میں ہو گئی تابِ سخن تمام اے کاروانِ خاک و خل و خار و خس! سنبھلمحمل کے ساتھ ساتھ ہیں گُل پیرہن تمام گُل کِھل رہے ہیں کھلتے سُروں کی اٹھان سےنقشِ قدم ہیں یاسمن و نسترن تمام آئینۂ نگاہ میں اُترا وہ آئنہ آئینہ لاخ ہو گئے رُوئینہ تن تمام ہر لفظ چاہتا ہے کہ اُس ذکر میں ڈھلے دَر پر ہیں دست بستہ بتانِ سخن تمام مدّاح کارِ مدح سے غافل نہیں ہوئے تارِ نفس کے ساتھ…

Read More

افتخار شاہد ۔۔۔ دو غزلیں

چراغ چپ ہیں، اندھیرے کا راج ہے  شاہد  ہوائے شام کا اپنا مزاج ہے شاہد بڑھا رہے ہو مری سمت ہاتھ تم لیکن جو درمیان کھڑا ہے سماج ہے شاہد  ہمارے شہر میں پھولوں کا نام رکھتے ہیں ہمارے شہر کا الٹا رواج ہے شاہد ہمارے سر سے بلاؤں کو کون ٹالے گا ہمارے سر پہ محبت کا تاج ہے شاہد  کبھی کسی کے نوالے نہیں گنے ہم نے ہمارے  پاس تو اپنا اناج ہے شاہد جمالِ یار سے سارا چمن مہکتا ہے جمالِ یار کا سارا خراج ہے شاہد …

Read More

حکیم خان حکیم ۔۔۔ اے دل!

اے دل! ۔۔۔۔۔۔ نظر نظر سے ملا عشق میں فنا ہو جا مسافرانِ محبت کا رہنما ہو جا سکوتِ شام و سحر سے کلام کرتے ہوئے ندائے کن کی حقیقت سے آشنا ہو جا متاعِ صبر سے دل میں وہ درد پیدا کر گلوں کا حسن چمن کے لیے صبا ہو جا نظامِ جبر کے آگے جھکا نہ سر اپنا صدائے حق و صداقت کا ہم نوا ہو جا نکل جہاں کے اندھیرے سے روشنی میں آ کسی نحیف سے دل کی کوئی دعا ہو جا ترا غرور نہ کر…

Read More