ظفر اقبال

اس شوخ پہ مرنا تو بڑی بات ہے لیکن کہتے ہیں کہ اس عمر میں اچھا نہیں لگتا

Read More

ظفر اقبال

اے ظفر سچ پوچھئے تو کامیابی عشق میں سربسر جتنی بھی ہے ناکام رہ جانے میں ہے

Read More

ظفر اقبال

خیرات کا مجھے کچھ لالچ نہیں ظفرؔ میں اس گلی میں صرف صدا کرنے آیاہوں

Read More

ظفر اقبال

کچھ نہ کچھ آثار رہ جاتے ہیں اُس کے جابجا وہ یہاں سے جائے بھی تواِس قدر جاتا نہیں

Read More

ظفر اقبال

پیاس رکھتی ہے تازہ دم مجھ کو دھوپ میں اور لہلہاتا ہوں

Read More

ظفر اکبر آبادی ۔۔۔ کبھی کبھی تو اس انداز سے ملا کوئی

کبھی کبھی تو اس انداز سے ملا کوئی مجھے بھی مجھ سے بہت دور لے گیا کوئی وہاں کسی کو مخاطب کرے تو کیا کوئیجہاں نہ ہو کسی آواز پر صدا کوئی گزر رہا ہوں اب ان منزلوں سے مَیں کہ جہاںترے پیام بھی لاتی نہیں صبا کوئی تو اپنی خود غرضی سے بھی کاش ہو آگاہ دکھائے کاش تجھے تیرا آئنہ کوئی سبک خرام، سبک رو تھا وقت کچھ اتنا کہ ساتھ چند قدم بھی نہ چل سکا کوئی نوازتا رہا زخموں سے تو کسی کو، مگر جواب میں…

Read More

صابر ظفر ۔۔۔ اک عمر جو ہم نے خون تھوکا

اک عمر جو ہم نے خون تھوکا دل نرم نہیں ہوا کسو کا جب موت کی منتظر ہوں سانسیں دورانیہ ہے وہ کرفیو کا بارود ہے اس قدر سرِ خاک امکان ہی چھن گیا نمو کا بہتر ہے کہ بے طلب ہی جی لو یہ عہد نہیں ہے آرزو کا ہستی ہے ہماری، یاد جس کی وہ ہم کو بھلا چکا کبھو کا حد سے جو گزر رہے ہیں ہم تم حاصل ہے کوئی تو جستجو کا اب تک ہے وہی زبان بندی عالم ہے ہنوز کوئی ہُو کا ڈوبے…

Read More

ظفر گورکھپوری ۔۔۔۔ غلط آغاز کا انجام، پیارے! سوچ لینا

غلط آغاز کا انجام، پیارے! سوچ لینا کھڑے ہو تم تباہی کےکنارے، سوچ لینا جو رُت بدلی تو اُڑ جائیں گے یہ پلکوں سے اک دن پرندوں کی طرح ہیں خواب سارے، سوچ لینا کہیں چکرا نہ جائو تم، یہ ہے تہذیبِ دریا کہ اک رُخ پہ نہیں بہتے ہیں دھارے، سوچ لینا کھلونے بیچنے والوں کی صورت میں ہیں ڈاکو اُٹھا لے جائیں گے بچے تمھارے، سوچ لینا گھنے شہروں سے اکتا کر بنانا چاہتے ہو نیا سا گھر سمندر کے کنارے، سوچ لینا گزر جائے گی اک دنیا…

Read More

ظفر گورکھپوری ۔۔۔۔ دَر سے، دہلیز سے ، دیوار سے پہلے کیا تھا

دَر سے، دہلیز سے ، دیوار سے پہلے کیا تھا غار پہلے تھا مگر غار سے پہلے کیا تھا کل ہمیں اور تمھیں یاد بھی شاید نہ رہے ان مقامات پہ بازار سے پہلے کیا تھا نہ کوئی خوف تھا آندھی کا، نہ برسات کا ڈر گھر فصیلِ در و دیوار سے پہلے کیا تھا نہ یہ رنگوں کی زمیں تھی نہ سُروں کا آکاش تیرے اور میرے سروکار سے پہلے کیا تھا کل نہ ہو گا کوئی بچوں کو بتانے والا یہ جو دیوار ہے، دیوار سے پہلے کیا…

Read More

قرض مٹی کا ۔۔۔۔۔ ظفر گورکھپوری

قرض مٹی کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرے ہاتھوں میں ، بیٹے! کچھ نہیں تھوڑی سی مٹی ہے زمیں کہتی ہے یہ مٹی تمھارے جسم پر رکھ دوں صلہ دے دوں تمھیں چوبیس برسوں کی محبت کا چُکا  دوں سب تمھارے قرض اِس تھوڑی سی مٹی سے کبھی جب لڑکھڑایا مَیں مری لاٹھی بنے تم گزرتی عمر کے لمحے، جب اپنی گرد لے کر مری پلکوں پہ لپکے ۔۔۔ اور یہ چاہا لَویں بینائیوں کی توڑ لیں ساری چمک اٹھے مری آنکھوں میں روشن حرف بن کر تم مری بدنامیوں ناکامیوں رُسوائیوں کا…

Read More