کاغذی پیرہن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے موسم بدل رہا ہے اُٹھوں اور اب اُٹھ کے کیوں نہ اس گھر کے سارے دروازے کھول ہی دوں مرے دریچوں پہ جانے کب سے دبیز پردے لٹک رہے ہیں میں کیوں نہ ان کو الگ ہی کر دوں مرا یہ تاریک و سرد کمرہ بہت دنوں سے سنہری دھوپ اور نئی ہوا کو ترس رہا ہے جگہ جگہ جیسے اس کی دیوار کی سپیدی اکھڑ گئی ہے ہر ایک کونے میں کتنے جالے لگے ہوئے ہیں مرے عزیزوں،…
Read MoreMonth: 2020 فروری
غالب
اَسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے نہاں ہیں نالہء ناقوس میں، درپردہ، ’’یا رب‘‘ ہا
Read Moreسہرا ۔۔۔۔ غالب
سہرا ۔۔۔۔ چرخ تک دُھوم ہے، کس دُھوم سے آیا سہرا چاند کا دائرہ لے، زہرہ نے گایا سہرا جسے کہتے ہیں خوشی، اُس نے بلائیں لے کر کبھی چوما، کبھی آنکھوں سے لگایا سہرا رشک سے لڑتی ہیں، آپس میں اُلجھ کر لڑیاں باندھنے کو جو ترے سر پہ، اُٹھایا سہرا صاف آتی ہیں نظر آبِ گہر کی لہریں جنبشِ بادِ سحر نے جو ہلایا سہرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیوانِ غالب کامل مرتبہ: کالی داس گپتا رضا
Read Moreغالب ۔۔۔ نہ بھولا اضطرابِ دم شماری، انتظار اپنا
نہ بھولا اضطرابِ دم شماری، انتظار اپنا کہ آخر شیشہء ساعت کے کام آیا غبار اپنا زبس آتش نے فصلِ رنگ میں رنگِ دگر پایا چراغِ گُل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا اسیرِ بے زباں ہوں، کاشکے! صیادِ بے پروا بہ دامِ جوہرِ آئینہ، ہو جاوے شکار اپنا مگر ہو مانعِ دامن کشی، ذوقِ خود آرائی ہوا ہے نقش بندِ آئینہ، سنگِ مزار اپنا دریغ! اے ناتوانی! ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے طلسمِ رنگ میں باندھا تھا عہدِ اُستوار اپنا اگر آسودگی ہے مدعائے رنجِ بے تابی…
Read Moreسبب ۔۔۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض
سبب ۔۔۔۔ آ گئی شامِ غم آ گئی پھر بتانے سے کیا فائدہ ہو گیا دل کا خوں ہو گیا سچ ہے یہ پھر فسانہ بنانے سے کیا فائدہ کھو گئے ہم سفر سب گئے اپنے گھر راہ چلتوں کو اَب راہ میں روک کر یہ کہانی سنانے سے کیا فائدہ مر گئی کوئی شے دفن کر کے اُسے چل پڑی راہ پر صرف میری تھی یہ جیسے ہو یہ نہایت اہم…
Read Moreذوالفقار عادل
میز پہ رکھ دیا ہے سر پھول کہاں سے لائیے
Read Moreارشد عباس ذکی …… انہی کو لوگ یہاں محترم سمجھتے ہیں
انہی کو لوگ یہاں محترم سمجھتے ہیں جو بولتے تو زیادہ ہیں، کم سمجھتے ہیں ہماری بات کوئی بھی نہیں سمجھتا کہ ہم زمیں کو آنکھ، سمندر کو نم سمجھتے ہیں ہمارے حال پہ ہے ان دنوں خدا کا کرم اور آپ لوگ خدا کا کرم سمجھتے ہیں گلے لگو تو خبر ہو تمہارے دل میں ہے کیا کہ ہم اشارے نہیں بس ردھم سمجھتے ہیں زمانہ اس لئے ہم کو مٹانا چاہتا ہے کہ ہم حقیقت ِ دیر و حرم سمجھتے ہیں ڈرے ہوئے ہیں کہ کوئی ہمیں نکال…
Read Moreظفر گورکھپوری ۔۔۔۔ دَر سے، دہلیز سے ، دیوار سے پہلے کیا تھا
دَر سے، دہلیز سے ، دیوار سے پہلے کیا تھا غار پہلے تھا مگر غار سے پہلے کیا تھا کل ہمیں اور تمھیں یاد بھی شاید نہ رہے ان مقامات پہ بازار سے پہلے کیا تھا نہ کوئی خوف تھا آندھی کا، نہ برسات کا ڈر گھر فصیلِ در و دیوار سے پہلے کیا تھا نہ یہ رنگوں کی زمیں تھی نہ سُروں کا آکاش تیرے اور میرے سروکار سے پہلے کیا تھا کل نہ ہو گا کوئی بچوں کو بتانے والا یہ جو دیوار ہے، دیوار سے پہلے کیا…
Read Moreقرض مٹی کا ۔۔۔۔۔ ظفر گورکھپوری
قرض مٹی کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرے ہاتھوں میں ، بیٹے! کچھ نہیں تھوڑی سی مٹی ہے زمیں کہتی ہے یہ مٹی تمھارے جسم پر رکھ دوں صلہ دے دوں تمھیں چوبیس برسوں کی محبت کا چُکا دوں سب تمھارے قرض اِس تھوڑی سی مٹی سے کبھی جب لڑکھڑایا مَیں مری لاٹھی بنے تم گزرتی عمر کے لمحے، جب اپنی گرد لے کر مری پلکوں پہ لپکے ۔۔۔ اور یہ چاہا لَویں بینائیوں کی توڑ لیں ساری چمک اٹھے مری آنکھوں میں روشن حرف بن کر تم مری بدنامیوں ناکامیوں رُسوائیوں کا…
Read Moreظفر گورکھپوری
یہاں تو خیر ویرانی بہت ہے وہاں کیا ہے جہاں پانی بہت ہے
Read More