قمر رضا شہزاد

اور پھر اس نے خامشی کے ساتھ ایک آواز کو نشانہ کیا

Read More

اشرف سلیم

اب آئنے کے برابر ٹھہر گیا ہے سلیم غزال شہر میں وہ خود نمائی چاہتا ہے

Read More

جانثار اختر

اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں

Read More

میر غلام بھیک نیرنگ

ابھی تشخیصِ مرض میں ہے  طبیبوں کو کلام جاں ادھر درپئے رخصت ہے، خدا خیر کرے

Read More

نواب مصطفٰی خان شیفتہ

ابھی، اے شیفتہ! واقف نہیں تم کہ باتیں عشق میں ہوتی ہیں کیا کیا

Read More

ظہیر کاشمیری

اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا  

Read More

جون ایلیا

اے شجرِ حیاتِ شوق! ایسی خزاں رسیدگی پوششِ برگ و گُل تو کیا، جسم پہ چھال بھی نہیں

Read More