بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read MoreCategory: ج
ڈاکٹر فخر عباس
جس کے ساتھ بھی بانٹوں میری مرضی ہے خوشیاں میری، غم بھی میرے ذاتی ہیں
Read Moreامجد اسلام امجد
جب بھی اس شخص کو دیکھا جائے کچھ کہا جائے نہ سوچا جائے
Read Moreمحسن اسرار
جل جانے سے ڈرتے ہو تم نے جل کر دیکھا بھی
Read Moreسیف عرفان
جس طرح آپ آئے سنا کر چلے گئے اتنا بھی مختصر مرا قصہ نہیں ہے دوست
Read Moreامداد امام اثر
جب خدا کو جہاں بنانا تھا تجھ کو ایسا نہیں بنانا تھا
Read Moreقابل اجمیری
جمالِ دوست کو پیہم نکھرنا ہے، سنورنا ہے محبت نے اٹھایا ہے ابھی پردہ کہاں اپنا
Read Moreتعشق لکھنوی
جس طرف بیٹھتے تھے وصل میں آپ اسی پہلو میں درد رہتا ہے
Read Moreغلام ہمدانی مصحفی
جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھے ہم نے بھی اپنے دل میں کیا کیا خیال باندھے
Read Moreمیرزا محمد رفیع سودا
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے تب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے
Read More