لبوں پہ آج سرِ بزم آ گئی تھی بات مگر وہ تیری نگاہوں کی التجا کہ ’’نہیں‘‘
Read MoreCategory: ل
قمر رضا شہزاد
لہو سے گوندھنے والے کو بھی کہاں معلوم یہ خاک کون سی صورت میں ڈھلنے والی ہے
Read Moreجلیل عالی
لکھتے نہیں ہیں اپنی ہواؤں میں خط اُسے حالانکہ ان کے پاس خدا کا پتہ بھی ہے
Read Moreقابل اجمیری
لوگ لے آتے ہیں کعبہ سے ہزاروں تحفے ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے
Read Moreآرزو لکھنوی
لطفِ بہار کچھ نہیں گو ہے وہی بہار دل کیا اُجڑ گیا کہ زمانہ اُجڑ گیا
Read Moreاحمد عقیل روبی
لوگ مائل بہ کرم ہیں پھر سے جانے اب کون سی افتاد پڑے
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
لچک سی جیسے لچکتی ہوئی صدا میں پڑے تِرا خرام جو دیکھا تو بَل ہوا میں پڑے
Read Moreعلی اصغر عباس
لوگ پیڑوں کی طرح مجبور تھے، جھکتے گئے مَیں پرندہ تھا، ہَوا کا سامنا کرتا رہا
Read Moreسلیم احمد
لوگ کہتے ہیں ہوس کو بھی محبت، جیسے نام پڑ جائے مجاہد کسی بلوائی کا
Read Moreعابد سیال
لکھنا ہے میں نے لہرتے پانی پہ اُس کا نام اُس نے مری شبیہ بنانی ہوا میں ہے
Read More