کیا کیا یہاں تصویر کے پہلو میں پڑا ہے تاجر! ترا ایمان ترا زو میں پڑا ہے اِک خوف، مِری آنکھ میں رہتا ہے مسلسل اِک خواب، ازل سے مِرے آنسو میں پڑا ہے اِک عمر مسافت میں گزاری ہے، مرے یار! اِک شوق سفر دشت کے آہو میں پڑا ہے یہ جاں کہ رہی صورت یاھو میں کہیں گم یہ دل کہ ابھی حلقۂ باھو میں پڑا ہے جو شخص بھلانے سے بھی بھولا نہیں مجھ کو تعویذ کی صورت مِرے بازو میں پڑا ہے ہو گا وہ کبھی…
Read MoreTag: غزلیں
عرفان ستار
بتا نہ پائیں تو خود تم سمجھ ہی جاؤ کہ ہم بلا جواز تو بے ماجرا نہیں ہوئے ہیں
Read Moreڈاکٹر غافر شہزاد
ہم نے ہجرت کی تو ہے، دل سے مگر مانی نہیں گائوں کی خوشبو ہمارے جسم سے جانی نہیں
Read Moreمعاصر غزل کی فکریات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عابد سیال
معاصر غزل کی فکریات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئندہ سطور میں کی جانے والی بات کا فوری تناظر اگرچہ معاصر غزل ہے لیکن عمومی طور پر یہ باتیں کسی بھی زمانے کی غزل بلکہ شاعری اور اس سے بھی بڑھ کر پورے ادب کے بارے میں کی جا سکتی ہیں۔ بات موضوعات سے متعلق ہے۔ سادہ لفظوں میں اور اجمالی طور پر میرا مؤقف یہ ہے کہ کسی شاعری کی اہمیت، جواز اور بقا اس میں ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ شخصی بمعنی ’پرسنل‘ ہو۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ…
Read Moreمعین ناصر ۔۔۔۔۔۔ وہ سراپا رہا سہا اُس کا
وہ سراپا رہا سہا اُس کا منتظر ہو گا آئنہ اُس کا عشق اُس نے کبھی کیا ہو گا رکھ رکھائو بتا گیا اُس کا اُس کا ملنا محال تھا،یہ تو خوشبوئوں نے دیا پتہ اُس کا وہ کہانی عجب کہانی تھی تن بدن سٹپٹا گیا اُس کا اور پھر سوچنے لگا ناصر کون در کھٹکھٹا گیا اُس کا
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
حسن کا فرض ہوا کرتی ہے آرائشِ حسن صبح کیا کرتی ہے ہر روز سنورنے کے سوا
Read Moreابو طالب انیم ۔۔۔۔۔۔۔ رخِ سیاہ سنوارا نہیں گیا مجھ سے
رخِ سیاہ سنوارا نہیں گیا مجھ سے چمکتے دن بھی ستارا نہیں گیا مجھ سے دعا کو ہاتھ بھی تھے اور فلک قریب بھی تھا مَیں رو دیا کہ پکارا نہیں گیا مجھ سے مَیں زندگی سے فقط ایک دن ہی چاہتا تھا وہ ایک دن بھی گذارا نہیں گیا مجھ سے یہ بات طے تھی مجھے صرف اس سے ہارنا تھا وہ کھیل اس لیے ہارا نہیں گیا مجھ سے کنویں میں چھوڑ تو آیا تھا یوسفِ دل کو پر اس کے بعد ابھارا نہیں گیا مجھ سے مَیں…
Read Moreناصر کاظمی
تمام عمر یونہی ہم نے دکھ اٹھایا ہے کہ زیادہ خرچ کیا اور کم کمایا ہے
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔۔۔ عمر بھر درد کا جو بارِ گراں ڈالتے ہیں
عمر بھر درد کا جو بارِ گراں ڈالتے ہیں بعد مرنے کے بہت آہ و فغاں ڈالتے ہیں کون اُٹھا ، کبھی قسمت پہ بھروسہ کر کے مردہ تن میں یہ ارادے ہیں جو جاں ڈالتے ہیں ضعف بازو ہی کا ہوتا ہے جو لڑتے لڑتے جنگ جُو تیغ و تبر، تیر و کماں ڈالتے ہیں تیری جنت میں جو رتھ فاؤ نہیں ہے، مولا ! پاک روحوں کو فرشتے یہ کہاں ڈالتے ہیں کون نکلا ہے سرابوں سے تیقّن لے کر دشت سوچوں میں مسافر کی گماں ڈالتے ہیں…
Read Moreقلندر بخش جرات
تھا یہ جرأت ہی اُس کے کوچہ میں وہ جو اک خاک کا سا ڈھیر ہے کچھ
Read More