اُس کی آنکھ بتا سکتی ہے ۔۔۔۔ سعید راجہ

اُس کی آنکھ بتا سکتی ہے ۔۔۔۔۔ سعید راجہ Download

Read More

محمد علوی

مَیں اپنے آپ سے ڈرنے لگا تھا گلی کا شور گھر میں آ گیا تھا  

Read More

ڈاکٹر شفیق آصف ۔۔۔۔۔ جیون کی تکمیل کے اندر

جیون کی تکمیل کے اندر ہم بھی ہیں تحویل کے اندر ہم اندر سے خالی کب ہیں سب کچھ ہے زنبیل کے اندر بات کی گرہیں کھول رہے ہیں کیا ہے اس تفصیل کے اندر بولتی مٹی کتنا ڈھونڈیں کیا کچھ ہے تمثیل کے اندر اس نقطے کو کب سمجھیں گے عزت ہے تذلیل کے اندر پانی چمک رہا ہے آصف شام ڈھلی ہے جھیل کے اندر

Read More

منیر سیفی

چین کی نیند سویا کرتا تھا خود سے جب رابطہ نہ تھا میرا

Read More

معین ناصر ۔۔۔۔۔۔۔ کب کسی کا خیال کرتے ہیں

کب کسی کا خیال کرتے ہیں رت جگے بھی کمال کرتے ہیں لفظ جب پیرہن گنوا بیٹھیں لوگ کیا کیا سوال کرتے ہیں زندگی نے سکھا دیا سب کچھ اب کوئی ہم ملال کرتے ہیں آنے والے، یہ جانے والے ۔۔۔ سب وقت کو پائمال کرتے ہیں یہ اداسی۔۔۔ چلو اٹھو، ناصر! کچھ روابط بحال کرتے ہیں

Read More

ساقی فاروقی

عجب کہ روز اندھیروں سے نور کاڑھتا ہوں فغاں کی رات ہوئی فاش، راز کوئی نہ تھا

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔۔۔۔ تمثیل میں یہ سین بھی لے آنا پڑا ہے

تمثیل میں یہ سین بھی لے آنا پڑا ہے پرچھائیں کو پرچھائیں سے مروانا پڑا ہے کم روشنی سے کام مرا چلتا نہیں تھا آخر مجھے دو کرنوں کو ٹکرانا پڑا ہے تنہائی کا چہرہ تو نہیں تھا کہ دِکھاتے تنہائی کا احساس ہی دِلوانا پڑا ہے نظّارگی نظموں میں سماتی ہی نہیں تھی بانہوں کی طرح سلسلہ پھیلانا پڑا ہے اَجرام تھے تفہیم کے رستے میں رکاوٹ تصویرِ فلک سے انھیں ہٹوانا پڑا ہے ذرّات کا برتاؤ بھی لہروں کی طرح تھا جھکّڑ کو بھنور دشت کا بتلانا پڑا…

Read More

مسافت ۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ غزل ۔۔۔۔۔ نوید صادق

مسافت ۔۔۔ نوید صادق. pdf DOWNLOAD

Read More

منیر سیفی

غزل کی نوکری میں مجھ کو سیفی بہت کم فائدہ، گھاٹا بہت تھا

Read More

مبشر سعید ۔۔۔۔۔۔ سرسری سی بات کا

سرسری سی بات کا کیا مزا ہے رات کا؟ دھل گیا ہے دھوپ سے جسم پات پات کا فقر نے عطا کیا علم شش جہات کا پڑ گیا ہے کان میں شور ممکنات کا زندگی کے ہاتھ سے سوچنا کیوں مات کا؟ موت نے مجھے دیا راستہ حیات کا غیب سے عطا ہُوا شعر مجھ کو نعت کا کوستا ہے خود کو آب آج تک فرات کا زندگی سے کم نہیں لمس تیرے ہات کا

Read More