آشفتہ چنگیزی ۔۔۔۔۔ گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے​

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے​ تمام دریا کسی روز ڈوب جائیں گے ​ دعائیں، لوریاں، مائوں کے پاس چھوڑ آئے​ بس ایک نیند بچی ہے، خرید لائیں گے ​ سفر تو پہلے بھی کتنے کیے، مگر اس بار​ یہ لگ رہا ہے کہ تجھ کو بھی بھول جائیں گے ​ الاؤ ٹھنڈے ہیں، لوگوں نے جاگنا چھوڑا​ کہانی ساتھ ہے لیکن کسے سنائیں گے ​ سنا ہے، آگے کہیں سمتیں بانٹی جاتی ہیں ​ تم اپنی راہ چنو، ساتھ چل نہ پائیں گے​ ہمارے نقش مٹانا…

Read More

یوسفِ ہندی قیدِ فرنگ میں (حالاتِ قیدِ غالب) ۔۔۔۔۔۔۔۔ محسن بن شبیر

یوسفِ ہندی قیدِ فرنگ میں حالاتِ قیدِ غالب از محسن بن شبیر DOWNLOAD

Read More

ساقی فاروقی

ثابت قدم عجیب ہیں، آنکھیں تری شبیہ سے خالی ہوئیں تو روح میں بھر کے اُمنگ آ گئے

Read More

فرحان کبیر ۔۔۔۔۔۔ دل کو پژمردہ و بیمار نہیں چاہتے ہم

دل کو پژمردہ و بیمار نہیں چاہتے ہم مختصر کہتے ہیں، بسیار نہیں چاہتے ہم کتنے دروازے کھلیں مسکنِ جاں تک آتے اور اس کو بھی ہَوادار نہیں چاہتے ہم! مُوند لیں کس طرح آنکھوں کو، سمندر میں ہیں اور جانا ابھی اُس پار نہیں چاہتے ہم بُت بنا لیتے ہیں، بارش کا، کبھی بادل کا اُس کی رحمت ہو نمودار، نہیں چاہتے ہم! گُونج اُٹھنا تو الگ بات ہے، فرحان، یہاں اپنے ہونے کا بھی اقرار نہیں چاہتے ہم

Read More

سید علی مطہر اشعر

دیوانے ہی وحشت سے منسوب نہیں ہیں ایسی باتیں ہم بھی اکثر کر دیتے ہیں

Read More

عبدالحمید عدم ۔۔۔۔ وہ جو اُس آنکھ کی کہانی ہے

وہ جو اُس آنکھ کی کہانی ہے لہر ہے، گیت ہے، جوانی ہے غم اگر دِل کو راس آجاۓ شادمانی ہی شادمانی ہے حادثہ ہے کہ تیری آنکھ کا بھی رنگ، اے دوست! آسمانی ہے ہاۓ تقریر اُن نگاہوں کی جن کا ٹھہراؤ بھی روانی ہے کیسا پرلطف ہے یہ ہنگامہ کیسی دلچسپ زندگانی ہے جو الم ہے وہ اتفاقی ہے جو خوشی ہے وہ ناگہانی ہے آؤ، پُھولوں کی آگ پی جاؤ دَورِ صہباۓ ارغوانی ہے دیکھنا زرد بیل کی جانب جیسے کوئی اُداس رانی ہے رنج سے عِشق…

Read More

محمد مختار علی ۔۔۔۔۔۔ دشت میں اشک فشانی کی نمائش نہیں کی

دشت میں اشک فشانی کی نمائش نہیں کی ریت پر بیٹھ کے پانی کی نمائش نہیں کی وقت ہر چیز کو مٹی میں ملا دیتا ہے اِس لیے ہم نے جوانی کی نمائش نہیں کی چاند کو گھر سے نکلنے میں جو تاخیر ہوئی رات نے رات کی رانی کی نمائش نہیں کی دَرد کے معجزے ہوتے ہیں لُغت سے آزاد میرؔ نے حسنِ معانی کی نمائش نہیں کی اِک غزل لکھ کے بہا دی ہے ندی میں مختارؔ پر طبیعت کی رَوانی کی نمائش نہیں کی

Read More

ڈاکٹر عابد سیال ۔۔۔۔۔۔ جو میسر ہے یہاں،اِتنا بھی اُس پار نہ ہو!

جو میسر ہے یہاں،اِتنا بھی اُس پار نہ ہو! ایسی جلدی میں اُدھر جانے کو تیار نہ ہو! دیکھ سوداگریِ دنیا کہ کچھ دیر کے بعد تُو طلب گارِ تماشا ہو تو بازار نہ ہو پیچ پڑتا ہے ابھی ریت میں اور پائوں میں جس کنارے پہ لگا ہوں، کہیں منجدھار نہ ہو سرخیِ صبح سے سہمائے گئے خواب اور اَب آنکھ بیدار نہ ہو، صبح نمودار نہ ہو یہ عجب لوگ ہیں، دیتے ہیں تو اتنی تکریم کچھ کو منظور نہ ہو، کچھ کو سزاوار نہ ہو یوں اتاریں…

Read More

قلندر بخش جرات

اُس کے آنے میں اب جو دیر ہے کچھ یہ بھی قسمت کا ہیر پھیر ہے کچھ

Read More

عرفان ستار ۔۔۔۔۔ ترے جمال سے ہم رُونما نہیں ہوئے ہیں

ترے جمال سے ہم رُونما نہیں ہوئے ہیں چمک رہے ہیں مگر آئنہ نہیں ہوئے ہیں دھڑک رہا ہے تو اک اسم کی ہے یہ برکت وگرنہ واقعے اِس دل میں کیا نہیں ہوئے ہیں بتا نہ پائیں تو خود تم سمجھ ہی جاؤ کہ ہم بلا جواز تو بے ماجرا نہیں ہوئے ہیں ترا کمال کہ آنکھوں میں کچھ، زبان پہ کچھ ہمیں تو معجزے ایسے عطا نہیں ہوئے ہیں یہ مت سمجھ کہ کوئی تجھ سے منحرف ہی نہیں ابھی ہم اہلِ جنوں لب کُشا نہیں ہوئے ہیں…

Read More