نفس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ اگر شراب نہیں، انتظارِ ساغر کھینچ
Read MoreTag: غزلیں
محمد مختار علی
دَرد کے معجزے ہوتے ہیں لُغت سے آزاد میرؔ نے حسنِ معانی کی نمائش نہیں کی
Read Moreاحمد فراز ۔۔۔۔۔۔ کل ہم نے بزمِ یار میں کیا کیا شراب پی
کل ہم نے بزمِ یار میں کیا کیا شراب پی صحرا کی تشنگی تھی سو دریا شراب پی اپنوں نے تج دیا ہے تو غیروں میں جا کے بیٹھ اے خانماں خراب! نہ تنہا شراب پی تو ہم سفر نہیں ہے تو کیا سیرِِ گلستاں تو ہم سبو نہیں ہے تو پھر کیا شراب پی اے دل گرفتۂ غمِ جاناں! سبو اٹھا اے کشتۂ جفائے زمانہ! شراب پی دو صورتیں ہیں دوستو دردِ فراق کی یا اس کے غم میں ٹوٹ کے رو یا شراب پی اک مہرباں بزرگ نے…
Read Moreغزل ۔۔۔ منجمد ہو گیا لہو دل کا ۔۔۔ سید آلِ احمد
منجمد ہو گیا لہو دل کا تیرے غم کا چراغ کیا جلتا وہ بھی دن تھے کہ اے سکونِ نظر! تو مری دسترس سے باہر تھا بجھ گئی پیاس آخرش اے دل! ہو گیا خشک آنکھ کا دریا تو مرا پیار مجھ کو لوٹا دے جانے والے! اُداسیاں نہ بڑھا پاسِ خاطر ہے شہر میں کس کو کون کرتا ہے اعترافِ وفا تیری خواہش، بھنور بھنور ساحل میری منزل، سکوت کا صحرا پوچھتی تھی خزاں بہار کا حال شاخ سے ٹوٹ کر گرا پتا کیسے ٹھہرے ہو سوچ میں احمدؔ…
Read Moreفضل گیلانی ۔۔۔۔۔ اس لیے بھی مجھے تجھ سے ملنے میں تاخیر ہے
اس لیے بھی مجھے تجھ سے ملنے میں تاخیر ہے خواب کی سمت جاتی سڑک زیرِ تعمیر ہے اتنے پھول اک جگہ دیکھ کر سب کا جی خوش ہوا پتیاں جھڑنے پر کوئی کوئی ہی دلگیر ہے ہنستی دنیا ملی آنکھ کھلتے ہی روتی ہوئی یہ مرا خواب تھا اور یہ اس کی تعبیر ہے جس زباں میں ہے اس کی سمجھ ہی نہیں آ رہی غار کے دور کے ایک انساں کی تحریر ہے رحم کھاتی ہوئی کتنی نظروں کا ہے سامنا میری حالت ہی شاید مرے غم کی…
Read Moreمنیر سیفی
طلسمِ رفتگاں ٹوٹا تو سیفی غمِ آئندگاں کے بیچ مَیں تھا
Read Moreسعید راجہ ۔۔۔۔ خرامِ وقت! میں اتنا تو کام کر سکتا
خرامِ وقت! میں اتنا تو کام کر سکتا مقامِ عشق پہ تھوڑا قیام کر سکتا مِرے قلم کی گرہ کھل نہیں سکی، ورنہ میں اپنے خواب زمانے میں عام کر سکتا مجھے جو ملتی فراغت تو شام سے پہلے میں روشنی کا کوئی انتظام کر سکتا جمالِ یار نہ ہوتا تو عین ممکن تھا میں اپنے ہونے کا بھی اہتمام کر سکتا نواحِ دشت میں کوئی جگہ نہیں ہے جہاں ذرا سی دیر مسافر قیام کر سکتا اگر پرند ۔۔۔ مِرے جسم پر اُتر آتے میں سینہ تان شجر سے…
Read Moreمحمد علوی
پڑا تھا مَیں اک پیڑ کی چھائوں میں لگی آنکھ تو آسمانوں میں تھا
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔۔۔۔۔ آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں
آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں ٹیبل پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں میں گلی گلی میں اپنے آپ کو ڈھونڈتا ہوں اک اک کھڑکی میں اس کو پاتا ہوں میں اپنے سب کپڑے اس کو دے آتا ہوں اس کا ننگا جسم اٹھا لاتا ہوں میں بس کے نیچے کوئی نہیں آتا پھر بھی بس میں بیٹھ کے بے حد گھبراتا ہوں میں مرنا ہے تو ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں ٹھہر ذرا، گھر جا کے ابھی آتا ہوں میں گاڑی آتی ہے لیکن آتی…
Read Moreآشفتہ چنگیزی
چلے چلیں گے زمانے کے ساتھ بھی اک دن قبول کرنا پڑے گی یہ مات بھی اک دن
Read More