رنگ و بوئے زمان و مکاں اور ہے ،یہ جہاں اور ہے بابِ گل میں ہوا کا بیاں اور ہے ،یہ جہاں اور ہے میں پڑا ہوں کہیں ایک پاتال میں ، حالِ بے حال میں کیا کہوں وہ غمِ رائیگاں اور ہے ، یہ جہاں اور ہے جس کی پلکوں پہ تارے چمکتے نہیں،غم دمکتے نہیں وہ کوئی چشمِ گریہ کناں اور ہے،یہ جہاں اور ہے چاند چمکا اُدھر تو مچلنے لگی ریگِ صحرا اِدھر ریگِ صحرا کا زخمِ گماں اور ہے ،یہ جہاں اور ہے مل گئی ہے…
Read MoreTag: غزلیں
سلیم احمد
سلیم! نفع نہ کچھ تم کو نقدِ جاں سے اُٹھا کہ مال کام کا جتنا تھا سب دکاں سے اُٹھا
Read Moreفضل گیلانی ۔۔۔۔۔۔ یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے
یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے میرے ہو جائیں یہ سارے جھرنے منظر آلودہ ہوا جاتا ہے کس نے دریا میں اُتارے جھرنے کسی امکان کا پہلو ہیں کوئی تری آواز، ہمارے جھرنے اتنی نمناک جو ہے خاک مری کس نے مجھ میں سے گزارے جھرنے مجھ میں تصویر ہوے آخرِ شب خامشی، پیڑ، ستارے، جھرنے ایک وادی ہے سرِ کوہِ سکوت اور وادی کے کنارے جھرنے دیکھو تو بہتے ہوے وقت کی رَو اب ہمارے ہیں تمہارے جھرنے کیا بتائوں میں انھیں، تو ہی بتا پوچھتے ہیں ترے بارے…
Read Moreالفت رسول
تیرے احوال سے اب کوئی سروکار نہیں یہ الگ بات مجھے آ کے سنا دے کوئی
Read Moreشبِ شعر ۔۔۔۔۔ محمد اظہارالحق
شبِ شعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترے سرخ لب کاٹتا اور مرے زخم زاروں سے ہوتا یہ خط نہ ہو تو شبِ شعر اپنی شبِ خواب سے جا ملے مگر سلامت رہیں چھاتیاں سڑ گیا دودھ جن کا اور آنکھیں جو پتھرا گئیں چاند جو گھٹتے گھٹتے اماوس ہوئے اور کفنائی عمریں جو سوراخ سے تیر کی طرح آتی ہوئی دھوپ میں کب سے مٹی کے ذروں کے مانند کچھ ڈھونڈتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Read Moreقاضی حبیب الرحمن ۔۔۔۔۔ ترا خیال ، کُشادِ فضائے تازہ ہے
ترا خیال ، کُشادِ فضائے تازہ ہے ہر انتہائے نظر ، ابتدائے تازہ ہے پلک جھپکتے ہی منظر بدلنے لگتا ہے تعلقات کی (ہر پَل) بنائے تازہ ہے کہ جیسے ٹوٹ رہا ہے سکوت صدیوں کا ہَوا کے ہونٹ پہ خنداں ، صلائے تازہ ہے بدل رہی ہے زمیں بھی نئی رُتوں کا لباس اُفق پہ ناچ رہی اک شعاعِ تازہ ہے چمن چمن ، ترے جلووں کے رنگ بکھرے ہیں صدف صدف ، گہر افشاں ، ادائے تازہ ہے بُلا رہی ہے ابھی تیرے جسم کی خوشبو سما رہی…
Read Moreبانی ۔۔۔۔ شب چاند تھا جہاں وہیں اب آفتاب ہے
شب چاند تھا جہاں وہیں اب آفتاب ہے در پر مرے یہ صبح کا پہلا عتاب ہے آواز کوئی سر سے گزرتی چلی گئی میں یہ سمجھ رہا تھا کہ حرفِ خطاب ہے ہر گز یہ سچ نہیں کہ لگن خام تھی مری ہاں کچھ بھی جو کہے جو یہاں کامیاب ہے شب، کون تھا یہاں جو سمندر کو پی گیا اب کوئی موجِ آب نہ موجِ سراب ہے اک لمحہ جس کے سینے میں کچھ پل رہا ہے کھوٹ بانی ابھی وہ اپنے لیے خود عذاب ہے
Read Moreساقی فاروقی
مَیں آج سیرِ سماوات کے خیال میں ہوں مجھے جسارتِ تسخیرِ ممکنات بھی دے
Read Moreشاہ مبارک آبرو
دل کب آوارگی کو بھولا ہے خاک گر ہو گیا بگولہ ہے
Read Moreمژدم خان ۔۔۔۔۔ کوئی زمین نہیں مانگتا خلا کے عوض
کوئی زمین نہیں مانگتا خلا کے عوض خسارا کون کرے سانس کا ہوا کے عوض ہمارا دیکھنا احسان بھی ہے خرچہ بھی نظر ملی ہے ہمیں آنکھ میں جگہ کے عوض میں اچھا آدمی بھی بن گیا ہوں شاعر بھی درست، واہ! ارے خوب تر بجا کے عوض ہمارا ڈر بھی کرائے کا ہے تمھاری طرح ڈرانا پڑتا ہے بچوں کو بھی بلا کے عوض تمھارے جیسے کسی اور پر بھی مر جائیں اور اس کے جیسے پہ بھی ہجر کی دوا کے عوض کسی نے مرد کے پورے بدن…
Read More