منیر سیفی

گردن میں بل آنا ہی تھا، پھر بھی سیفی! بوجھ ذرا سا اور اٹھایا جا سکتا تھا

Read More

انور شعور ۔۔۔۔۔۔ بندہ کوئی برا نہ بھلا میرے ساتھ ہے

بندہ کوئی برا نہ بھلا میرے ساتھ ہے لیکن، شعور! میرا خدا میرے ساتھ ہے کیا خوف زندگی کی کڑی دھوپ کا مجھے جب تک ردائے صبر و رضا میرے ساتھ ہے میں ازرہِ خلوص و وفا اُس کے ساتھ ہوں جو ازرہِ خلوص و وفا میرے ساتھ ہے رنج و الم میں چین نہ عیش و طرب میں چین پروردگار! مخمصہ کیا میرے ساتھ ہے بوتل بھی زادِ راہ میں رکھی ہوئی ہے ایک بیمار ہوں چناں چہ دوا میرے ساتھ ہے عاجز ہوں میں تمھاری رفاقت سے اے…

Read More

سید علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔ بستر پر کانٹوں کا بستر کر دیتے ہیں

بستر پر کانٹوں کا بستر کر دیتے ہیں اندیشے دیواروں میں دَر کر دیتے ہیں دیوانے ہی وحشت سے منسوب نہیں ہیں ایسی باتیں ہم بھی اکثر کر دیتے ہیں غزلوں میں اظہارِ حقیقت ہوتا ہے لوگوں کو حالات سخن ور کر دیتے ہیں ایسے لوگوں میں ہے بود و باش میری جو لفظوں کو ناوک و نشتر کر دیتے ہیں جب میں اُن کا اسمِ گرامی لیتا ہوں وہ میرے حالات کو بہتر کر دیتے ہیں جو باتیں سینوں میں چبھتی رہتی ہیں ہم اشعر شعروں میں اجاگر کر…

Read More

قلندر بخش جرات

جس کے غم میں آہ ہم آرام سے واقف نہیں کیا غضب ہے، وہ ہمارے نام سے واقف نہیں

Read More

ساقی فاروقی

طوافِ درد نہ کر، آنسوؤں کے پاس نہ رہ جواز ڈھونڈ کوئی، بے سبب اداس نہ رہ

Read More

عرفان ستار ۔۔۔۔۔ سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہے

سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہے بتا دوں؟ مجھ سے خود اپنا پتہ گم ہو گیا ہے تمھارے دن میں اک روداد تھی جو کھو گئی ہے ہماری رات میں اک خواب تھا، گم ہو گیا ہے وہ جس کے پیچ و خم میں داستاں لپٹی ہوئی تھی کہانی میں کہیں وہ ماجرا گم ہو گیا ہے ذرا اہلِ جنوں! آؤ، ہمیں رستہ سجھاؤ یہاں ہم عقل والوں کا خدا گم ہو گیا ہے نظر باقی ہے لیکن تابِ نظارہ نہیں اب سخن باقی ہے لیکن…

Read More

قاضی حبیب الرحمن ۔۔۔۔۔۔ تلاشِ ذات میں اپنا نشاں نہیں ملتا

تلاشِ ذات میں اپنا نشاں نہیں ملتا یقین کیسا؟ یہاں تو گماں نہیں ملتا سفر سے لوٹ کے آنا بھی اک قیامت ہے خود اپنے شہر میں اپنا مکاں نہیں ملتا بہت دنوں سے بساطِ خیال ویراں ہے بہت دنوں سے وہ آشوبِ جاں نہیں ملتا جہاں قیام ہے اُس کا ، عجیب شخص ہے وہ یہ واقعہ ہے کہ اکثر وہاں نہیں ملتا گواہ سارے ثقہ ہیں ، مگر تماشا ہے کسی کے ساتھ کسی کا بیاں نہیں ملتا شعورِ جاں ، عوضِ جاں ، بسا غنیمت ہے کہ…

Read More

سلیم احمد

لوگ کہتے ہیں ہوس کو بھی محبت، جیسے نام پڑ جائے مجاہد کسی بلوائی کا

Read More

معین ناصر ۔۔۔۔۔ شاخ پر پھول کچھ ادھ جلے آ گئے

شاخ پر پھول کچھ ادھ جلے آ گئے زندگی میں مِری دوغلے آ گئے شام تو ہو گئی مے کدے میں، مگر روشنی ہو گئی، دل جلے آگئے وقت نے بھی دیا ساتھ کچھ یوں مرا زندگی میں عجب ولولے آ گئے جب ملی اِک نظر، ہر نظر رُک گئی ہر طرف جا بجا زلزلے آ گئے چل پڑا تھا اُسے میں منانے ،مگر درمیاں پھر وہی فیصلے آگئے

Read More

منیر سیفی

تو کیا اب سبز چشمے ہی پہن کر ہمیں منظر ہَرا کرنا پڑے گا

Read More