بچے ۔۔۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ بچوں کی کئی قسمیں ہیں مثلاً بلی کے بچے ، فاختہ کے بچے وغیرہ۔ مگر میری مراد صرف انسان کے بچوں سے ہے، جن کی ظاہرا تو کئی قسمیں ہیں۔ کوئی پیارا بچہ ہے اور کوئی ننھا بچہ ہے، کوئی پھول سا بچہ ہے اور کوئی چاند سا بچہ ہے لیکن یہ سب اس وقت تک کی باتیں ہیں جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا پڑا ہے۔ جہاں بے دار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگے، بچے نے ان…
Read MoreTag: احمد
احمد ندیم قاسمی
لچک سی جیسے لچکتی ہوئی صدا میں پڑے تِرا خرام جو دیکھا تو بَل ہوا میں پڑے
Read Moreجہاں کچھ لوگ دیوانے بنے ہیں ۔۔۔ یزدانی جالندھری
جہاں کچھ لوگ دیوانے بنے ہیں بڑے دل چسپ افسانے بنے ہیں حقیقت کچھ تو ہوتی ہے یقیناً کہیں جھوٹے بھی افسانے بنے ہیں بہت نازاں تھے جو فرزانگی پر اُنھیں دیکھا تو دیوانے بنے ہیں اِک اندازِ نظر کی آزری سے دلوں میں کتنے بُت خانے بنے ہیں جو شعلہ، شمع کے دل میں ہے روشن اُسی شعلے سے پروانے بنے ہیں یہ کس ساقی کا فیضانِ نظر ہے چمن میں پھول، پیمانے بنے ہیں قیامت تھا مرا محفل سے اُٹھنا نہ جانے کتنے افسانے بنے ہیں مری دیوانگی…
Read Moreترانہء آزاد کشمیر ۔۔۔ حفیظ جالندھری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کلیاتِ حفیظ جالندھری ترتیب و تدوین: خواجہ محمد زکریا الحمد پبلی کیشنز، لاہور دسمبر ۲۰۰۵ء
Read Moreرُو بہ رُو ۔۔۔ آج کے مہمان ۔۔۔ حامد یزدانی: رضا صدیقی
شہزاد عادل
ہم ایسے لوگ طلب کے قمار خانے میں حیات بیچ کے جو کچھ ملا وہ ہار آئے
Read Moreاُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو ۔۔۔ سید علی مطہر اشعر
اُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو وہ آشکار اپنی کسی بات سے بھی ہو ہم اتفاق کیسے کریں اُس کی رائے سے جب منحرف وہ اپنے بیانات سے بھی ہو ممکن ہے پیش رفتِ قیامِ سکوں کے بعد اُس کا کوئی مفاد فسادات سے بھی ہو پابندیِ وفا مری میراث ہی سہی کوئی اُمید اُس کی مگر ذات سے بھی ہو اُس شخص کو مزید پرکھنے کے واسطے کچھ دن گریز خوئے مدارات سے بھی ہو چہرے بھی پڑھتے رہیے کتابوں کے ساتھ ساتھ کچھ استفادہ صورتِ…
Read Moreقہر ۔۔۔ محمد یعقوب آسی
قہر ۔۔۔ جانے کیسا قہر مچا ہے! کون بتائے، کسے بتائے کون کسی سے ڈر کے چُھپا ہے کس نے پہنی ہیں زنجیریں کیوں پہنی ہیں؟ زنداں کی دیواریں کس پر آن پڑی ہیں کس نے کس کو قتل کیا ہے کون بتائے، کسے بتائے سنتا بھی تو کوئی نہیں ہے!! …………………………… مجموعہ کلام: آئنے سے مکالمہ ۔۔ شاعری ( اُردو، پنجابی، فارسی) ناشر: آواز پبلی کیشنز، اقبال مارکیٹ، کمیٹی چوک، راولپنڈی مطبع: محمود برادرز پرنٹرز سنِ اشاعت: مارچ ۲۰۱۹ء
Read Moreاختر ہوشیارپوری
یہ اُجڑے اُجڑے دَر و بام کچھ تو کہتے ہیں مَیں اپنی سوچ کی آواز سنتا رہتا ہوں …………… مجموعہ کلام: علامت اشاعت: ادبی اکیڈمی، راولپنڈی طابع: جنگ پریس، راولپنڈی سالِ اشاعت: ۱۹۷۹ء
Read Moreوہ جب رونا بھول گیا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
وہ جب رونا بھول گیا تھا دریا رستہ بھول گیا تھا مٹی تھی میثاق پہ قائم پانی وعدہ بھول گیا تھا صرف اک صورت یاد رہی تھی باقی دنیا بھول گیا تھا آئینہ تو لے آیا تھا چہرہ لانا بھول گیا تھا جاں بخشی بھی ہو سکتی تھی مَیں، چُپ رہنا بھول گیا تھا یوں تو اک آواز تھا مَیں بھی لوٹ کے آنا بھول گیا تھا ایک دیا تھا مَیں بھی لیکن جل کر بجھنا بھول گیا تھا بستے میں ہر شے رکھی تھی بچپن رکھنا بھول گیا تھا…
Read More