دُعا ۔۔۔ یہ دُعا ہے کوئی گلہ نہیں مرے ہم نشیں! مری زندگی وہ گلاب ہے جو کھلا نہیں مَیں یہ سوچتا ہوں، خدا کرے تجھے زندگی میں وہ سکھ ملے جو کبھی مجھے بھی مِلا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: چہار خواب پبلشر: مکتبہ آسی، کراچی اشاعت: ۱۹۸۵ء
Read MoreTag: احمد
بشیر بدر
خوبصورت، اُداس، خوف زدہ وہ بھی ہے بیسویں صدی کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: امیج ناشر:نصرت پبلشرز ، وکٹوریہ اسٹریٹ، لکھنو طباعت: نامی پریس، لکھنو سنِ اشاعت: جولائی ۱۹۷۳ء
Read Moreاے زندگی یہ کیا ہوا تو ہی بتا تھوڑا بہت ۔۔۔ عزیز نبیل
اے زندگی! یہ کیا ہوا، تو ہی بتا تھوڑا بہت وہ بھی بہت ناراض ہے، میں بھی خفا تھوڑا بہت منزل ہماری کیا ہوئی، یہ کس جہاں میں آ گئے اب سوچنا پیشہ ہوا، کہنا رہا تھوڑا بہت نا مہرباں ہر راستہ اور بے وفا اک اک گلی ہم کھو گئے اس شہر میں رستہ ملا تھوڑا بہت یہ لطف مجھ پر کس لیے، احسان کا کیا فائدہ اب وقت سارا کٹ چکا، اچھا برا، تھوڑا بہت اس بزم سے وابستگی کیا کیا دکھائے گی نبیل پھر آ گئے تم…
Read Moreرات ہوئی ۔۔۔ فرحت احساس
رات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ تم کو پا لینے کی دُھن میں دُنیا اوڑھی رنگ برنگے کپڑے پہنے پیشانی پر سورج باندھا آنگن بھر میں دھوپ بچھائی دیواروں پر سبزہ ڈالا پھولوں، پتّوں سے اپنی چوکھٹ رنگوائی موسم آئے موسم بیتے سورج نکلا، دھوپ کھلی پھر دھوپ چڑھی پھر اور چڑھی پھر شام ہوئی پھر گہری کالی رات ہوئی! ………………………….. مجموعہ کلام: شاعری نہیں ہے یہ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی ۲۰۱۱ء
Read Moreلوہے کا کمر بند ۔۔۔ رام لعل
لوہے کا کمر بند ۔۔۔۔۔۔۔ بہت عرصہ گزرا کسی ملک میں ایک سوداگر رہتا تھا۔ اس کی بیوی بہت خوب صورت تھی۔ اتنی خوب صورت کہ اس کی محض ایک جھلک پانے کے لئے عاشق مزاج لوگ اس کی گلی کے چکر لگایا کرتے تھے۔ یہ بات سوداگر کو بھی معلوم تھی، اس لیے اس نے اپنی بیوی پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ اس کی اجازت کے بغیر وہ کسی سے مل نہیں سکتی تھی۔ اس کے قریب قریب سارے ہی ملازم دراصل اس سوداگر کے خفیہ جاسوس…
Read Moreآشفتہ چنگیزی
ہم نے کبھی سنا تھا کہیں آس پاس ہیں کہرے میں اور دھند میں لپٹے ہوئے مکاں
Read Moreہاتھ ہریالی کا اک پل میں جھٹک سکتا ہوں میں ۔۔۔ نعمان شوق
ہاتھ ہریالی کا اِک پل میں جھٹک سکتا ہوں مَیں آگ بن کر سارے جنگل میں بھڑک سکتا ہوں مَیں مَیں اگر تجھ کو ملا سکتا ہوں مہر و ماہ سے اپنے لکھّے پر سیاہی بھی چھڑک سکتا ہوں مَیں اک زمانے بعد آیا ہاتھ اس کا ہاتھ میں دیکھنا یہ ہے مجھے کتنا بہک سکتا ہوں مَیں آئنے کا سامنا اچھا نہیں ہے باربار ایک دن اپنی بھی آنکھوں میں کھٹک سکتا ہوں مَیں کشتیاں اپنی جلا کر کیوں تم آئے میرے ساتھ کہہ رہا تھا: مات کھا سکتا…
Read Moreشہاب دہلوی
اُن کے تیور چڑھے ہوئے ہیں شہاب جو بھی بولے وہ سوچ کر بولے
Read Moreمیں ستارہ نہیں ۔۔۔ ازہر ندیم
میں ستارہ نہیں! ۔۔۔۔۔۔۔ میں ستارہ نہیں یہ مری روشنی میرے باطن میں اک ضو فشاں آگ کا نام ہے یہ مرے چار سو ایک ہالہ جو تم کو نظر آتا ہے اس کے مرکز کے اندر مری نظم ہے ایک تقدیس کے دائرے میں مسلسل چمکتی ہوئی یہ مرے روبرو جتنے اجسام ہیں ان پہ اُتری ہے لَو چاندنی کی طرح یہ مری زندگی جس میں تھی تیرگی ایسے تاباں ہوئی تختہِ خاک سے ہفت افلاک تک جس قدرتھے زمانے، درخشاں ہوۓ یہ مرے لفظ تھےاک محبت کی حدّت…
Read Moreکھلا تھا اک یہی رستہ تو اور کیا کرتا ۔۔ سید آلِ احمد
کُھلا تھا اِک یہی رستہ تو اور کیا کرتا نہ دیتا ساتھ ہَوا کا تو اور کیا کرتا بہت دنوں سے پریشان تھا جدائی میں جو اَب بھی تجھ سے نہ ملتا تو اور کیا کرتا نہ کوئی دشتِ تسلی‘ نہ ہے سکون کا شہر اُجالتا جو نہ صحرا تو اور کیا کرتا بشر تو آنکھ سے اندھا تھا، کان سے بہرہ تجھے صدا جو نہ دیتا تو اور کیا کرتا مرے سفر میں مَحبت کا سائبان نہ تھا بدن پہ دھوپ نہ مَلتا تو اور کیا کرتا ترے حضور…
Read More