اختر حسین جعفری ۔۔۔ ہجر اک حسن ہے، اس حسن میں رہنا اچھا

ہجر اک حسن ہے، اس حسن میں رہنا اچھا چشمِ بے خواب کو خونناب کا گہنا اچھا کوئی تشبیہ کا خورشید نہ تلمیح کا چاند سرِ قرطاس لگا حرفِ پرہنہ اچھا پار اُترنے میں بھی اک صورتِ غرقابی ہے کشتئ خواب رہِ موج پہ بہنا اچھا یوں نشیمن نہیں ہر روز اٹھائے جاتے اسی گلشن میں اسی ڈال پہ رہنا اچھا بے دلی شرطِ وفا ٹھہری ہے معیار تو دیکھ میں بُرا اور مرا رنج نہ سہنا اچھا دھوپ اُس حسن کی یک لحظہ میسر تو ہوئی پھر نہ تا…

Read More

نظم ۔۔۔۔ اختر حسین جعفری

نظم ۔۔۔۔ شام ڈھلے تو میلوں پھیلی خوشبو خوشبو گھاس میں رستے آپ بھٹکنے لگتے ہیں زلف کھلے تو مانگ کا صندل شوق طلب میں آپ سلگنے لگتا ہے شام ڈھلے تو زلف کھلے تو لفظوں! ان رستوں پر جگنو بن کر اڑنا راہ دکھانا دن نکلے تو تازہ دھوپ کی چمکیلی پوشاک پہن کر میرے ساتھ گلی کوچوں میں لفظوں! منزل منزل چلنا ہم دنیا کو حرف و صدا کی روشن شکلیں پھول سے تازہ عہد اور پیماں دکھلائیں گے دیواروں سے گلزاروں تک تنہائی کی فصل اگی ہے…

Read More

آفتاب حسین ۔۔۔۔ فصیلِ شہرِ تمنا میں در بناتے ہوئے

فصیلِ شہرِ تمنا میں در بناتے ہوئے یہ کون دل میں در آیا ہے گھر بناتے ہوئے نشیبِ چشمِ تماشا بنا گیا مجھ کو کہیں بلندئِ ایام پر بناتے ہوئے میں کیا کہوں کہ ابھی کوئی پیش رفت نہیں گزر رہا ہوں ابھی رہ گزر بناتے ہوئے  کسے خبر ہے کہ کتنے نجوم ٹوٹ گرے شبِ سیاہ سے رنگِ سحر بناتے ہوئے پتے کی بات بھی منہ سے نکل ہی جاتی ہے کبھی کبھی کوئی جھوٹی خبر بناتے ہوئے مگر یہ دل مرا، یہ طائرِ بہشت مرا اُتر ہی آیا…

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔۔۔۔ وہ سمجھتا ہے اِس کنائے کو

وہ سمجھتا ہے اِس کنائے کو پُل کی حاجت نہیں ہے سائے کو میں جو کہتا ہوں کچھ نہیں ہو گا آگ میں ڈال سب کی رائے کو لے کے دو چسکیاں مرے کپ سے شہد کر دے گا پھیکی چائے کو کھل کے دیتا نہیں وہ داد کبھی آگ لگ جائے اُس کی ’’ہائے ‘‘کو تجھ کو دیکھا تو خود بدل لیں گے صائب الرائے اپنی رائے کو میں یہاں آخری مسافر ہوں اک نظر دیکھ لوں سرائے کو

Read More

احمد حسین مجاہد

میں یہاں آخری مسافر ہوں اک نظر دیکھ لوں سرائے کو

Read More

احمد حسین مجاہد …… مٹی کا اک غبار جو سوئے فلک گیا

مٹی کا اک غبار جو سوئے فلک گیا اک بار تو خود اپنی طرف میرا شک گیا سایہ تھا اُس پہ وصل کی خواہش کے خوف کا میں نے چھوا تو غنچہ ٔ نو رَس چٹک گیا دیتی وہ کیا جواب مرے اشتعال کا بس یہ ہوا کہ شانے پہ آنچل ڈھلک گیا چاروں طرف سے خون کے چشمے ابل پڑے سایہ مرے وجود کے اندر سرک گیا میری بھی تھوڑی حوصلہ افزائی ہو گئی جاتے ہوئے وہ میرا بھی شانہ تھپک گیا احمدؔ میں پہلے عشق کو سمجھا تھا…

Read More

پھول کی حکایت ۔۔۔۔ ثروت حسین

پھول کی حکایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس اتنا یاد ہے سرخ پنکھڑیوں والا ایک پھول تھا جو دھول بھرے سمندر میں گم ہوا اے خوبصورت آنکھوں والی لڑکی! قریب آ، وہ پھول تجھ میں جل رہا ہے …….

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔۔۔۔ جنوں میں یار سے آگے قدم نہ پڑ جائے

جنوں میں یار سے آگے قدم نہ پڑ جائے یہ عمر بھر کی ریاضت بھی کم نہ پڑ جائے کچھ احتیاط ! مری آگ تاپنے والو کسی کی آنکھ میں شعلے کا نم نہ پڑ جائے مجھے یہ ڈر ہے مری رائگاں دعاؤں سے تمھاری تیغ ِ تغافل میں خم نہ پڑ جائے بہ فیض ِ عشق مجھے اپنا غم نہیں، لیکن یہ غم ہے، اُس کو مذاق ِ ستم نہ پڑ جائے یہ شہد و شعر دھرے کے دھرے نہ رہ جائیں کہیں اسے کوئی کار ِ اہم نہ…

Read More

غلام حسین ساجد…… ماورائے سراغ ہوں مَیں بھی

ماورائے سراغ ہوں مَیں بھی کوئی رنگِ فراغ ہوں مَیں بھی فخر ہے اپنی کم نمائی پر اپنے ہونے پہ داغ ہوں مَیں بھی گفتگو کا اُسے سلیقہ نہیں اور بہت بددماغ ہوں مَیں بھی اپنے دشمن کی سرخروئی پر کس لیے باغ باغ ہوں مَیں بھی سبز ہے خاک میرے گریہ سے راحتِ باغ و راغ ہوں مَیں بھی رات پڑتی نہیں جہاں ساجد اُس گلی کا چراغ ہوں مَیں بھی ………………………… مجموعہ کلام : ہست و بود مطبوعہ: اکتوبر ٢٠١٨ء رنگِ ادب پبلی کیشنز ، کراچی

Read More

حسین مجروح

جھولا پڑا نہ چھاؤں میں بیٹھا کوئی فقیر شیشم کا پیڑ شہر میں بے آبرو ہُوا

Read More