توقع ۔۔۔۔ جب ہوا دھیمے لہجوں میں کچھ گنگناتی ہُوئی خواب آسا، سماعت کو چھو جائے، تو کیا تمھیں کوئی گُزری ہُوئی بات یاد آئے گی؟
Read MoreTag: نظم
انسان ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی
انسان ۔۔۔۔۔ خدا عظیم، زمانہ عظیم، وقت عظیم اگر حقیر ہے کوئی یہاں تو صرف ندیم وہی ندیم، وہی لاڈلا بہشتوں کا وہی ندیم، جو مسجود تھا فرشتوں کا وہ جس نے جبر سے وجدان کو بلند کیا وہ جس نے وسعتِ عالم کو اِک زقند کیا وہ جس نے جرمِ محبت کی جب سزا پائی تو کائنات کے صحراؤں میں بہار آئی وہ جس نے فرش کو بھی عرش کا جمال دیا وہ جس نے تند عناصر کو ہنس کے ٹال دیا بڑھا تو راہیں تراشیں، رُکا تو قصر…
Read Moreاور بارش ہے … ابرار احمد
اور بارش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بے کار محبت کی سیہ کاری میں بھیگ جاتا ہوں تو سو جاتا ہوں اور بارش ہے کہ گرتی ہی چلی جاتی ہے بند آنکھوں پہ تھکے اعضا پر شہر نم ناک میں سانسوں سے بھری گلیوں پر نارسائی کی طنابوں سے بندھے جسموں پر اور ناکردہ گناہوں کے تعفن زدہ کپڑوں سے بھرے کوٹھوں پر اور بے انت کے میدانوں میں!
Read Moreبرف باری کی رُت ۔۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض
برف باری کی رُت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہیں تو کہیں پر تمہارے لبوں نے مرے سرد ہونٹوں سے برفیلے ذرے چنے تھے اسی پیڑ کی چھال پر ہاتھ رکھ کر ہم اک دن کھڑے تھے یہیں برفباری میں ہم لڑکھڑاتے ہوئے جا رہے تھے مہک تازہ بوسوں کی سر میں سمائے ہم آغوشئِ جسم و جاں کے نشے میں گئی برفباری کی رُت اور پگھلتی ہوئی برف بھی بہہ گئی سب یہاں کچھ نہیں اب کہ ہر شے نئی ہے ہٹا کر ردا برف کی گھاس لہرا رہی ہے ہری پتیوں کی…
Read Moreسوداگر ۔۔۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی
سوداگر ۔۔۔۔۔۔ لو گجر بج گیا صبح ہونے کو ہے دن نکلتے ہی اب میں چلا جاؤں گا اجنبی شاہراہوں پہ پھر کاسۂ چشم لے لے کے ایک ایک چہرہ تکوں گا دفتروں، کارخانوں میں، تعلیم گاہوں میں جا کر اپنی قیمت لگانے کی کوشش کروں گا میری آرامِ جاں! مجھ کو اک بار پھر دیکھ لو آج کی شام لوٹوں گا جب بیچ کر اپنے شفّاف دل کا لہو اپنی جھولی میں چاندی کے ٹکڑے لیے تم بھی مجھ کو نہ پہچان پائیں تو پھر میں کہاں جاؤں گا…
Read Moreزعیم رشید ۔۔۔۔۔۔۔۔ باندھ کر پیاس کو پانی میں لیے پھرتا ہوں
باندھ کر پیاس کو پانی میں لیے پھرتا ہوں عشق کی آگ جوانی میں لیے پھرتا ہوں ایک کردار جو آیا نہ پلٹ کر واپس آج بھی اپنی کہانی میں لیے پھرتا ہوں اس لیے یاد مجھے آتا ہے تو ہر لمحہ خود کو میں تیری نشانی میں لیے پھرتا ہوں رقص کرتے ہوئے ہوجاتا ہوں خوشبو کی طرح خود کو میں رات کی رانی میں لیے پھرتا ہوں اک جدائی کی خزاں ہے کہ جسے صدیوں سے موسم گل کی روانی میں لیے پھرتا ہوں عکس کی موت بنی…
Read Moreوہ لڑکی ۔۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض
وہ لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔ جن پر میرا دل دھڑکا تھا، وہ سب باتیں دہراتے ہو وہ جانے کیسی لڑکی ہے تم اب جس کے گھر جاتے ہو مجھ سے کہتے تھے، بن کاجل اچھی لگتی ہیں مری آنکھیں تم اب جس کے گھر جاتے ہو، کیسی ہوں گی اُس کی آنکھیں تنہائی میں چپکے چپکے نازک سپنے بنتی ہو گی تم اب جس کے گھر جاتے ہو، کیا وہ مجھ سے اچھی ہو گی؟ مجھ کو تم سے کیا دلچسپی، میں اک اک کو سمجھاتی ہوں یاد بہت آتے ہو جب…
Read Moreراتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں ۔۔۔ جون ایلیا
راتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو، میں پھر بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا اِن کی لذت اور اذیت سے میں اپنا کوئی عہد نہیں توڑوں گا تیز نظر نابیناؤں کی آبادی میں، کیا میں اپنے دھیان کی یہ پونجی بھی گنوا دوں، ہاں میرے خوابوں کو تمھاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیروں سے نفرت ہے اِن صبحوں نے شام کے ہاتھوں اب تک جتنے سورج بیچے وہ سب اک برفانی بھاپ کی چمکیلی اور چکر کھاتی گولائی تھے سو میرے…
Read Moreکیا روگ لگا بیٹھے ۔۔۔ اختر شیرانی
کیا روگ لگا بیٹھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا روگ لگا بیٹھے دِل ہم کو لُٹا بیٹھا، ہم دل کو لُٹا بیٹھے کیا روگ لگا بیٹھے مِٹ جائے یہ سینے سے اِس عشق میں جینے سے، ہم ہاتھ اُٹھا بیٹھے کیا روگ لگا بیٹھے دم عشق کا بھرتے ہیں ہم یاد اُنہیں کرتے ہیں، وہ ہم کو بُھلا بیٹھے کیا روگ لگا بیٹھے لِکھّا تھا یہ قسمت میں آخر کو محبّت میں، ہم جان گنوا بیٹھے کیا روگ لگا بیٹھے!
Read Moreآئینوں کے درمیاں ۔۔۔ ثمینہ راجا
آئینوں کے درمیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئنوں کے درمیاں کٹتی ہے میری زندگی ہر سمت ہے اپنا وجود اور ہر طرف چہرہ مرا اور اپنے ان مانوس چہروں کے ہجومِ بے پنہ میں کس قدر تنہا ہوں مَیں
Read More