عابد سیال ۔۔۔ دور دیسوں سے بلائے بھی نہیں جا سکتے

دور دیسوں سے بلائے بھی نہیں جا سکتے وہ پکھیرو جو بھلائے بھی نہیں جا سکتے تُرش خُو ، تیز مزہ پھل ہیں یہاں کے اور ہم بنا چکھے ، بنا کھائے بھی نہیں جا سکتے حیرتِ مرگ ، بلاوا ہے یہ اس جانب سے جس طرف دھیان کے سائے بھی نہیں جا سکتے کرچی کرچی کی چبھن سہنا بھی آسان نہیں خواب آنکھوں سے چھپائے بھی نہیں جا سکتے کچھ جو کہتا ہوں تو پھر اپنا ہی دل کٹتا ہے لوگ اپنے ہیں، رُلائے بھی نہیں جا سکتے

Read More

بہار کی واپسی ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

بہار کی واپسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چپ چاپ بیٹھا ہوں اس رہگزر پر یہی سوچتا ہوں کہ خط لانے والا کہیں آج بھی کہہ نہ دے: کچھ نہیں ہے یہ کیا بات ہے لوگ اک دوسرے سے جدا ہو کے یوں جلد ہیں بھول جاتے وہ دن رات کا ساتھ ہنسنا ہنسانا وہ باتیں جنھیں غیر سے کہہ نہ پائیں اچھوتے سے الفاظ جو شاہراہوں پہ آتے ہوئے دیر تک ہچکچائیں کچھ الفاظ کے پھول جو اس چمن میں کھلے تھے جسے محفلِ دوش کہیے جو کچھ دیر پہلے ہی برہم…

Read More

غالب ۔۔۔ دہر میں نقشِ وفا وجہ ِتسلی نہ ہوا

دہر میں نقشِ وفا وجہ ِتسلی نہ ہوا ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا سبزۂ خط سے ترا کاکلِ سرکش نہ دبا یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا دل گزر گاہ خیالِ مے و ساغر ہی سہی گر نفَس جادہ سرمنزلِ تقوی نہ ہوا ہوں ترے وعدہ نہ کرنے پہ بھی راضی کہ کبھی گوش منت کشِ گلبانگِ تسلّی نہ ہوا کس سے محرومئ قسمت کی شکایت…

Read More

اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ شوق، ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا

شوق، ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یارب! تیر بھی سینۂ بسمل سے پَرافشاں نکلا بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل جو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد کام یاروں کا بہ قدرٕ لب و دنداں نکلا اے نو آموزِ فنا ہمتِ دشوار پسند! سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا شوخئِ رنگِ حنا خونِ وفا سے کب تک آخر اے عہد شکن! تو…

Read More

اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ دل مرا سوز ِنہاں سے بے محابا جل گیا

دل مرا سوز ِنہاں سے بے محابا جل گیا آتش خاموش کی مانند گویا جل گیا دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟ کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار اِس چراغاں کا کروں کیا کارفرما جل گیا میں ہوں…

Read More

اسداللہ خاں غالب

ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

Read More

احمد عقیل روبی

لوگ مائل بہ کرم ہیں پھر سے جانے اب کون سی افتاد پڑے

Read More

سلسلے سوالوں کے ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

سلسلے سوالوں کے ۔۔۔۔……۔۔۔۔۔۔۔ دن کے چہچہوں میں بھی رات کا سا سنّاٹا رات کی خموشی میں جیسے دن کے ہنگامے جاگتی ہوئی آنکھیں، نیند کے دھندلکوں میں خواب کے تصوّر میں اک عذابِ بیداری روز و شب گزرتے ہیں قافلے خیالوں کے صبح و شام کرتے ہیں آپ اپنی غم خواری ہم کہاں ہیں؟ ہم کیا ہیں؟کون ہیں مگر کیوں ہیں؟ ختم ہی نہیں ہوتے سلسلے سوالوں کے چشمۂ ہدایت ہے علم کے صحیفوں میں فن کے شاہکاروں میں اک چراغِ عرفاں ہے مرحمت کے ساماں ہیں ان کی…

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ چراغ اپنے ہوا دینے سے پہلے

چراغ اپنے ہوا دینے سے پہلے جلانے تھے بجھا دینے سے پہلے میاں کیا لازمی تھا خاک اُڑانا کسی کو راستا دینے سے پہلے نسیمِ صبح کو آیا پسینہ خزاں کو بد دعا دینے سے پہلے ملا سکتے ہو کیا ہم سے نگاہیں بغاوت کی سزا دینے سے پہلے مناسب ہے کہ پڑھ لی جائے تختی کسی در پر صدا دینے سے پہلے ہمارا ہارنا طے ہو چکا تھا تمھارے ہاتھ اٹھا دینے سے پہلے سخی مشہور تھے ہم بھی مظفرؔ مگر سب کچھ لٹا دینے سے پہلے

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ایک نظم

ایک نظم ۔۔۔۔۔۔ دن چڑھ آیا چل، ہم زاد! میرے بستر پر تو آ جا کالی نفرت سُرخ عقیدت بھوری آنکھوں والی حیرت بھولی بھالی زرد شرافت نیلا نیلا اندھا پیار رنگ برنگے غم کے تار خوشیوں کے چمکیلے ہار دھانی، سبز سپید، سنہرے اپنے سارے نازک جذبے پھر دن کو تجھ کو سونپے مصلحتوں کے شہر میں ان کے لاکھوں ہیں جلّاد دن چڑھ آیا چل، ہم زاد!

Read More