کس کو روشن بنا رہے ہو تم ؟ اِتنا جو بجھتے جا رہے ہو تم گاؤں کی جھاڑیاں بتا رہی ہیں شہر میں گُل کِھلا رہے ہو تم ایک تو ہم اُداس ہیں اُس پر شاعروں کو بُلا رہے ہو تم اور کس نے تمھیں نہیں دیکھا اور کس کے خدا رہے ہو تم پھول کس نے قبول کرنے ہیں جب تلک مسکرا رہے ہو تم
Read MoreTag: Bahawalpur
نوشاد منصف … بھڑکتی کیوں نہ مری آتشِ انا پھر سے
بھڑکتی کیوں نہ مری آتشِ انا پھر سے بنا ہے رونقِ محفل وہ بے وفا پھر سے یہ آج گردشِ دوراں کہاں پہ لے آئی میں ڈھونڈتا ہوں نیا کوئی آسرا پھر سے نکل پڑے ہیں اچانک ہی اشک خون آلود لوآج پھوٹ پڑا دل کا آبلہ پھر سے وہ جس میں آئی نظرمنزلِ مراد مری تو دے سکے گا وہی مجھ کو آئنہ پھر سے؟ ابھر رہا ہے زمانے میں بعد مدت کے ستم گروں کے ستم کا وہ سلسلہ پھر سے چراغِ زیست کوئی کس طرح جلے منصف…
Read Moreالیاس بابر اعوان ۔۔۔ دِلوں کے داغ سمٹ کر جبیں پہ آ گئے ہیں
دِلوں کے داغ سمٹ کر جبیں پہ آ گئے ہیں ہم آسمان سے سیدھے زمیں پہ آ گئے ہیں جو کشتی چھوڑ گئی ہے وہ لے بھی جائے گی گماں کی سمت فقط اِس یقیں پہ آ گئے ہیں درست طور غَلط اُنگلی تھام لی گئی تھی کہیں پہ جانا تھا لیکن کہیں پہ آ گئے ہیں بس ایک دُکھ نے سبھی کو اِکٹھا کر دیا ہے تمام لوگ محبت کے دیں پہ آ گئے ہیں جس اہتمام سے ہم راستوں سے بھٹکے تھے جہاں پہ جانا تھا آخر وہیں…
Read Moreاشرف سلیم
اب آئنے کے برابر ٹھہر گیا ہے سلیم غزال شہر میں وہ خود نمائی چاہتا ہے
Read Moreریاض ندیم نیازی ۔۔۔ کوئی دیوار سلامت ہے نہ گھر باقی ہے
مرزا واجد حسین یاس یگانہ
سمجھتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانہِ درد سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سُنا نہ گیا
Read Moreقابل اجمیری
ہاں ہوشیار، چشمِ فسوں کار ہوشیار دل کو تری نگاہ کے انداز آ گئے
Read Moreحفیظ اللہ بادل … زمین کھینچتے ہیں، آسمان کھینچتے ہیں
زمین کھینچتے ہیں، آسمان کھینچتے ہیں ہم اپنے جسم سے کیا کیا جہان کھینچتے ہیں بس ایک خطِ محبت ہے اور کچھ بھی نہیں جِسے ہم اپنے ترے درمیان کھینچتے ہیں کِھنچے ہوے ہیں کسی خواب کی کمان میں ہم اس ایک اڑان سے سارا جہان کھینچتے ہیں ہم اپنی عاجزی میں مَست ہیں سو شہر کے لوگ براے شغل ہمیں پر زبان کھینچتے ہیں یہاں تو قیس کی نِسبت سے ہیں، وگرنہ ہمیں مکین کھینچتے ہیں اور مکان کھینچتے ہیں غزالِ دشت! ہمارا مزاج اپنا ہے ہم اپنے ہاتھ…
Read Moreممتاز اطہر … دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے
دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے وقت کی سانس اٹکنے لگی ہے میں نے رکھا ہے دریچے میں دیا اور ہوا راہ بھٹکنے لگی ہے عشق تھا پہلے پڑاٶ پہ ابھی پھر نٸی آگ دہکنے لگی ہے مجھ کو بھی خواب نے گھیرا ہوا ہے رات بھی آنکھ جھپکنے لگی ہے ایک دھندلی سی کسی یاد کی لَو کتنی یادوں میں دمکنے لگی ہے کوٸی صحرا مرے اندر ہے رواں ریت آنکھوں سے ٹپکنے لگی ہے اب ترا ساتھ ضروری ہے مجھے زندگی ہاتھ جھٹکنے لگی ہے کون اطہر…
Read Moreعطاء الرحمن قاضی ۔۔۔ ساعتِ ہجر کو ارژنگ نوائی دے گا
ساعتِ ہجر کو ارژنگ نوائی دے گا وہ اگر ہے اسی منظر میں دکھائی دے گا اب گلابی میں کہاں جلوۂ گلزارِ ارم رند تڑپیں گے ہر اک جام دہائی دے گا خلوتِ ناز سے دوری نے رکھا گرمِ سفر مر ہی جاؤں گا اگر مجھ کو رسائی دے گا دے رہا ہے جو نمو زخم کو ، اک روز وہی دیکھنا ، مرہمِ گریہ مرے بھائی دے گا جھانکتا ہے یہ جو مہتاب کسی غرفے سے نیلمیں شام کو ساغر سے رہائی دے گا زخمہ ور ، چھیڑ! رگِ…
Read More