دُعا کو ہاتھ اُٹھاتے تو لب نہ ہلتے تھے محبتوں پہ ہمیں اعتماد ایسا تھا
Read MoreTag: best urdu poetry
عباس رضوی ۔۔۔ بہت ہیں جن کے مقدر میں گھر نہیں ہے کوئی
بہت ہیں جن کے مقدر میں گھر نہیں ہے کوئی مگر ہماری طرح در بدر نہیں ہے کوئی یہ ابر و باد، یہ موسم شریکِ غم ہیں مرے بس ایک سنگ ہے جس پر اثر نہیں ہے کوئی نظر اُٹھی ہے اُدھر کو جدھر ہیں گھر آباد ہوا چلی ہے اُدھر کی جدھر نہیں ہے کوئی یہ لوگ کون ہیں، کس سرزمیں سے آئے ہیں بدن ضرور ہیں کاندھوں پہ سر نہیں ہے کوئی وہ لوگ ہم ہیں جنھیں کھا گیا کمالِ ہنر یہ شہر وہ ہے جہاں معتبر نہیں…
Read Moreریت گھڑی ۔۔۔ عباس رضوی
ریت گھڑی ۔۔۔۔۔۔ خوبصورت چمک دار رنگوں روشن ہندسوں اور ایک دوسرے کے تعاقب میں دوڑتی ہوئی سنہری روپہلی سوئیوں سے محروم سُریلی آواز میں رہ رہ کر گنگنا اُٹھنے والے الارم سے بے نیاز میں ایک ریت گھڑی ہوں تم اگر چاہو تو میرے بلّور یں جسم کے اندر میری مضطرب روح کو صاف دیکھ سکتے ہو کیونکہ میرے وجود کا آدھا حصہ پیاس ہے اور آدھا ایک سراب ۔۔۔۔۔
Read Moreعلی اصغر عباس
رات خالی پڑا رہا بستر جانے ٹوٹا تھا آسمان کہ دل
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ حصارِ مہر جو مسمار ہوتا جاتا ہے
حصارِ مہر جو مسمار ہوتا جاتا ہے دراز سایۂ دیوار ہوتا جاتا ہے یہ کس نے دُھوپ کنارے سے جھانک کر دیکھا افق بھی سرخیِ رخسار ہوتا جاتا ہے شکار گاہ میں ہانکا کرانے والا ہوں ہدف بھی میرا طلب گار ہوتا جاتا ہے شہابِ ثاقبِ دل ٹوٹ کر گرا جائے کمالِ دیدۂ مے خوار ہوتا جاتا ہے دیارِ ہجر میں پازیبِ غم چھنکتی سن شکیب درد کی جھنکار ہوتا جاتا ہے اشارہ پاتے ہی وہم و گماں، یقین ہوئے کشادہ جامۂ اسرار ہوتا جاتا ہے اے چوبِ خیمۂ جاں…
Read Moreخوابِ یوسف ! ۔۔۔ علی اصغر عباس
خوابِ یوسف ! ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے روشنی کی ضرورت سے باندھا گیا اور آنکھوں میں نور بھر کے دو نقطے تارِ تجلی کی ضوباریوں سے یوں گانٹھے گئے کہ وہ مہر و مہ کی رداے تحیر ّمیں لپٹے اجالےکی کومل گرہ دار کرنوں سے تاروں کے ٹانکے لگیں درخشانیوں نے سمندر کی تہ میں گرے چاند سورج کی تاب و تواں کی خبر پہاڑوں کی تابندہ برفوں کو دی تو رخشاں ہوائوں کے جھکڑ چلے آن کی آن میں کوہِ گماں پہ ٹکی آنکھ میں خوابِ یوسف ہویدا ہوا چاند، سورج،…
Read Moreفانی بدایونی
وہ ہے مختار، سزا دے کہ جزا دے فانی دو گھڑی ہوش میں آنے کے گنہگار ہیں ہم
Read Moreفرحان کبیر ۔۔۔۔۔ مِٹ نہ جائیں سراب دوری کے
مِٹ نہ جائیں سراب دوری کے نقش دیکھا کریں گے پانی کے ہم سروں پر اُٹھائے پھرتے ہیں سب دروبام اُس حویلی کے آخری موڑ تھا شکیبائی ترجماں سو گئے کہانی کے جنبشِ لب کہیں نہیں، لیکن بولتے ہیں مزار مٹی کے ابھی مٹی جبیں سے دھوئی نہ تھی گُل مہکنے لگے کیاری کے بیٹھ کر سوچنے لگا میں بھی میز پر تھے نشان کہنی کے کیا ہَوا کو خبر نہیں، فرحان بجھ رہے ہیں چراغ بستی کے
Read Moreاوہام و عقاید ۔۔۔ جوش ملیح آبادی
اَوہام و عَقاید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیف دورِ بندگی میں کس کو سمجھائوں کہ ہے صرف روحِ آدمیّت ہی اِلٰہُ العالمیں حیف حرفِ حق سے اب تک بر سرِ پیکار ہے عالمِ دینِ متین و مفتئ شرعِ مبیں حیف اوہام و عقاید کے سیہ بازار میں آج تک نورِ حقایق کی کوئی قیمت نہیں عقل کی توہین ہے عرشِ بریں کا احترام آ کہ اب ڈالیں بِنائے سطوتِ فرشِ مبیں دین کے قدموں پہ قرنوں تک یہ دنیا جھک چکی آ کہ اب دنیا کے قدموں پر جھکا دیں فَرقِ دیں
Read Moreخالد علیم
موسمِ یخ میں کوئی خاک بسر سیلانی ڈھونڈتا پھرتا تھا گم گشتہ سفر پانی میں
Read More