یہ ہے مجلسِ شہِ عاشقاں کوئی نقدِ جاں ہو تو لے کے آ یہاں چشمِ تر کا رواج ہے ، دلِ خونچکاں ہو تو لے کے آ یہ فضا ہے عنبر و عود کی، یہ محل ہے وردِ درود کا یہ نمازِ عشق کا وقت ہے، کوئی خوش اذاں ہو تو لے کے آ یہ جو اک عزا کا شعار ہے، یہ عجب دعا کا حصار ہے کسی نارسا کو تلاش کر، کوئی بے اماں ہو تو لے کے آ یہ نشہ ہے اہلِ دلیل کا ، یہ عَلم ہے…
Read MoreTag: nazm
کارواں، جلد 23، شمارہ 9: ستمبر 1968ء
کارواں ۔جلد 23 شمارہ 9- ستمبر 1968ء Download
Read Moreسلام بہ حضورِ امامِ عالی مقام
یہی نہیں کہ فقط کربلا حسین سے ہے حسین سے ہیں محمد، خدا حسین سے ہے کسی نے پوچھ لیا کس کے دم سے ہے اسلام قضا و قدر نے جھک کر کہا: حسین سے ہے ہزار چشمہء آبِ رواں ہیں دنیا میں مگر یہ پیاس کا دریا بہا حسین سے ہے یہ مرغزارِ محمد، یہ لالہ زارِ علی شہادتوں کا یہ گلشن ہرا حسین سے ہے یہ اپنی منزلِ اول پہ لٹ چکا ہوتا رواں دواں جو ہے یہ قافلہ حسین سے ہے اگرچہ بیعَتِ باطل قبول دل سے…
Read Moreبصیرت (مرثیہ) ….. خالد علیم
ہرگز نہیں گلشنِ صبا میرے لیے چلتی ہے سموم کی ہوا میرے لیے میں ایک مسلماں ہوں تو ہوگی تیّار ہر دور میں ایک کربلا میرے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ اے میرے جاں فگار دل! اے بے قرار دِل! ہر لحظہ خود نمائی ٔدُنیا سے منفعِل تجھ سے تو خوش نصیب ہے پتھر کی ایک سِل اُٹھی ہے کس خمیرسے تیری یہ آب و گِل دھڑکن ترے وجود کی دم ساز ہے تجھے ماتم لہو کا حلقۂ آواز ہے تجھے جب جانتا ہے عالمِ ہستی کو تو سراب یوںہی نہیں ہے یہ…
Read Moreسلام….. ڈاکٹر خورشید رضوی
نذرانہ سلام بہ حضور شہیدانِ کربلا…. باقی احمد پوری
تہِ ریگ ِ رواں پانی ہے شاید ذرا ٹھہرو یہاں پانی ہے شاید فرات ِ وقت پر پہرے لگے ہیں لہو سے بھی گراں پانی ہے شاید کبھی تھا تخت اس کا پانیوں پر اب اس کا آسماں پانی ہے شاید خدا کا رازداں کوئی نہیں ہے خدا کا رازداں پانی ہے شاید جو سبط ِ ساقی ِ کوثر ہے دیکھو اسی کا امتحاں پانی ہے شاید یہ آتش میں گھرے خیمے، یہ آہیں سکینہ کی فغاں پانی ہے شاید ستم کی داستاں یہ بھی سناتا کہے کیا بے زباں…
Read Moreجلیل عالی
خونِ شبیر سے روشن ہیں زمانوں کے چراغ شِمر نسلوں کی ملامت کا دھواں لایا ہے
Read Moreقرطاس، شجاع آباد: اشاعتِ خاص: بیاد محمد یسین خاں ثاقب
قرطاس۔شجاع آباد۔ اشاعتِ خاص بیاد محمد یسین خان ثاقب Download
Read Moreرقص ۔۔۔۔۔ راجیندر منچندا بانی
ناچ، ہاں ناچ کہ ہر شورش و ہنگامہ پر پھیل جائے تری جھن جھن کاحسیں پیراہن ناچ، ہاں ناچ کہ سینے میں ترے ایک موتی کی طرح راز زمانے کا سمٹ کر رہ جائے بازوئوں کو کبھی ہونے دے دراز جمع کرنے دے خد و خال کبھی اپنی حسیں آنکھوں کو فرشِ آواز پہ رکھ اپنے پُراسرار قدم اور چمکتے ہوئے سنگیت کا جاود پی جا! ناچ صد نشۂّ شادابی سے ناچتی جا اسی مستی میں کہ تو ایک کنول بن جائے اور تجھ کو کسی تالاب کے سینے میں اُتار…
Read Moreکارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد :26, شمارہ: 9
Download کارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد 26, شمارہ 9
Read More