خالد احمد

کوئی ستم نیا نہیں ، کوئی کرم نیا نہیں مرکزِ التفات بھی ، جاں ، ہدفِ خدنگ بھی

Read More

صابر ظفر

ہزار سانحے پردیس میں گزرتے ہیں جو ہو سکے تو ذرا ہم سے رابطہ رکھنا

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ آصف ثاقب

نعتؐ ۔۔۔۔۔ قلم کی نسبتیں کتنی بڑی ہیں بہت ہی پیار سے نعتیں لکھی ہیں بڑے چھوٹے یہ پاکستان والے محمدؐ نام کے عاشق سبھی ہیں مدینے کے ہیں نغمے سوز والے غزل کی بھی غنائیں مدھ بھری ہیں مدینے سے سبق ہم کو ملا ہے روانِ رہگزارِ زندگی ہیں محمدؐ نے یہ بخشے ہیں اجالے جو ہم دامن کشائے آگہی ہیں عقیدت کے مناظر ہیں سنہرے ہماے سامنے صدیاں کھڑی ہیں محبت یہ مدینے سے ملی ہے جو اپنے غم رہینِ شاعری ہیں دعا، آداب، آنسو، شوق ثاقب نبیؐ…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ دُھن اس کی دن رات ضروری ورنہ بات ادھوری

دُھن اس کی دن رات ضروری ورنہ بات ادھوری اس کے نام حیات ضروری ورنہ بات ادھوری واجب ہے آگے آگے لہرانا خواب پھریرا رکھنی پیچھے ذات ضروری ورنہ بات ادھوری اندر باہر ایک نہیں تو لیکھ لکھیں خود کیسے پاس ہو یہ سوغات ضروری ورنہ بات ادھوری سہل نہیں اِن دشمن رستوں شوق سفر ہو پورا اپنے رُخ بھی گھات ضروری ورنہ بات ادھوری ہمراہی ہونے سے منزل ایک نہیں ہو جاتی دل سے دل کا ساتھ ضروری ورنہ بات ادھوری سبز رتوں کی شادابی ہر گوشۂ باغ تک…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ ملتی ہے اس طرح بھی محبت کبھی کبھی

ملتی ہے اس طرح بھی محبت کبھی کبھی ہوتی ہے اپنے بخت پہ حیرت کبھی کبھی ہم جانتے ہیں عشق سفر عمر بھر کا ہے تیرے لیے سہی یہ مسافت کبھی کبھی تکتے ہیں آئنہ ترے ہاتھوں میں رشک سے جن کو بہم ہے دید کی مہلت کبھی کبھی تسلیم انحصار ترا کوہ پر مگر پڑتی ہے کاہ کی بھی ضرورت کبھی کبھی پہلی نوازشوں کو بھلانا روا نہیں ہو بھی اگر کسی سے شکایت کبھی کبھی چھپنا اسی سے، چاہنا بھی جس کے سامنے کھلتی نہیں جمال کی حکمت…

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ دو غزلہ ۔۔۔ سَو راستے ہیں پیشِ نظر کائنات میں

سَو راستے ہیں پیشِ نظر کائنات میں جائے تو کوئی جائے کدھر کائنات میں یہ شش جہات میں مِری پہلی اڑان ہے کھولے ہیں پہلی مرتبہ پر کائنات میں ہے کائناتی گرد اڑائی ہوئی مری اتنا رہا ہوں گرمِ سفر کائنات میں تیری نگہ سے ہوتی ہوئی دل میں آئی تھی دل سے نکل کے پھیلی خبر کائنات میں سیّارگی ستارگی سے فیض یاب ہے روشن ہے تجھ سے میری سحر کائنات میں جس کی جڑیں زمین میں، شاخیں فلک میں ہیں غم ہے وہ ارتقائی شجر کائنات میں بے…

Read More

عبیداللہ علیم

کہاں شکست ہوئی اور کہاں صلہ پایا کسی کا عشق کسی سے نباہتا تھا میں

Read More

اسلام عظمی ۔۔۔ اقرار بھی ہے پہلے سی وحشت نہیں رہی

اقرار بھی ہے پہلے سی وحشت نہیں رہی دل پارسا رہے گا ‘ ضمانت نہیں رہی یہ شہر اِک فریب میں پھر مبتلا ہوا کچھ خواب اور کوئی بشارت نہیں رہی کیا کیا فریب کھائے ہیں ہم جیسے سادہ دِل پہلے کے جیسی خود سے قرابت نہیں رہی بے نام سا اُجاڑ ہے اور نامرادیاں رنج ایسے ایسے آنکھ میں حیرت نہیں رہی اے رنجِ رایگاں نیا اِک دشت ڈھونڈلے ’’دل میں غبار ہونے کی طاقت نہیں رہی‘‘ سورج تو جل رہا ہے اُسی آن بان سے پہلے کے جیسی…

Read More

ارشد نعیم ۔۔۔ پو پھوٹے تو چلنے کی تیاری کرتا ہوں

پو پھوٹے تو چلنے کی تیاری کرتا ہوں ایک سفر ہے جس کو خود پر طاری کرتا ہوں پہلے اس کے دل میں درد کا شہر بساتا ہوں اور پھر اس میں اپنا سکہ جاری کرتا ہوں جانے کس کی یاد میں آنکھیں روشن رہتی ہیں جانے کس کے ہجر میں شب بیداری کرتا ہوں خود ہی کر لیتا ہوں پہلے قتل محبت کو اور پھر خود ہی بیٹھ کے گریہ زاری کرتا ہوں روز اسے آنکھوں میں بھر کر روز گراتا ہوں اکثر یوں بھی اپنی دل آزاری کرتا…

Read More

شعیب عدن ۔۔۔ مجھے پتا ہے کہ رستہ کدھر تمام ہوا

مجھے پتا ہے کہ رستہ کدھر تمام ہوا ترا بھلا ہو کہ میرا سفر تمام ہوا دلوں کو زنگ لگا ہے فراق شیشوں کو عجیب کارِ کثافت میں گھر تمام ہوا بلا سے اب کوئی آئے اُٹھا کے لے جائے کہ شاہزادی کے اندر کا ڈر تمام ہوا محبتوں کو بھی دیمک سی کھا رہی ہے عدن محل تمام ہوا تھا ، ہنر تمام ہوا

Read More