نعتؐ ۔۔۔ محمد یٰسین قمر

نعتؐ خوب ہے کھلی قسمت بے ثبات لفظوں کی ڈھل گئی درودوں میں صوتیات لفظوں کی اُن ؐ کے علم و حکمت کی اک گرہ نہ کھل پائے ہو اگرچہ دامن میں کائنات لفظوں کی ذکر جب بھی ہوتا ہے حسنِ ماہِ طیبہ کا نور بیز ہوتی ہیں شش جہات لفظوں کی معجزہ نظر آئے لفظ لفظ آقاؐ کا چھیڑتے ہیں اہلِ فن جب بھی بات لفظوں کی بارگاہِ مدحت ہے اور میں فرومایہ کاش! کچھ سمجھ پاؤں رمزیات لفظوں کی یہ تو سوز ہے دل کا، جاں بھی ہے…

Read More

مرزا آصف رسول ۔۔۔ آئینۂ صفات حق

آئینۂ صفاتِ حق ان سے وفا کی ابتدا صل علی محمدٍ ان پہ وفا کی انتہا صل علی محمدٍ صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنَا پڑھ دل و جاں سے وہ درود گونجے افق افق صدا صل علی محمدٍ عشق کے ماسِوا ہے کیا ؟ عشق سے بھی سَوا ہے کیا ؟ سب نہیں اس میں کیوں سَوا صل علی محمدٍ ہم تھے عدم میں کالعدم ، ان پہ درود کے لئے لائی وجود میں قضا صل علی محمدٍ ان پہ درود القلم ، ان پہ درود الکتاب ان پہ درود الھدیٰ صل…

Read More

خالد احمد

زندگی کے دکھ ازل سے زندگی کے ساتھ ہیں لوگ فانی ہیں مگر لوگوں کے دکھ فانی نہیں

Read More

افتخار شاہد ۔۔۔ اب تو سنتا ہی نہیں یار دہائی دل کی

اب تو سنتا ہی نہیں یار دہائی دل کی پہلے کہتا تھا کہ ممکن ہے رہائی دل کی مرے ہونٹوں کے دمکتے ہوئے چھالے دیکھو میں نے ہونٹوں میں ذرا دیر، دبائی دل کی اب وہ خوابوں پہ بھی اپنا ہی تسلط چاہے جس کو بخشی تھی کبھی میں نے خدائی دل کی اپنے جذبات کو شعروں میں پرو دیتا ہوں خرچ کرتا ہوں میں ایسے بھی کمائی دل کی ورنہ اس شخص کی آنکھیں بھی تو جا سکتی تھیں میں نے حالت ہی نہیں اس کو دکھائی دل کی…

Read More

محسن اسرار ۔۔۔ پرائے دکھ بھی اپنے ہو گئے ہیں

پرائے دکھ بھی اپنے ہو گئے ہیں سبھی رنگ ایک جیسے ہو گئے ہیں گزرتے ہی نہیں لمحوں کی صورت نہ جانے کیسے لمحے ہو گئے ہیں لکھی ابلیس نے جھوٹی کہانی مگر کردار سچے ہو گئے ہیں بہت احسن طریقے سے بنے تھے مگر ہم لوگ کیسے ہو گئے ہیں عجب دیوار ہے ہستی ہماری دریچے ہی دریچے ہو گئے ہیں مگر اب تو ہمارے روز و شب بھی عدالت کے کٹہرے ہو گئے ہیں پیامی کو قضا نے آ لیا ہے ! کبوتر ، باز جیسے ہو گئے…

Read More

سید ریاض حسین زیدی ۔۔۔۔ رات آئی ہے ، سحر کی سوچیں

غزل (خالد احمد کی نذر) ۔۔۔۔۔۔ رات آئی ہے ، سحر کی سوچیں ہم اُجالے کے سفر کی سوچیں عزم ہی خوف و خطر سے گزرے وسعتِ حدِّ نظر کی سوچیں روشنی دل میں اُترتی جائے رَوِشِ شمس و قمر کی سوچیں جس میں حد ہے ، نہ قرینہ، نہ لحاظ نارسائی سے حَذَر کی سوچیں مستقل بادیہ پیمائی کیا کبھی یکسوئی سے گھر کی سوچیں بے ثمر پیڑ ہوا ہے کیوں کر! کسی شاداب ہُنَر کی سوچیں منہدم ہو گی عمارت ساری پختہ دیوار کی ، در کی سوچیں…

Read More

رحمان حفیظ ۔۔۔ صحرا بھی کیا کمال دکھاتا ہے دُ ھوپ میں

صحرا بھی کیا کمال دکھاتا ہے دُ ھوپ میں ذرّہ تک آئنہ نظر آتاہے دُھوپ میں شب بھر میں آسمان کی صُورت بدل گئی تب کیا تھا اور کیا نظر آتا ہے دُھوپ میں آنکھوں کی پُتلیاں جو سمٹتی ہیں دم بدم صحرا کُچھ اور پھیلتا جاتا ہے دُھوپ میں اندر کی آنکھ سے نظر آتا ہے صاف صاف چھپ کے جو عکس رینگتا جاتا ہے دُھوپ میں مجھ میں مِرے سوا بھی کسی کا پڑاؤ ہے یہ جو کبھی جدا نظر آتا ہے دھوپ میں اے دوست ! اس…

Read More

علی حسین عابدی ۔۔۔ جو ایک بار بھی مجھ سے کبھی ملا نہیں تھا

جو ایک بار بھی مجھ سے کبھی ملا نہیں تھا سوائے اس کے مرا کوئی آشنا نہیں تھا میں جی رہا تھا حیات و ممات کے مابین فریبِ خواہشِ دنیا میں مبتلا نہیں تھا میں جانتا ہوں پرستش نہیں ہوئی اس کی اگرچہ عشق تھا لیکن مرا خدا نہیں تھا سکوت توڑ کے رختِ سفر اُٹھا کے چلا بیانِ مرگ مطالب سے ماورا نہیں تھا ستم شعار نے دامن بھی تار تار کیا ابھی تو چاک گریبان کا سلا نہیں تھا بس ایک در پہ گزاری گئی حیات کہ اب…

Read More

سجاد بلوچ ۔۔۔ دشتِ وحشت میں دروبام کے خط آتے ہیں

دشتِ وحشت میں دروبام کے خط آتے ہیں اس خرابے میں بھی آرام کے خط آتے ہیں اب وہ دل دار بھی لکھتا ہے نصیحت نامے مجھ سے ناکام کو کب کام کے خط آتے ہیں کوئے رسوائی کے اڑتے ہیں کبوتر اب تک کنجِ عزلت میں بھی الزام کے خط آتے ہیں سارا دن دھوپ میں اندیشۂ شب رہتا ہے میری صبحوں کو کسی شام کے خط آتے ہیں اب لفافے سے نکلتی نہیں کوئی خوشبو اب بھی آتے ہیں مگر نام کے خط آتے ہیں نقش ہوتا ہے…

Read More

آسناتھ کنول ۔۔۔ زندگی زندگی میں ڈھلنے لگی

زندگی زندگی میں ڈھلنے لگی روشنی ساتھ ساتھ چلنے لگی رات ٹھہری نہیں ہے رستے میں وقت کی گرد باد چلنے لگی اک کہانی ہے خواب کے اندر غم کی صورت کہیں بہلنے گی آسماں پر تغیرات کی دھند پھر زمیں رُخ کوئی بدلنے لگی رات کی بے کنار وسعت میں اک صدا پھر فغاں میں ڈھلنے لگی دل کو تشکیک سے نکالے کوئی جان میں بے کلی سنبھلنے لگی آس پلکیں دھواں دھواں کیوں ہیں زیست کیوں راستے بدلنے لگی

Read More