طارق جاوید ۔۔۔ دل سے دنیا نکال کر مرے دوست

دل سے دنیا نکال کر مرے دوست پھر تو مجھ سے سوال کر مرے دوست دیکھ میری جبیں پہ لب رکھ دے میری سانسیں بحال کر مرے دوست عین ممکن ہے کام آ جاؤں رکھ لے مجھ کو سنبھال کر مرے دوست ایک درویش ہنستا جاتا ہے اپنا کاسہ اچھال کر مرے دوست دل کے مفتی سے لا کوئی فتوا ہجر مجھ پر حلال کر مرے دوست

Read More

زعیم رشید ۔۔۔ بلوغت کی ایک نظم

کھل جاسم سم کھل جاسم سم…. کھل جاسم سم کہنے سے بھی غار دہانہ کب کھلتا ہے! میں نے اپنے تشنہ، ترسے گرم لبوں سے نیند کے ماتے تن پر ہلکے ہلکے دستک دی تو کوئی نہیں تھا کنڈلی مار کے بیٹھی دھوپ سے خود کو ڈسوانے کی لذت اب شہوت میں بدل گئی تھی جسم کی وحشت الماری میں اِک ہینگر سے لٹک رہی تھی اس کھڑکی کی انگڑائی میں ایک خزانہ دہک رہا تھا ایک برہنہ مست کنواری خواہش تھی جو اب دو مونہی ناگن بن کرپھن پھیلائے…

Read More

آنس معین

میں چاہتا ہوں ٹھہر جائے چشمِ دریا میں لرزتا عکس تمہارا بھی میرا سایا بھی

Read More

محمد نور آسی ۔۔۔ شورکیسا ہے دل کی جھانجھر میں

شورکیسا ہے دل کی جھانجھر میں جانے کیا چل رہا ہے بھیتر میں کیسے کہہ دوں کہ میں اکیلا تھا کوئی چلتا رہا برابر میں جب تلک پاؤں پانیوں میں رہے آگ جلتی رہی سمندر میں شب ابھی اور کتنی باقی ہے کروٹیں سوچتی ہیں بستر میں اک توجہ کا آسماں پاکر کیا اڑانیں ہیں دل کبوتر میں عکس معکوس ہوگئے سارے آئنے کھو گئے تھے منظر میں عمر بھر جاپنے کے بعد کھلا کوئی انتر نہیں تھا منتر میں اب وہ کنکر بنے ہیں گلیوں کے پھول رہتے تھے…

Read More

امر مہکی ۔۔۔ کسی ستارے سا تابندہ ہونا چاہتا ہوں

کسی ستارے سا تابندہ ہونا چاہتا ہوں میں روشنی کا نمائندہ ہونا چاہتا ہوں میں اپنی ذات کے مدفن میں دفن ہوں کب کا کسی طلسم سے پھر زندہ ہونا چاہتا ہوں ہر ایک لمحہ ترا مجھ کو سوچتے گزرے میں تیرے دھیان میں پائندہ ہونا چاہتا ہوں بھلائی کیا کی کہ اُلٹا گناہ لازم ہے میں ایسی نیکی پہ شرمندہ ہونا چاہتا ہوں خدا کا شکر ہے واعظ کہ پارسائی میں تری طرح ہوں نہ آئندہ ہونا چاہتا ہوں قدم قدم پہ ملے لطف منزلوں سا امر میں ایسی…

Read More

واجد امیر ۔۔۔ کیوں ساتھ ہی پھرتی ہے پریشانی ہماری

کیوں ساتھ ہی پھرتی ہے پریشانی ہماری کس نے اسے سونپی ہے نگہبانی ہماری سجدوں سے لپٹتی ہوئی پیشانی ہماری پلکوں سے گراتی ہے پشیمانی ہماری دیکھا نہ کبھی ہم ہیں یہیں پاس تمہارے دیکھی نہ کبھی چاک گریبانی ہماری کچھ لوگ محبت سے ہمیں دیکھ رہے ہیں اک پَل کو سہی، ہے تویہ سلطانی ہماری منظر کوئی میعارِ نظر تک نہیں پہنچا آنکھوں میں پڑی رہ گئی حیرانی ہماری اِک سانس کی بھی خودسے رعایت نہیں کرنی ہم پر ہی نہ چڑھ دوڑے یہ طغیانی ہماری سب عقل دھری…

Read More

بیدل حیدری

بھوک پیچھے پڑ گئی ہے ہاتھ دھو کر اور بھی پیٹ سے باندھو مرے دو چار پتھر اور بھی

Read More

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ حسنین مظہری

یاد جس وقت در و بامِ حرم آتے ہیں کتنے ہی اشک پسِ دیدۂ نم آتے ہیں یہ مدینہ ہے شہِ ارض و سما کی بستی چین کرنے کو یہاں سوختہ دم آتے ہیں ہوگئے دیکھتے ہی حلقہ بہ گوشِ اسلام وہ جو ہاتھوں میں لیے تیغِ دو دم آتے ہیں جب بھی مشکل میں پکاروں کہ کوئی ہے میرا دفعتاً آتی ہے آواز کہ ہم آتے ہیں ماہ وخورشید شب و روز سرِ بامِ حرم بہرِ دیدارِ شہنشاہِ اُمم آتے ہیں ایک لمحے میں اتر جاتی ہے صدیوں کی…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ نظر کے زخم جِگر تک اُتر گئے ہوں گے

نظر کے زخم جِگر تک اُتر گئے ہوں گے تُو آئے گا تو دکھی لوگ مر گئے ہوں گے شکست خُوردہ و دامن بہ ریزہ آہ بلب ہم ایسے اہلِ وفا کام کر گئے ہوں گے وہ اِس گماں پہ کوئی تازہ زخم دے جاتے پُرانے زخم جِگر کے تو بھر گئے ہوں گے ہَوائیں تیز چلیں گی تو طاقِ جاں میں رہے حیات و موت کی چوکھٹ پہ ڈر گئے ہوں گے وہی ہے آج بھی میرے چمن کی وِیرانی زمانے بھر کے خرابے سنور گئے ہوں گے مِلا…

Read More

فرحت پروین ۔۔۔ تمھارے چار سو میں ہوں

’’کبوتر کے پروں پر لکھ کے جو پیغام بھیجا تھا ملا تم کو؟‘‘ ابھی تو رنگ بھرنے تھے بہت سے میں نے لفظوں میں بھلا بیٹھی جو عجلت میں سو تتلی کو روانہ کر دیا ہے اس تعاقب میں مگر پھر ناگہاں دل میں خیال آیا مرا سوزِ دروں شاید عیاں پھر بھی نہ ہو پائے تمہاری سمت اب محوِ سفر ہے ایک بلبل بھی مگر وہ ہوک جو رہ رہ کے اٹھتی ہے مرے دل سے تڑپ اس کی سما پائے گی کیا بلبل کے نغمے میں سو لازم…

Read More