سید آل احمد

کتنے سموں کے شعلوں پر اک خواب جلے کتنی یادیں سر پھوڑیں دروازے سے

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے

ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے جن سے امید تھی اور آگ لگانے آئے درد مندوں کی یوں ہی کرتے ہیں ہمدردی لوگ خوب ہنس ہنس کے ہمیں آپ رلانے آئے خط میں لکھتے ہیں کہ فرصت نہیں آنے کی ہمیں اس کا مطلب تو یہ ہے کوئی منانے آئے آنکھ نیچی نہ ہوئی بزمِ عدو میں جا کر یہ ڈھٹائی کہ نظر ہم سے ملانے آئے طعنے بے صبر یوں کے ہائے تشفی کے عوض اور دکھتے ہوئے دل کو وہ دکھانے آئے اور تو سب کے…

Read More

شاہین عباس

میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوں تیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کو ئی

Read More

شاہین عباس

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا

Read More

نجیب احمد

میں تو گھر سے کبھی نہیں نکلا کس کا نقشِ قدم ہے چار طرف

Read More

اکبر الہ آبادی

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے

تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو ازسرِ نو…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں

پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں قارون ہیں جو، زر کی توقّع ہو اُن سے کیا ایسوں پہ اِس قبیل کا دھوکا ہمیں ہو کیوں بے فیض رہبروں سے مرتّب جو ہو چلی احوال کی وہ شکل، گوارا ہمیں ہو کیوں ملتی ہے کج روؤں کو نفاذِ ستم پہ جو ایسی سزا کا ہو بھی تو خدشہ ہمیں ہو کیوں رکھیں نمو کی آس بھلا کیوں چٹان سے ایسوں سے اِس طرح کا تقاضا ہمیں ہو کیوں ہم…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی

مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی مشیت اے بتو، اللہ کی خالی نہیں ہوتی خدائی تم نہ کر لیتے اگر دنیا حسیں ہوتی پسِ مردن مجھے تڑپانے والے دل یہ بہتر تھا تری تربت کہیں ہوتی مری تربت کہیں ہوتی اثر ہے کس قدر قاتل تری نیچی نگاہوں کا شکایت تک خدا کے سامنے مجھ سے نہیں ہوتی ہمیشہ کا تعلق اور اس پر غیر کی محفل یہاں تو پردہ پوشِ چشمِ گریاں آستیں ہوتی نہ رو اے بلبلِ…

Read More

قابل اجمیری

زمانہ کھیل رہا ہے تمہاری زلفوں سے ہمارے حالِ پریشاں کی بات کون کرے

Read More