جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا کریدتے ہو جو اب راکھ ، جستجو کیا ہے
Read MoreMonth: 2020 مارچ
احمد مشتاق ۔۔۔۔۔ یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب
یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مرے لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک نہ گئے مگر قریب سے گزرے ہیں بارہا مرے لب اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مرے کان بے نوا مرے لب یہ شاخسانۂ وہم و گمان تھا شاید کجا وہ ثمرۂ باغِ طلب کجا مرے لب
Read Moreیہ میری غزلیں، یہ میری نظمیں ۔۔۔۔ احمد فراز
یہ میری غزلیں، یہ میری نظمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میری غزلیں، یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں یہ شعر تیری شکایتیں ہیں میں سب تری نذر کر رہا ہوں یہ اُن زمانوں کی ساعتیں ہیں جو زندگی کے نئے سفر میں تجھے کسی وقت یاد آئیں تو ایک اک حرف جی اُٹھے گا پہن کے انفاس کی قبائیں اُداس تنہائیوں کے لمحوں میں ناچ اُٹھیں گی اپسرائیں مجھے ترے درد کے علاوہ بھی اور دکھ تھے یہ مانتا ہوں ہزار غم تھے جو زندگی…
Read Moreشاہد ماکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رُکے ہوئے وقت کو رواں کر دیا گیا ہے
رُکے ہوئے وقت کو رواں کر دیا گیا ہے بالآخر ازلوں کا دُکھ بیاں کر دیا گیا ہے فلک کی جانب گیا زمیں کا غبار سارا مری دھنک کو دُھواں دُھواں کر دیا گیا ہے مزید آسان ہو گئی ہے رسائی رُخ تک حجاب ایک اور درمیاں کر دیا گیا ہے وہ شعلہ جس سے میں اپنی راتیں اُجالتا تھا اب اُس کا ہونا بھی رایگاں کر دیا گیا ہے میں آنکھ سے دل میں لے گیا ہوں شبیہ اُس کی جو شے عیاں تھی، اُسے نہاں کر دیا گیا…
Read Moreبازگشت ۔۔۔۔ منیر نیازی
بازگشت ۔۔۔۔۔۔ یہ صدا یہ صدائے بازگشت بے کراں وسعت کی آوارہ پری سُست رو جھیلوں کے پار نم زدہ پیڑوں کے پھیلے بازئوں کے آس پاس ایک غم دیدہ پرند گیت گاتا ہے مری ویران شاموں کے لیے
Read Moreشیخ غلام ہمدانی مصحفی
جوں جوں کہ پڑیں منہ پہ ترے مینہ کی بوندیں جوں لالہء تر حسن ترا اور بھی چمکا
Read Moreحبیب الرحمان مشتاق ۔۔۔۔۔۔ خموشیوں کی کسی بھی صورت لحاظ داری نہیں کرینگے
خموشیوں کی کسی بھی صورت لحاظ داری نہیں کرینگے ہم اپنے کمرے کے منظروں پر سکوت طاری نہیں کرینگے پڑی ضرورت تو اپنے سر کو اتار پھینکیں گے راستے میں سفر میں شانوں کے بوجھ کو ہم زیادہ بھاری نہیں کرینگے اب ایک ماتم ہے اِس کنارے اور ایک ماتم ہے اُس کنارے اگرچہ طے یہ ہوا تھا بچھڑے تو آہ و زاری نہیں کرینگے سخن سرائی میں اپنے پُرکھوں کی ہم روایت کے ہیں محافظ سنیں گے طعنے ہر اک کے لیکن زباں کو آری نہیں کرینگے ہماری خلوت…
Read Moreکراچی کے لیے ….. ڈاکٹر توصیف تبسم
کراچی کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمندر کا پانی تو نیلا ہے اس میں سیاہی نہ گھولو کہو یہ جو قدرت نے ہم کو خزانے دیے ہیں، ہمارے لیے ہیں مہکتی ہوا، لہلہاتی ہوئی خوشبوئوں سے لدی سانس لیتی زمیں اور زمیں پر پھلوں اور پھولوں سے جھکتی ہوئی شاخ کتنی حسیں ہے! اسے کاٹتے ہو، مگر یہ تو دیکھو! یہیں سے نئی شاخ پھوٹی ہے جس میں سبھی آنے والی رُتوں کی مسافت چھپی ہے انھیں گلتے سڑتے بدن کے تعفن سے، لحظہ بہ لحظہ الگ ہوتے اعضا کی مٹّی سے…
Read Moreقائم چاند پوری
دل گنوانا تھا اس طرح قائم کیا کیا تو نے ہائے خانہ خراب!
Read More