باقی احمد پوری ۔۔۔ سرد رت کی اداس تنہائی

سرد رت کی اداس تنہائی بے سبب رنج ، یاس، تنہائی اور کوئی نہیں ہے کوئی نہیں صرف ہے غم شناس تنہائی زرد موسم میں خوب پھلتے ہیں پیلی سرسوں، کپاس، تنہائی سالِ نو میں عروج پر ہوں گے ظلم ، خوف و ہراس ، تنہائی یاد آتی ہیں جھیل سی آنکھیں بڑھتی جاتی ہے پیاس تنہائی گرتے پتے شجر سے کہتے ہیں اب ہے تیرا لباس تنہائی دور جاتی نہیں مرے دل سے ہے یہیں آس پاس تنہائی جانے کب سے لگائے بیٹھی ہے تیرے ملنے کی آس ،…

Read More

سعید راجہ ۔۔۔ جب ترے دل کی پناہوں میں سمٹ کر دیکھوں

جب ترے دل کی پناہوں میں سمٹ کر دیکھوں چاہتا ہوں کہ تجھے دنیا سے کٹ کر دیکھوں منتظر ہو گا سرِ راہِ تمنا کوئی میں اگر دید کی دنیاؤں سے ہٹ کر دیکھوں دل اسی طور لگاتا رہا آواز اگر عین ممکن ہے کسی روز پلٹ کر دیکھوں کچھ رعایت نہ کوئی رحم نہ جانبداری تم جو چاہو تو میں خود سے بھی نپٹ کر دیکھوں میرے ہونے کی کوئی اس میں نشانی ہو گی ایک دن وقت کی زنبیل الٹ کر دیکھوں اے مرے عکس! تو آئینے سے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید فرخ رضا ترمذی

سرکار کا کرم ہے جو بارانِ نعت ہے مولا تری عطا سے ہی فیضانِ نعت ہے ہر سمت تیرے نور کے جلوے نگاہ میں "ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے” تیرا وجود مرکز و محور ہے خیر کا تیرا کلامِ نور ہی سامانِ نعت ہے ذکرِ حبیب کرتے ہیں عشاق ہر گھڑی ان کی زباں پہ ذکر بھی شایانِ نعت ہے پتھر بدست لوگوں کے حق میں تری دعا طائف کا سارا واقعہ خاصانِ نعت ہے سجدہ طویل کرکے نواسے کے واسطے سب کو دکھا دیا کہ یہ ریحانِ…

Read More

قمر نیاز ۔۔۔ کہ بے گھری میں ٹھکانہ دکھا کے مار دیا

کہ بے گھری میں ٹھکانہ دکھا کے مار دیا خلا نورد کو سبزہ دکھا کے مار دیا مواحدوں سے لڑائی نہیں محبت تھی روایتوں کا وسیلہ دکھا کے مار دیا کسی نے جھیل میں رکھا قدم تو مکتی ملی شعاعِ حسن نے دریا دکھا کے مار دیا جمالِ یار کے رستے پہ چل رہا تھا میں جمالِ یار نے رستہ دکھا کے مار دیا کسی کی کشتی ڈبو دی ڈبونے والے نے کسی کو تو نے سفینہ دکھا کے مار دیا تمھیں تو وصل سے بخشی ہے زندگی اس نے…

Read More

خالد احمد ۔۔۔ گم راہ بھی ہم کبھی رہے ہیں

گم راہ بھی ہم کبھی رہے ہیں اس فخر میں کچھ عجب نشے ہیں ہم پر نہ چلے گا بس تمہارا ہم لوگ یہ جنگ لڑ چکے ہیں کب ظلم ہوا کے ختم ہوں گے پرَ کھول کے خاک ہو گئے ہیں ہر گام ہے مرحلوں کی منزل یک رنگ تمام راستے ہیں مرنے کے بھی ان گنت بہانے جینے کو بھی لاکھ مسئلے ہیں اک رو میں ، ہیں رہروانِ دنیا کچھ دیکھتے ہیں نہ سوچتے ہیں ہر آن‘ کچھ آہٹوں سی خوشبو ہر چاپ‘ گلاب سے کھلے ہیں…

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ ہمیشگی سے تعارف کرایا جا چکا ہے

ہمیشگی سے تعارف کرایا جا چکا ہے ہَوا پہ نقش بنا کر دکھایا جا چکا ہے بَھرا نہ تھا ابھی پہلے قدم کا خمیازہ کہ اس سے اگلا قدم بھی اٹھایا جا چکا ہے درخت اوّلیں انساں کی راہ دیکھتے ہیں زمیں کو رہنے کے قابل بنایا جا چکا ہے نتیجہ سامنے آ جائے گا کوئی دن میں نئی کہانی کا خاکہ بنایا جا چکا ہے نشستیں خالی کریں ناظرینِ نَو کے لیے کہ آپ کو تو تماشا دکھایا جا چکا ہے سمجھ میں آئیں گی تحقیق سے کئی باتیں…

Read More

راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ میں نے قسمت کو آزمایا تھا

میں نے قسمت کو آزمایا تھا وہ مری زندگی میں آیا تھا میں نے اپنا سمجھ لیا تجھ کو تو جو اپنا نہیں پرایا تھا اس کے دل میں تھا کوئی پہلے سے جس کسی سے بھی دل لگایا تھا ساتھ تیرے رہا جو برسوں سے میں نہیں تھا وہ میرا سایہ تھا خواب میں اک خیال تھا شاید اس نے جیسے گلے لگایا تھا میرے آنگن میں پھول کھلتے گئے وہ جو بھولے سے مسکرایا تھا روشنی میں جو میرے ساتھ رہا میں تھا‘ تو تھا یا میرا سایہ…

Read More