گزریں گے ہر مقام سے مہتاب تھام کے جلتے ہیں جن کے دل میں چراغ اُنؐ کے نام کے وردِ زباں ہے اسمِ مبارک حضورؐ کا موسم بدل گئے ہیں مِرے صبح و شام کے کھُلتی گئیں زمان و مکاں کی بھی سلوٹیں فیضان ہیں اُنہیؐ کے یہ حسنِ کلام کے سارے گھروں میں ایک وہ گھر ہے رسولؐ کا سیکھا زمانہ جس سے ہنر احترام کے ذرّوں سے پھوٹتے ہیں : مہک ، رنگ ، روشنی کیا سلسلے ہیں گنبد و دیوار و بام کے شہرِ مدینہ مرجعِ عالم…
Read MoreCategory: نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
تابش کمال ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
میرا اعزاز و اِفتخار دُرود میرے سرکارؐ! بے شمار دُرود اسمِ احمدؐ! ہزار جاں قُرباں جسمِ احمدؐ! ہزار بار دُرود صحنِ جاں میں گُلاب کیوں نہ کِھلیں پڑھ رہی ہے یہاں بہار دُرود اس لیے سر جھکائے رکھتا ہوں بن گیا ہے گلے کا ہار دُرود آلِ اطہر پہ بے حِساب سلام ذاتِ اَقدسؐ پہ صد ہزار دُرود خون میں، روح میں ہے تابندہ وجہِ تسکینِ دِل ، قرار ، دُرود نعت لکھتے ہیں عشق سے عُشّاق دل سے پڑھتے ہیں جاں نِثار دُرود کوئی پوچھے دَوائے دِل تابش اس…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ خالد احمد
نعت تو نے ہر شخص کی تقدیر میں عزت لکھی آخری خطبے کی صورت میں وصیت لکھی تو نے کچلے ہوئے لوگوں کا شرف لوٹایا عدل کے ساتھ ہی احسان کی دولت لکھی سرحدِ رنگ بہ عنوانِ اخوت ڈھائی ورقِ دہر پہ ہر سطر محبت لکھی تو نے ہر ذرے کو سورج سے ہم آہنگ کیا تو نے ہر قطرے میں اِک بحر کی وُسعت لکھی حسنِ آخر نے کیا حسن کو آخر تجھ پر آخری رُوپ دیا، آخری سورت لکھی تیرے اوصاف فقط تجھ سے بیاں ہوتے ہیں نعت…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عقیل رحمانی
لے کے آئی صبا مدینے سے نور کا اک دیا مدینے سے مہک آئی ہے پھر مدینے کی کوئی آیا ہے کیا مدینے سے؟ چادرِ گمرہی میں لپٹا ہوا ہو گیا پارسا مدینے سے جان آنکھوں میں سب سمٹ آئی جب ہوئے ہم جُدا مدینے سے ہو رہی ہے جو نور کی بارش آئی ہے یہ گھٹا مدینے سے مل گئے فاطمہؓ ، حسینؓ و حسنؓ اور مشکل کشا مدینے سے پہنچی بابِ قبول تک فوراً جو بھی مانگی دعا مدینے سے جیسے گل سے نکلتی ہو خوشبو یوں ہوئے…
Read Moreفکرِ نعت صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ خالد علیم
فکرِ نعت ؐ دانائیاں تمام ہوئیں جب جہان سے اُترا نبیؐ کا نطقِ جمیل آسمان سے اِنساں کو دے گیا وہ عجب جاں گدازیاں جو لفظ بھی اَدا ہوا اُن ؐ کی زبان سے جیسے مرے حضورؐ نے کیں پاسبانیاں ممکن ہوئیں نہ اور کسی پاسبان سے سچ ہے، خدا کے بعد مقامات میں عظیم کوئی نہیں ہے میرے پیمبرؐ کی شان سے مدحت کی شاہراہ پہ کیسے رواں ہو فکر موضوع یہ بلند ہے میرے بیان سے لیکن یہ فکر ِ نعت کا ہے معجزہ کہ میں آیا یقیں…
Read Moreنعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ نبیل احمد نبیل
اُنؐ کے ہی لُطف و کرم سے، رہنمائی سے ہوا یہ جہاں روشن جمالِ مصطفائی سے ہوا کُھلتے کُھلتے کُھل گیا مجھ پر درِ خُلدِ بریں معجزہ یہ آپؐ کی مدحت سرائی سے ہوا مجھ فقیرِ رہ گُزر کو ہیچ ہیں تخت و کُلاہ یہ کرم اؐن کا ہے اور اْن کی گدائی سے ہوا اُنؐ کی رحمت جوش میں آ کر مدد کو آ گئی کام مجھ سے بے نوا کا بے نوائی سے ہوا اُن کی رحمت نے سنوارے میرے دُنیا اور دِیں دوجہانوں میں بَھلا ان کی…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ جلیل عالی
مدح کی مشکلوں سے ڈرتے ہیں لفظ اپنی حدوں سے ڈرتے ہیں اے شہِ ثَورؐ ! تیرے دیوانے کب جہاں کے ڈروں سے ڈرتے ہیں حوصلہ بس حِرا سے ملتا ہے جب بھی تنہائیوں سے ڈرتے ہیں تیری دُھن میں سلجھتی جاتی ہیں ہم کہ جن الجھنوں سے ڈرتے ہیں اہلِ باطل کہ کج کلاہِ حرم سب ترےؐ عاشقوں سے ڈرتے ہیں کیسے کیسے شہانِ جاہ و جلال تیرےؐ خستہ تنوں سے ڈرتے ہیں معجزہ ہے کہ اب بھی، شب زادے تیرےؐ روشن دنوں سے ڈرتے ہیں ہم ترےؐ اور…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عبدالرئوف زین
میں دلوں سے تھا سب کے نکالا ہوا ان کی نسبت ملی تو میں اعلیٰ ہوا قرب معراج کی شب ملا آپ کو وصل کا معجزہ تھا ، نرالا ہوا آپ سارے مبارک مجھے دیجیے نعت گوئی مرا اب حوالہ ہوا یہ زمانہ بھٹکتا اندھیروں میں تھا ’’آپ آئے جہاں میں اُجالا ہوا‘‘ آپ کا نام ہی عین دینِ خدا آپ سے دین کا بول بالا ہوا نعتِ خیرالبشر جب کہی شوق سے اوج پر بخت کا پھر ہمالہ ہوا زین کو جب نبی کی محبت ملی زندگی کا مکمل…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اعجاز دانش
نعتؐ ایک مدت سے ہے دل میں آرزوئے مصطفیٰؐ جان و دل سے ہے فزوں تر آبروئے مصطفیٰؐ آپؐ کا فرمان ہے حکم شریعت بالیقیں گویا ہے تفسیر قرآں گفتگوئے مصطفیٰؐ میں تصور میں مدینہ دیکھتا ہوں رات دن میری آنکھوں کا ہے سرمہ خاک کوئے مصطفیٰؐ حال دل ان کو سناؤں گا بصد عجز و نیاز مجھ کو قسمت نے کیا جب روبروئے مصطفیٰؐ کس میں ہمت ہے جو آقاؐ کے مقابل آسکے ہوگئے نابود دنیا سے عدوئے مصطفیٰؐ آپؐ کے دیدار کو آنکھیں ترستی ہیں مری خواب ہی…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ اکرم ناصر
لبوں کو چھو کے جو پانی بنا ہو آبِ حیات اب اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے قندونبات حضور آپ کے رستے سے ہٹ کے کیسے چلوں حضور آپ کا رستہ ہی تو ہے راہِ نجات حضور آپ کی خاطر ہی تو بنائے گئے زمین و آسماں یعنی تمام کائنات حضور آپ ہی کے دین کو ہمیشگی ہے حضور آپ ہی کے دین کے لئے ہے ثبات یہ شہر ، شہرِ مدینہ ہے ، عام شہر نہیں یہاں سکون سے چلتا ہے کاروبارِ حیات
Read More