گھروں میں سوتے سوتے لوگ ہر رات اُٹھنے لگتے ہیں تو آبادی میں کیا کیا انقلابات اُٹھنے لگتے ہیں نہیں اُٹھتے اگر سوئے ہوئے سلطان تو آخر جو قابو میں نہیں آتے وہ حالات اُٹھنے لگتے ہیں جواب آنے میں لگ جاتی ہیں اکثر مدتیں، لیکن جواب آتے ہی سر میں پھر سوالات اُٹھنے لگتے ہیں کوئی صدمہ نہیں اُٹھتا شروعِ عشق میں تاہم بتدریج آدمی سے سارے صدمات اُٹھنے لگتے ہیں شعورؔ اپنے لبوں پر تم خوشی سے مہر لگنے دو دبانے سے تو افکار و خیالات اُٹھنے لگتے…
Read MoreTag: غزلیں
غالب
اَسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے نہاں ہیں نالہء ناقوس میں، درپردہ، ’’یا رب‘‘ ہا
Read Moreسہرا ۔۔۔۔ غالب
سہرا ۔۔۔۔ چرخ تک دُھوم ہے، کس دُھوم سے آیا سہرا چاند کا دائرہ لے، زہرہ نے گایا سہرا جسے کہتے ہیں خوشی، اُس نے بلائیں لے کر کبھی چوما، کبھی آنکھوں سے لگایا سہرا رشک سے لڑتی ہیں، آپس میں اُلجھ کر لڑیاں باندھنے کو جو ترے سر پہ، اُٹھایا سہرا صاف آتی ہیں نظر آبِ گہر کی لہریں جنبشِ بادِ سحر نے جو ہلایا سہرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیوانِ غالب کامل مرتبہ: کالی داس گپتا رضا
Read Moreغالب ۔۔۔ نہ بھولا اضطرابِ دم شماری، انتظار اپنا
نہ بھولا اضطرابِ دم شماری، انتظار اپنا کہ آخر شیشہء ساعت کے کام آیا غبار اپنا زبس آتش نے فصلِ رنگ میں رنگِ دگر پایا چراغِ گُل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا اسیرِ بے زباں ہوں، کاشکے! صیادِ بے پروا بہ دامِ جوہرِ آئینہ، ہو جاوے شکار اپنا مگر ہو مانعِ دامن کشی، ذوقِ خود آرائی ہوا ہے نقش بندِ آئینہ، سنگِ مزار اپنا دریغ! اے ناتوانی! ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے طلسمِ رنگ میں باندھا تھا عہدِ اُستوار اپنا اگر آسودگی ہے مدعائے رنجِ بے تابی…
Read Moreذوالفقار عادل
میز پہ رکھ دیا ہے سر پھول کہاں سے لائیے
Read Moreارشد عباس ذکی …… انہی کو لوگ یہاں محترم سمجھتے ہیں
انہی کو لوگ یہاں محترم سمجھتے ہیں جو بولتے تو زیادہ ہیں، کم سمجھتے ہیں ہماری بات کوئی بھی نہیں سمجھتا کہ ہم زمیں کو آنکھ، سمندر کو نم سمجھتے ہیں ہمارے حال پہ ہے ان دنوں خدا کا کرم اور آپ لوگ خدا کا کرم سمجھتے ہیں گلے لگو تو خبر ہو تمہارے دل میں ہے کیا کہ ہم اشارے نہیں بس ردھم سمجھتے ہیں زمانہ اس لئے ہم کو مٹانا چاہتا ہے کہ ہم حقیقت ِ دیر و حرم سمجھتے ہیں ڈرے ہوئے ہیں کہ کوئی ہمیں نکال…
Read Moreظفر گورکھپوری ۔۔۔۔ دَر سے، دہلیز سے ، دیوار سے پہلے کیا تھا
دَر سے، دہلیز سے ، دیوار سے پہلے کیا تھا غار پہلے تھا مگر غار سے پہلے کیا تھا کل ہمیں اور تمھیں یاد بھی شاید نہ رہے ان مقامات پہ بازار سے پہلے کیا تھا نہ کوئی خوف تھا آندھی کا، نہ برسات کا ڈر گھر فصیلِ در و دیوار سے پہلے کیا تھا نہ یہ رنگوں کی زمیں تھی نہ سُروں کا آکاش تیرے اور میرے سروکار سے پہلے کیا تھا کل نہ ہو گا کوئی بچوں کو بتانے والا یہ جو دیوار ہے، دیوار سے پہلے کیا…
Read Moreظفر گورکھپوری
یہاں تو خیر ویرانی بہت ہے وہاں کیا ہے جہاں پانی بہت ہے
Read Moreشیخ ابراہیم ذوق
اے ذوق! تکلف میں ہے تکلیف سراسر آرام میں وہ ہے جو تکلف نہیں کرتا
Read Moreحبیب الرحمان مشتاق ۔۔۔۔۔۔ اب پشیمان و پریشاں ہیں کہ گھاٹاکیوں کیا
اب پشیمان و پریشاں ہیں کہ گھاٹاکیوں کیا بولئے پھر پتھروں سے دل کا سودا کیوں کیا لن ترانی کی صدا ہر آیتِ قدرت میں ہے اپنی ناموجودگی کا اتنا چرچا کیوں کیا آنے والے کل کی چیخیں کہہ رہی ہیں مجھ سے آج جو نہیں دیکھے تھے ان خوابوں کو رسوا کیوں کیا تیرتے ہیں پانیوں پر اب غباروں کی طرح سوچتا ہوں پتھروں نے خود کو ہلکا کیوں کیا خود سے باہر آکے خود کو خود پہ ظاہر کردیا میں تو اپنا رازداں تھا، میں نے ایسا کیوں…
Read More