احمد گہری سوچ کی خو کب پائی ہے تم تو باتیں کرتے تھے اندازے سے
Read MoreTag: اردو شاعر
خالد علیم
میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں
میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں عکس تو خیر ہے شیشۂ ساعت ِ بے خبر میں کہیں میری تنہائی بھی ہے مرا آئنہ، میں اکیلا نہیں چاند بھی ہے مری صبح پُرنور کا منتظر شام سے اے غنیمِ شب ِ ابتدا دیکھنا، میں اکیلا نہیں یہ زمیں جس کی ہے، اس پہ میرے قدم رُکنے والے نہیں وہ، مرے ساتھ ہے دُور تک راستہ، میں اکیلا نہیں میرے اشعار ہی میرے ہم راز ہیں، میرے دم ساز ہیں…
Read Moreتصدق شعار ۔۔۔ دو غزلیں (ماہنامہ بیاض لاہور مارچ 2022 )
جب سفینہ کسی منجدھار میں آ جاتا ہے کوئی رخنہ مری پتوار میں آ جاتا ہے غم جو الفاظ کی بندش میں نہیں آ سکتا چُپ کے پیرایۂ اظہار میں آ جاتا ہے سنگ چُنوا دیئے جب اُس نے جھروکے کی جگہ اُس کا چہرہ مری دیوار میں آ جاتا ہے بدنصیبی سے اگر بُھوک گلے پڑ جائے گھر کا سامان بھی بازار میں آ جاتا ہے اُس کو رہتا ہے مرے سامنے آنے سے گریز یہ الگ بات کہ اشعار میں آ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لُطف تو کیا کہ…
Read Moreسید ضیا حسین ۔۔۔ پاس رہتا نہیں تمہارے مَیں (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)
پاس رہتا نہیں تمہارے مَیں جان جاؤں نہ عیب سارے مَیں اِک زمانہ بنا لیا دشمن اور کتنے سہوں خَسارے مَیں نیند تو ساتھ ہی گئی اُس کے گنتا رہتا ہوں اب ستارے مَیں آنکھ ملتا ہی رہ گیا اُس دم دیکھ پایا نہیں نظارے مَیں کھول کر خود نہ پڑھ سکا اِن کو بانٹتا ہی رہا سپارے مَیں بات کھُل کر کیا کرو مجھ سے کُچھ سمجھتا نہیں اِشارے مَیں کوئی جلتا ہے گر، جلے بے شک بھر چکا شعر میں شرارے مَیں اک حقیقت ہے، چھوڑ کر خوش…
Read Moreاشرف کمال ۔۔۔ میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)
میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے میری خوشبو مرے دشمن کو بھی چھوکر آئے کاش ایسا بھی کوئی آنکھ میں منظر آئے چاند بڑھ کر ترے سائے کے برابر آئے میرے اندر کے نہ توڑے درودیوار ابھی درد سے کہ دو مری آنکھ سے باہر آئے ایک میں ہوں کہ مرے ہاتھ ہیں خالی اب تک ایک تو ہے کہ ترے ہاتھ سمندر آئے کوئی دشمن مرے معیار پہ اترا ہی نہیں مجھ سے لڑنے کے لیے کوئی سکندر آئے کچھ تو نیچے ہوں امیروں کے فلک بوس مکان…
Read Moreنجیب احمد
میں تو گھر سے کبھی نہیں نکلا کس کا نقشِ قدم ہے چار طرف
Read Moreآدرش دبے
ٹھہری ٹھہری سی زندگی کیوں ہے میری آنکھوں میں یہ نمی کیوں ہے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں
پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں قارون ہیں جو، زر کی توقّع ہو اُن سے کیا ایسوں پہ اِس قبیل کا دھوکا ہمیں ہو کیوں بے فیض رہبروں سے مرتّب جو ہو چلی احوال کی وہ شکل، گوارا ہمیں ہو کیوں ملتی ہے کج روؤں کو نفاذِ ستم پہ جو ایسی سزا کا ہو بھی تو خدشہ ہمیں ہو کیوں رکھیں نمو کی آس بھلا کیوں چٹان سے ایسوں سے اِس طرح کا تقاضا ہمیں ہو کیوں ہم…
Read Moreقابل اجمیری
زمانہ کھیل رہا ہے تمہاری زلفوں سے ہمارے حالِ پریشاں کی بات کون کرے
Read More