یہ کیا پیمبری دے دی خدائے تنہائی فراعنہ کی زمیں اور عصائے تنہائی اُدھر دیے سے دیا جل رہا ہے وائے نصیب اِدھر ہَوا بھی نہیں ہائے ہائے تنہائی مجھے تو حلقہء یاراں میں بھی نظر آئی بہت عجیب بلا ہے بلائے تنہائی وہ اہتمامِ تماشا کہ دیکھتے جائو تمام آئنہ تھا اک ادائے تنہائی دمشقِ عشق کا شہزادہ تھا سو جانبِ شام میں فتح کر کے چلا کربلائے تنہائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: میرے کتبے پہ اس کا نام لکھو رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی جون ۲۰۱۹ء
Read MoreTag: اردو کی بہترین شاعری
نعمان شوق ۔۔۔ سڑک کے دونوں طرف خیریت ہے
سڑک کے دونوں طرف خیریت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمان کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اُڑ رہی ہے رنگ برنگی موت پتنگوں کی طرح بل کھاتی ہوئی جس کی ڈور گلی کے منچلے لڑکوں کے ہاتھوں میں ہے بکھرتے چاند کی ادھ جلی پرچھائیں سے بنے رتھ پرسوار جھومتے ہوئے آتے ہیں آوارہ کتے جو بھونکتے ہیں کبھی دھیمی اور کبھی تیز آواز میں سمجھ دار لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں سڑک کے دونوں طرف سرجھکا کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: فریزر میں رکھی شام پبلشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی سنِ…
Read Moreکیف انصاری
جاتے ہوئے وہ خود کو یہیں چھوڑ گیا ہے اُس کو تو بچھڑنے کا سلیقہ بھی نہ آیا
Read Moreحزیں صدیقی ۔۔۔ عجب خود آگہی کے مرحلے ہیں
عجب خود آگہی کے مرحلے ہیں ہم اپنے سامنے حیراں کھڑے ہیں مری آنکھیں تو پیاسی ہیں سحر کی ستارے کیوں اُترتے آ رہے ہیں نہیں، یہ خواب کا عالم نہیں ہے یہ سب منظر تو جیتے جاگتے ہیں دیارِ شب کے سنّاٹے میں ہم نے نگارِ صبح کے نغمے سُنے ہیں ابھی کچھ رنگ ہیں دِل بستگی کے ابھی کچھ خواب آنکھوں میں سجے ہیں اُلجھتی جا رہی ہے ذہن کی رَو کہانی میں کئی موڑ آ چکے ہیں یہ سورج کس لیے جلتا ہے دِن بھر ستارے رات…
Read Moreمجید امجد ۔۔۔ یہ سب دن ۔۔۔
یہ سب دن ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب دن تنہا، نا یکسو یہ سب اُلجھاوے کالی خوشیاں، کالے غم اے رے دل! رہا ہے تُو، اب تک کن بھگتانوں میں اور اب بھی تو آگے ہے ایک وہی گذران دنوں کی، جس کی رَو جذبوں اور خیالوں میں چکراتی ہے ہم جیتے ہیں، ان روحوں کو بھلانے میں سدا جو ہم کو یاد کریں سدا جو ہم کو اپنے مشبک غرفوں سے دیکھیں جیسے، پورب کی دیوار پہ، انگوروں کی بیلوں میں بڑھتے، رکتے، ننھے ننھے، چمکیلے نقطے، کرنوں کے ریزے…
Read Moreحفیظ جالندھری
مجھے تو اس خبر نے کھو دیا ہے سُنا ہے، مَیں کہیں پایا گیا ہوں
Read Moreصابر ظفر ۔۔۔ اک عمر جو ہم نے خون تھوکا
اک عمر جو ہم نے خون تھوکا دل نرم نہیں ہوا کسو کا جب موت کی منتظر ہوں سانسیں دورانیہ ہے وہ کرفیو کا بارود ہے اس قدر سرِ خاک امکان ہی چھن گیا نمو کا بہتر ہے کہ بے طلب ہی جی لو یہ عہد نہیں ہے آرزو کا ہستی ہے ہماری، یاد جس کی وہ ہم کو بھلا چکا کبھو کا حد سے جو گزر رہے ہیں ہم تم حاصل ہے کوئی تو جستجو کا اب تک ہے وہی زبان بندی عالم ہے ہنوز کوئی ہُو کا ڈوبے…
Read Moreبرسات ۔۔۔ منیر نیازی
برسات ۔۔۔۔۔۔۔ آہ ! یہ بارانی رات مینہ، ہوا، طوفان، رقصِ صاعقات شش جہت پر تیرگی اُمڈی ہوئی ایک سناٹے میں گم ہے بزم گاہِ حادثات آسماں پر بادلوں کے قافلے بڑھتے ہوئے اور مری کھڑکی کے نیچے کانپتے پیڑوں کے ہات چار سُو آوارہ ہیں بُھولے بسرے واقعات جھکڑوں کے شور میں جانے کتنی دُور سے سُن رہا ہوں تیری بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: تیز ہوا اور تنہا پھول
Read Moreظہیر کاشمیری
اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا
Read Moreفہمیدہ ریاض ۔۔۔ کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں میں تیز گام چلی جا رہی تھی اُس کی سمت کشش عجیب تھی اُس دشت کی صداؤں میں وہ اِک صدا جو فریبِ صدا سے بھی کم ہے نہ ڈوب جائے کہیں تُند رو ہواؤں میں سکوتِ شام ہے اور مَیں ہوں گوش بر آواز کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں میں مری طرح یونہی گُم کردہ راہ چھوڑے گی تم اپنی بانہہ نہ دینا ہوا کی بانہوں میں نقوش پاؤ ں…
Read More