ہم اہلِ ہجر کو صحرا ہی ایک رستہ تھا اب اس طرف سے بھی خلقِ خدا گزرتی ہے
Read MoreTag: سید آل احمد
میر مہدی مجروح
ہم نے تو یہ بھی نہ جانا کہ چمن ہے کیا چیز اپنے ہی حال میں کچھ ایسے گرفتار رہے
Read Moreآرزو لکھنوی
جو سینے میں دل ہے تو بارِ محبت اُٹھے یا نہ اُٹھے، اُٹھانا پڑے گا
Read Moreاسداللہ خاں غالب ۔۔۔ کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجے؟ ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا دوست دارِ دشمن ہے! اعتمادِ دل معلوم آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا حالِ دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے…
Read Moreآرزو لکھنوی
رہنے دو تسلی تم اپنی، دکھ جھیل چکے، دل ٹوٹ گیا اب ہاتھ مَلے سے ہوتا ہے کیا جب ہاتھ سے ناوک چھوٹ گیا
Read Moreمحسن اسرار
پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے سفر محال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
Read Moreمیر اثر
وائے غفلت کہ ایک ہی دم میں مَیں کہیں اور کاروان کہیں
Read Moreنواب مصطفٰی خان شیفتہ
حسرت سے اُس کے کوچے کو کیوں کر نہ دیکھیے اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا
Read Moreمناجات ۔۔۔ لیاقت علی عاصم
مناجات ۔۔۔۔ دیارِ تشنہ کو ابرِ شمال دے مولا سلگتی آنکھ میں آنسو ہی ڈال دے مولا مری اُداس نظر مطمئن نہیں ہے ابھی فضا میں اور ستارے اُچھال دے مولا گذشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہو گی گذشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا وہ آ ملے مرا کردار ختم ہونے تک یہ اتفاق کہانی میں ڈال دے مولا لپیٹ دوں نہ کہیں میں یہ بسترِ امکاں اب اس قدر بھی نہ کربِ محال دے مولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Read Moreآرزو لکھنوی
لطفِ بہار کچھ نہیں گو ہے وہی بہار دل کیا اُجڑ گیا کہ زمانہ اُجڑ گیا
Read More