دل کی رفتار زلزلائی ہوئیاپنے قدموں پہ ڈگمگائی ہوئی درد نے طرز ہے بنائی ہوئییہی بندش ہے دل کو بھائی ہوئی سوز خوانی نہ سنیو سینے کیآنکھ مت دیکھ ڈبڈبائی ہوئی لمحہ لمحہ ، کریدتا گزراآہ : دیوار جاں یہ ڈھائی ہوئی لاؤ اب ساخت کوئی دل کی نئیبے دھڑک سی نپی نپائی ہوئی
Read MoreTag: best urdu poetry
کاشف مجید ۔۔۔ دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا
دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا ہمیں پکارا گیا اور بہت پکارا گیا ہمارا اور تمہارا ملال ایک سا ہے اِدھر چراغ بجھا اور اُدھر ستارا گیا بہت خلوص سے تونے عطا کیا تھا جو وہ ایک خواب بھی مجھ سے نہیں گزارا گیا عجیب جنگ یہاں پر لڑی گئی جس میں نہ کوئی زندہ بچا اور نہ کوئی مارا گیا مجھے خبر ہے وہ میری طرف بھی دیکھتا تھا مجھے خبر ہے مگر میں نہیں دوبارا گیا
Read Moreیونس خیال
پھر کسی آدمی کی آمد تھی پھر فرشتوں پہ خوف طاری تھا
Read Moreنذیر قیصر
ستارہ ایک سرائے پہ آ کے ٹھیر گیا دعا تمام ہوئی، راستہ تمام ہوا
Read Moreذوالفقار نقوی … حسن سے تیرے کشیدیں گی سہارا کتنا
حسن سے تیرے کشیدیں گی سہارا کتنا ان بجھی آنکھوں سے ہو گا بھی گزارا کتنا رنگ بھر لائے ہو تصویر میں اتنے ،لیکن اس میں احساس کی نگری کا ہے گارا کتنا سر پہ ہر روز نئی اینٹ ہے لادی جاتی تو نے اے یار! مرا بوجھ اتارا کتنا شہر تَو روز چلی جاتی ہے غازہ مَل کر جانِ من! میرے لئے خود کو سنوارا کتنا ڈوبنے والے نے موجوں سے بس اتنا پوچھا یہ بتا دو کہ ہے اب دور کنارہ کتنا مسئلہ اتنا بڑا تو نہیں تھا…
Read Moreآصف شفیع
مَیں چپ ہوں اب اُسے کیسے بتاؤں کوئی اندر سے کیسے ٹوٹتا ہے
Read Moreآصف شفیع … جہانِ حرف کی جانب جھکاؤ تھا ہی نہیں
جہانِ حرف کی جانب جھکاؤ تھا ہی نہیں سخنوری سے کچھ اُس کو لگاؤ تھا ہی نہیں ہمیں تو خاک اُڑاناتھی، بس اُڑا آئے ہمارا دشت میں کوئی پڑاؤ تھا ہی نہیں میں رو پڑا یہ بتاتے ہوئے “ میں جب لوٹا” وہ لوگ، خیمے، وہ جلتا الاؤ تھا ہی نہیں وفا میں جاں سے نہ جاتے تو اور کیا کرتے ہمارے پاس کوئی اور داؤ تھا ہی نہیں اسی لیے مرے حصے میں آئی جنسِ وفا لگا دیا تھا جو میں نے وہ بھاؤ تھا ہی نہیں ہوا کے…
Read Moreآصف شفیع … صدیوں سے اجنبی
صدیوں سے اجنبی ……………………. اُس کی قربت میں بیتے سب لمحے میری یادوں کا ایک سرمایہ خوشبوئوں سے بھرا بدن اس کا دل کو بھاتا تھا بانکپن اُس کا شعلہ افروز حسن تھا اُس کا دلکشی کا وہ اک نمونہ تھی مجھ سے جب ہمکلام ہوتی تھی خواہشوں کے چمن میں ہر جانب چاہتوں کے گلاب کھلتے تھے اُس کی قربت میں ایسے لگتا تھا اک پری آسماں سے اتری ہو جب کبھی میں یہ پوچھتا اُس سے ساتھ میرے چلو گی تم کب تک مجھ سے قسمیں اُٹھا کے…
Read Moreعمران اعوان
تجھے یہ کیسے بتائوں میں اختصار کے ساتھ بہت قدیم تعلق ہے انتظار کے ساتھ
Read Moreعمران اعوان
سانس لینا محال ٹھہرا ہے تیری محفل میں لوگ اتنے ہیں
Read More