خُود سے مِلنے کی فُرصت کسے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی پندار کی کرچیاں چُن سکوں گی شکستہ اُڑانوں کے ٹوٹے ہُوئے پر سمیٹوں گی تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی کبھی اپنے بارے میں اِتنی خبر ہی نہ رکھی تھی ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی مرا حوصلہ اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا لیکن ۔۔۔ یہاں خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!
Read MoreTag: best urdu poetry
شناور اسحاق
دن نکل آیا ہے پھر تہمتِ رونق لے کر آپ کو شہر سے جانا بھی نہیں آتا ہے
Read Moreدیارِ آزر و بہزاد و مانی سے چلے جائیں ۔۔۔ شناور اسحاق
دیارِ آزر و بہزاد و مانی سے چلے جائیں ہم اکثر سوچتے ہیں اِس کہانی سے چلے جائیں ہمیں مٹی سے چھپنے کا ہنر آتا نہیں، شاہا! وگرنہ ہم بھی تیری راجدھانی سے چلے جائیں تو دریا ہے، تجھے اب کیا کہیں ہم اِذن کے قیدی اکیلے ہوں تو ہم تیری روانی سے چلے جائیں لہو کب سے کسی بابِ خفی کی جستجو میں تھا چلو اب اس فشارِ بد گمانی سے چلے جائیں بدن میں گر رہی ہے اوّلیں اِقرار کی شبنم شناور! اس جحیمِ لازمانی سے چلے جائیں
Read Moreکیا بتلائیں! ۔۔۔ شناور اسحاق
کیا بتلائیں! ۔۔۔۔۔۔۔ نِندیا پور میں شور مچانے یہ شبدوں کے غول نہ جانے کن جھیلوں سے آ جاتے ہیں نیند اکہری کر دیتے ہیں ( نیند اکہری ہو جائے تو راتیں بھاری ہو جاتی ہیں) دنیا داری رشتے ناطے بازاروں اور گلیوں کی سَت رنگی رونق بیداری کو گہرا کرنے والے جتنے حربے تھے سب ہم پر ناکام ہوئے ہیں سونے والوں کے صحنوں میں جاگنے والوں کی گلیوں میں ہم جیسے بے زار بہت بدنام ہوئے ہیں
Read Moreمظفر حنفی
مَیں گنہگار اور ان گنت پارسا چار جانب سے یلغار کرتے ہوئے جیسے شب خون میں بوکھلا کر اٹھیں لوگ تلوار تلوار کرتے ہوئے
Read Moreیہ معرکہ ہے بڑا صبر آزما بھائی ۔۔۔ مظفر حنفی
یہ معرکہ ہے بڑا صبر آزما بھائی کسی کو ٹھیس نہ لگ جائے، دیکھنا بھائی اک اور وار کہ شہ رگ نہیں ہوئی سیراب مرے عزیز ، مرے دیر آشنا بھائی تجھے پتہ ہے کنارے نہیں رہے محفوظ بہائو تیز ہے، مجھ سے نہ دور جا بھائی ہمیں کہ دولتِ آفاق بھی زیادہ نہیں جو ہو سکے تو بس اک سانس بھر ہَوا بھائی یہ اور بات کہ ترکش میں تیر ہی کم ہیں ترے سوا مرا دنیا میں کون تھا بھائی ہر اک طرف سے سمندر مجھے بلاتا ہے…
Read Moreدوسری جلا وطنی ۔۔۔ مظفر حنفی
دوسری جلا وطنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب گیہوں کا دانا جنس کا سمبل تھا اس کو چکھنے کی خاطر میں جنت کو ٹھکرا آیا تھا اب گیہوں کا دانہ بھوک کا سمبل ہے جس کو پانے کی خاطر میں اپنی جنت سے باہر ہوں!
Read Moreغافر شہزاد
یہ دل، یہ عضوِ معطل، یہ زندگی کا جواز لہو کے ساتھ روابط بحال کرتا نہیں
Read Moreغافر شہزاد ۔۔۔ اک مسلسل طنز ہو جیسے مرے کردار پر
اک مسلسل طنز ہے جیسے مرے کردار پر یوں لگا رکھا ہے میں نے آئنہ دیوار پر اب تو آوازوں کو بھی تصویر کر سکتی ہے آنکھ اتنی کامل ہو گئی ہے دسترس اظہار پر قیدِ تنہائی نے اتنا بے تعلق کر دیا بوجھ سا لگنے لگے ہیں اب تو یہ بے کار پَر میں بھی کچھ اس کی حدوں کے پار آ سکتا نہیں اور وہ بھی گر نہیں سکتا مرے معیار پر چار دیواروں کے اندر حبس کیا کم تھا کہ اب خوف کی دیوار چڑھنے لگ گئی…
Read Moreشہرِ خموشاں سے گزرتے ہوئے ۔۔۔ ارشد نعیم
شہرِ خموشاں سے گزرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بے رحم فسوں کار ۔۔۔ پسِ پردہء خاک ہر سخن ساز کو ۔۔۔ خاموش کیے جاتا ہے کتنے خوش رنگ ۔۔۔ حسیں چہروں کو ۔۔۔ خاک بر دوش کیے جاتا ہے نغمہ گر جو بھی ۔۔۔ یہاں آ جائے ۔۔۔ اُس کو خاموش کیے جاتا ہے
Read More