احتمال ۔۔۔۔۔۔ نعیم رضا بھٹی

احتمال ۔۔۔۔ برہنہ خاک کے سارے مناظر فلک کی سرپرستی میں جہانِ دل نشیں مہکا رہے ہیں ہمیں بہلا رہے ہیں مگر احساس غالب ہے کسی خلجان کا پرتو تشدد خیز سی تہذیب کے مانند چہار اطراف پھیلے خوں چکاں منظر ہماری سربریدہ لاش کی جانب کسی کرگس کی  صورت بڑھ رہے ہیں ہمارے خون کو خوراک میں تبدیل ہونا ہے

Read More

قلندر بخش جرات

تیرے بیمار سا بیمار نہ ہو گا کوئی جس کو ظاہر میں جو دیکھو تو کچھ آزار نہیں

Read More

باتیں ندیم کی (انٹرویو) ۔۔۔۔۔ حامد یزدانی

باتیں ندیم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کتاب کبھی نہیں مر سکتی‘‘ (پاکستان کی معتبر ترین ادبی شخصیت جناب احمد ندیم قاسمی نے یہ انٹرویو، اپنی ۸۲ ویں سال گرہ پر ریکارڈ کروایاتھا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی: ندیم صاحب! آپ فرماتے ہیں: گو سفر تو دھوپ نگر کا ہے، یہ طلسم حسنِ نظر کا ہے  کہیں چھائوں قربِ جمال کی، کہیں فیضِ عشق کے سائے ہیں تو دھوپ چھائوں کے اِس سفر کے 82ویں پڑائو پر، جب احبابِ ندیم آپ کی سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں، آپ خود کیا محسوس کر رہے ہیں؟…

Read More

اختر حسین جعفری

کیا مکاں خوردہ خلائق میں چلے اس کا خیال تنگ نائے شہر! کچھ رستہ نکال اس کے لیے

Read More

اختر حسین جعفری ۔۔۔ ہجر اک حسن ہے، اس حسن میں رہنا اچھا

ہجر اک حسن ہے، اس حسن میں رہنا اچھا چشمِ بے خواب کو خونناب کا گہنا اچھا کوئی تشبیہ کا خورشید نہ تلمیح کا چاند سرِ قرطاس لگا حرفِ پرہنہ اچھا پار اُترنے میں بھی اک صورتِ غرقابی ہے کشتئ خواب رہِ موج پہ بہنا اچھا یوں نشیمن نہیں ہر روز اٹھائے جاتے اسی گلشن میں اسی ڈال پہ رہنا اچھا بے دلی شرطِ وفا ٹھہری ہے معیار تو دیکھ میں بُرا اور مرا رنج نہ سہنا اچھا دھوپ اُس حسن کی یک لحظہ میسر تو ہوئی پھر نہ تا…

Read More

نظم ۔۔۔۔ اختر حسین جعفری

نظم ۔۔۔۔ شام ڈھلے تو میلوں پھیلی خوشبو خوشبو گھاس میں رستے آپ بھٹکنے لگتے ہیں زلف کھلے تو مانگ کا صندل شوق طلب میں آپ سلگنے لگتا ہے شام ڈھلے تو زلف کھلے تو لفظوں! ان رستوں پر جگنو بن کر اڑنا راہ دکھانا دن نکلے تو تازہ دھوپ کی چمکیلی پوشاک پہن کر میرے ساتھ گلی کوچوں میں لفظوں! منزل منزل چلنا ہم دنیا کو حرف و صدا کی روشن شکلیں پھول سے تازہ عہد اور پیماں دکھلائیں گے دیواروں سے گلزاروں تک تنہائی کی فصل اگی ہے…

Read More

راغب مراد آبادی (چند جہتیں): اکرم کنجاہی ۔۔۔ نوید صادق

میرا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔ راغب مراد آبادی (چند جہتیں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکرم کنجاہی سے خوش گوار تعارف ان کی شاعری اور ماہ نامہ غنیمت کے حوالہ سے توایک عرصہ سے ہے ، ان کے کچھ مضامین بھی زیرِمطالعہ رہے لیکن راغب صاحب پر ان کی یہ تصنیف میرے علم میں نہ تھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن فروری ۲۰۰۱ء میں شائع ہوا اور اب دوسرا ایڈیشن جنوری ۲۰۲۰ء میں رنگِ ادب پبلی کیشنز ، کراچی سے اشاعت پذیر ہواہے۔ اکرم کنجاہی نے ’عرضِ مصنف‘ میں اس کتاب کو راغب شناسی کے حوالہ سے…

Read More

ارشد عباس ذکی ۔۔۔ خزاں کی رت میں شجر سبز ہونے والا نہیں

خزاں کی رُت میں شجر سبز ہونے والا نہیں جو راکھ ہو گیا گھر، سبز ہونے والا نہیں بھلے تو خونِ جگر دے وفا کے پودے کو یہ بات طے ہے کہ سرسبز ہونے والا نہیں یقین ٹوٹ گیا ہے، بھروسہ ختم ہوا یہ برگ بارِ دگر سبز ہونے والا نہیں یہ کوے یوں بھی درختوں سے بغض رکھتے ہیں کہ ان کا ایک بھی پر سبز ہونے والا نہیں گھرا ہوا ہوں درختوں میں اور جانتا ہوں میں ان کے زیرِ اثر سبز ہونے والا نہیں میں اپنے اشک…

Read More

فہمیدہ ریاض

پھر ہم ہیں، نیم شب ہے، اندیشہء عبث ہے وہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا

Read More

نعمان فاروق ۔۔۔۔۔ جانے کیا بات بتانے مجھ کو

جانے کیا بات بتانے مجھ کو دھوپ آئی ہے جگانے مجھ کو اب ذرا ہانٹ نہیں کرتے ہیں تیری چاہت کے فسانے مجھ کو جانے کیا یاد دلانے آئے تیری چاہت کے زمانے مجھ کو آئو پانی سے گلے ملتے ہیں پیاس آئی ہے بلانے مجھ کو ہجر کی رُت چلی آئی نعمان تیری چوکھٹ سے اٹھانے مجھ کو

Read More