آسماں سے ستارہ نہیں آئے گا ۔۔۔ سحرتاب رومانی

آسماں سے ستارہ نہیں آئے گا اب کوئی بھی اشارہ نہیں آئے گا ہاتھ آئے گا وہ میرے تھوڑا بہت وہ کسی طور سارا نہیں آئے گا کیوں اِدھر مستقل دھوپ ہی دھوپ ہے کیا اِدھر اَبر پارہ نہیں آئے گا ؟ آئیں گے دوست سارے ہی ملنے، مگر ایک بے اعتبارا نہیں آئے گا یہ سڑک ناک کی سیدھ میں جائے گی اس سڑک پر منارہ نہیں آئے گا میں پرستان لکھتا چلا جاؤں گا جن، پری استعارہ نہیں آئے گا ختم ہو جائے گا یہ سمندر، سحر اِس…

Read More

ابھی لکھیں تو کیا لکھیں ۔۔۔ محسن نقوی

ابھی لکھیں تو کیا لکھیں ۔۔۔۔۔ ہر اِک جانب اُداسی ہے ابھی سوچیں تو کیا سوچیں؟ ہر اِک سُو، ہُو کا عالم ہے ابھی بولیں تو کیا بولیں؟ ہر اِک اِنسان پتھر ہے ابھی دھڑکیں تو کیا دھڑکیں؟ فضا پر نیند طاری ہے ابھی جاگیں تو کیا جاگیں؟ ہر اِک مقتل کی شہ رَگ میں لہُو کی لہر جاری ہے ابھی دیکھیں تو کیا دیکھیں؟ ہر اِک اِنسان کا سایہ ابھی مٹی پہ بھاری ہے ابھی لکھیں تو کیا لکھیں؟

Read More

غلام حسین ساجد

شام ہے اور سرخ پیڑوں کے دہکتے سائے ہیں نیند میں بہتا ہوا دھارا ہے جوئے آب کا

Read More

غلام حسین ساجد…. بیاں اس بزم میں میری کہانی ہو رہی ہے

بیاں اُس بزم میں میری کہانی ہو رہی ہے ادائے خاص سے رنگیں بیانی ہو رہی ہے مہک آتی ہے اِک سیلی ہوئی آزردگی کی کوئی شے ہے جو اِس گھر میں پرانی ہو رہی ہے نظر آتے نہیں اَب شام کو اُڑتے پرندے تو کیا اِس شہر سے نقل مکانی ہو رہی ہے؟ بُلاوا آ گیا ہے اب کسے کوہِ ندا سے مری اطراف میں کیوں نوحہ خوانی ہو رہی ہے؟ لبوں پر ہے کسی شیریں دہن کے ذکر میرا خزاں کی شام ہے اور گل فشانی ہو رہی…

Read More

ڈیزی کٹر ۔۔۔ غلام حسین ساجد

ڈیزی کٹر ۔۔۔۔ ریت میں ڈھلتے پتھر پانی ہوتی ریت دھند میں چھپتا پانی دھوپ میں جلتی دھند دھوئیں میں گھلتی دھوپ نیند میں بہتا زہر سلگ اٹھے ہیں ایک طلسمی آنچ سے کتنے شہر کون ہے جس نے خواب نگر پر ڈھایا ہے یہ قہر!

Read More

بدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (غلام حسین ساجد) ۔۔۔۔ نوید صادق

بدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (دیباچہ: مجموعہ کلام "اعادہ”) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستر کی دہائی اُردو غزل میں ایک انقلاب کی دہائی ہے۔ ثروت حسین، محمد اظہارالحق اور غلام حسین ساجد اِس انقلاب کے بڑوں میں سے نمایاں نام ہیں۔ثروت حسین نے ایک قلیل عرصۂ شعر میں اپنے انمول اور انمٹ نقوش ثبت کرنے کے بعد موت کو گلے لگا لیا، محمد اظہارالحق کچھ عرصہ بعد تقریباً خاموش ہو گئے۔ اب ان کی کبھی کبھار کوئی غزل نظر پڑتی بھی ہے تو یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ ستّر…

Read More

ڈاکٹر اسحاق وردگ

ہمارے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا تھا وہ اِک بندہ خُدا ہونے سے پہلے

Read More

اسحاق وردگ ۔۔۔ چاک پر بے بسی بناتا ہوں

چاک پر بے بسی بناتا ہوں یعنی میں زندگی بناتا ہوں باندھ دیتا ہوں دھوپ ساحل پر کشتیاں، موم کی بناتا ہوں نیند سے اور کچھ نہیں بنتا اِس لیے خواب ہی بناتا ہوں سانس ہوتا ہے زندگی کے لیے اِس سے میں خودکشی بناتا ہوں یہ ضرورت ہے شہر والوں کی اِس لیے سادگی بناتا ہوں میری تکمیل ہو نہ جائے کہیں روز خود میں کمی بناتا ہوں حسن، مصرع اٹھانے آتا ہے عشق سے شاعری بناتا ہوں اِس میں سایہ کہاں سے بنتا ہے میں تو دیوار ہی…

Read More

گم شدہ اذان کے انتظار میں نظم… اسحاق وردگ

گم شدہ اذان کے انتظار میں نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر کی قربت میں آباد گائوں (جس کا فطرت سے ازل کا رشتہ ابھی ٹوٹا نہیں) سے آتی ہوئی ضعیف بابا جی کی آواز میں صبح کی اذان کی پہلی گونج شہر کی فضائوں میں جلوہ افروز ہوئی تو زمین کے سینے پر وقت نے کروٹ بدلی باباجی نے جسمانی ضعف کے باوجود اپنی روح سے کشیدکیے گئے طلسم سے سانس کا زیر وبم قائم رکھا اور آنسوئوں کی سوغات میں دل سے لب تک اپنی آواز کو با وضو کیا (تاکہ…

Read More

زعیم رشید ۔۔۔۔۔۔ دیار ِشوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ

دیار ِشوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ گزر رہی ہے مسلسل کسی عذاب کے ساتھ ہم اہل درد پکارے گئے صحیفوں میں ہم اہل عشق اتارے گئے کتاب کے ساتھ پھر ایک شام پذیرائی چشم تر کی ہوئی پھر ایک شام گزاری گئی جناب کے ساتھ ہمیں یہ خوف اندھیرے نگل نہ جائیں کہیں سو ہم نے جسم کو ڈھانپا ہے آفتاب کے ساتھ ہوا نے سادھ لی چپ،رات نے دعا مانگی ستارہ سہما رہا بجھتے آفتاب کے ساتھ مکالمہ رہا جاری ہماری آنکھوں کا بدن کی شاخ…

Read More