رحمان حفیظ ۔۔۔۔۔۔ سب کا پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے

سب کا پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے منہ میں لقمہ ہو تو پندار بدل جاتا ہے گام دو گام پہ ہوتی ہے جب اپنی نصرت تو ہمارا سپہ سالار بدل جاتا ہے جب کبھی ہم کسی معیار پہ پورے اتریں ایسا ہوتا ہے وہ معیار بدل جاتا ہے اتنے یکساں ہیں مری قوم کے سب معمولات صرف تاریخ سے اخبار بدل جاتا ہے میں سمجھتا ہوں شفایاب ہُوا ہوں لیکن چارہ گر بس مِرا آزار بدل جاتا ہے

Read More

قاضی حبیب الرحمن

چمن چمن ، ترے جلووں کے رنگ بکھرے ہیں صدف صدف ، گہر افشاں ، ادائے تازہ ہے

Read More

ناصر کاظمی

دھیان کی سیڑھیوں پہ پچھلے پہر کوئی چپکے سے پائوں دھرتا ہے

Read More

تنہا تنہا …… حمایت علی شاعر

تنہا تنہا …….. میں بہت تھک گیا ہوں یہ کٹھن راستہ مجھ سے اب طے نہ ہو گا یہ تمازت، یہ ویراں خموشی جو ازل سے مری ہم سفر ہے آج زنجیرِ پا بن گئی ہے یہ ہوا جس کے دامن میں بکھری ہوئی خاک ہے یا کہ سورج کی جھڑتی ہوئی راکھ ہے میرے رستے میں دیوار سی بن گئی ہے میں بہت تھک گیا ہوں ایک پتھر کے مانند افتادہ چپ چاپ بیٹھا ہوا سوچتا ہوں میرے اطراف ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے پیڑ، سورج، پہاڑ۔۔۔آسماں اس جہاں…

Read More

احسان شاہ ۔۔۔۔۔۔۔ ہماری آئنوں سے کب ملاقاتیں نئی ہیں

ہماری آئنوں سے کب ملاقاتیں نئی ہیں مگر اس بار لگتا ہے کہ کچھ باتیں نئی ہیں نئے چہرے پہن کر جو یہاں آئے ہیں ان کی پرانی حاجتیں ہیں اور مناجاتیں نئی ہیں اگرچہ آسماں خالی پڑا ہے بادلوں سے زمینوں پر مگر اب کے یہ برساتیں نئی ہیں یہاں آئے ہوئے ہم کو ابھی کچھ دن ہوئے ہیں ہمارے واسطے یہ دن نئے ،راتیں نئی ہیں مری بستی میں نووارد ہیں کچھ ایسے قبائل قدیمی سوچ ہے اُن کی مگر باتیں نئی ہیں

Read More

جامع تاریخ ہند ۔۔۔۔۔ محمد حبیب، خلیق احمد نظامی

جامع تاریخ ہند Download محمد حبیب، خلیق احمد نظامی

Read More

پسند کا محاذ ….. جلیل عالی

پسند کا محاذ ………….. رن پڑا تو وفا کے متوالے توڑ کر کل کی سوچ زنجیریں پھاند کر ذات کی فصیلوں کو آگ اور خون کے سمندر میں کیسے دیوانہ وار کود گئے اور ہم کو یہ انتطار کہ کب معرکہ ختم ہو تو اپنا قلم فاتحوں کے لئے قصیدے کہے مرنے والوں کے مرثیے لکھے

Read More

ڈاکٹر شفیق آصف ۔۔۔۔۔ آندھیوں سے بادباں جب پھٹ گئے

آندھیوں سے بادباں جب پھٹ گئے ہم تلاطم کے مقابل ڈٹ گئے جگمگاتے کس طرح وہ آئنے موسموں کی گرد سے جو اٹ گئے دائرہ کتنا بڑھایا جائے اب رقص کرنے والے پائوں کٹ گئے پتہ پتہ رُت بکھرنے لگ گئی جن کے سائے گھٹ گئے، وہ کٹ گئے پائوں میں کیا ڈگمگائی ہے زمین اپنی اپنی راہ سے سب ہٹ گئے اب کہاں پہچان ممکن ہے شفیق آئنہ ٹوٹا تو ہم بھی بٹ گئے

Read More

اسلم انصاری

ساحلِ غم کی ریت پر کس کی صدا کا خون ہے کس کو پکارتا رہا، کل کوئی ڈوبتا ہوا

Read More

محشر بدایونی

نشہ ہے، جہل ہے، شر ہے، اجارہ داری ہے ہماری جنگ کئی مورچوں پہ جاری ہے

Read More