منیر سیفی

تو کیا اب سبز چشمے ہی پہن کر ہمیں منظر ہَرا کرنا پڑے گا

Read More

ٹھٹھک کر جاگنا ۔۔۔۔ عبدالرشید

ٹھٹھک کر جاگنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھٹھک کر جاگنا اک وہم تھا، جھوٹی تسلی آفرینش سے مرے گھڑیال کی اس ٹکٹکی تک ایک ہی صورت کو گھڑتے، اس کے دست و چپ پہ ماتھے کو رگڑتے، شام کرتے دیر کر دی جیسے راشد نے کہا تھا دیر جیسی دیر کر دی بازوئوں میں اپنی طفلانہ ہنسی کو قید کر کے خوش رہے ، جو راستہ بھی چن لیا پھر اس کے سنگِ میل کے ہر اک اشارے پر کھڑائوں لے کے ہم بیٹھے رہے امید بھی، افتاد بھی اور خستگی بھی سنگریزوں…

Read More

شاہ مبارک آبرو

پھرتے ہی پھرتے دشت دِوانے کدھر گئے وے عاشقی کے ہائے زمانے کدھر گئے

Read More

آخری خواہش ۔۔۔۔۔۔ نوشی گیلانی

آخری خواہش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرے ساتھی مری یہ روح میرے جسم سے پرواز کر جائے تو لوٹ آنا مری بے خواب راتوں کے عذابوں پر سسکتے شہر میں تم بھی ذرا سی دیر کو رکنا مرے بے نور ہونٹوں کی دعائوں پر تم اپنی سرد پیشانی کا پتھر رکھ کے رو دینا بس اتنی بات کہہ دینا "مجھے تم سے محبت ہے”

Read More

سعید راجہ ۔۔۔۔۔ کوئی جگنو نہ دیا لائے ہیں

کوئی جگنو نہ دیا لائے ہیں آنکھ میں دل کی ضیا لائے ہیں ہم ترے قرب کی پہنائی سے اک نیا بھید اٹھا لائے ہیں زرد ہے اور بہت گہرا ہے آپ جو رنگِ حنا لائے ہیں رقص کرنے کا نہیں ہے یارا بس ترا حکم بجا لائے ہیں اک نیا خواب ضرورت تھا ہمیں اک نئی نیند اٹھا لائے ہیں ایک فرعون سے ملنے کے لیے ہاتھ میں ایک عصا لائے ہیں یہ تو انمول اثاثہ ہے سعید لوگ جو حرفِ دعا لائے ہیں

Read More

رات بہت ہوا چلی ۔۔۔۔۔ رئیس فروغ

رات بہت ہوا چلی ۔۔۔۔ رئیس فروغ DOWNLOAD

Read More

احمد حسین مجاہد …… مٹی کا اک غبار جو سوئے فلک گیا

مٹی کا اک غبار جو سوئے فلک گیا اک بار تو خود اپنی طرف میرا شک گیا سایہ تھا اُس پہ وصل کی خواہش کے خوف کا میں نے چھوا تو غنچہ ٔ نو رَس چٹک گیا دیتی وہ کیا جواب مرے اشتعال کا بس یہ ہوا کہ شانے پہ آنچل ڈھلک گیا چاروں طرف سے خون کے چشمے ابل پڑے سایہ مرے وجود کے اندر سرک گیا میری بھی تھوڑی حوصلہ افزائی ہو گئی جاتے ہوئے وہ میرا بھی شانہ تھپک گیا احمدؔ میں پہلے عشق کو سمجھا تھا…

Read More

پسِ ساخت …… عنبرین صلاح الدین

پسِ ساخت …………. باریکی سے لفظوں کی ترتیب لگاتے، ہاتھ کے پیچھے چُھپ کر دُنیا دیکھتے مِشکن! ایک کتاب میں چھپ کر رہنا اچھا ہوتا ہے دِلچسپی سے تم پر باتیں کرتی دُنیا تم کو لفظوں سے حرفوں میں، حرفوں سے اِمکان کے لمحوں میں تقسیم کیے جاتی ہے کیا اِس خال و خد کے ٹکڑے کر دینے سے، یہ انبوہ سوالوں کا اور اِن کا خلا بھی مِٹ جائے گا؟ مِشکن، تم اِک لفظ نہیں ہو تم تو لفظ کے پیچھے چُھپ کر دُنیا دیکھنے والی آنکھ ہو لفظوں…

Read More

انور شعور

خود ذہن میں رہ جاتی ہیں کچھ کام کی باتیں دانستہ کوئی بات کبھی یاد نہیں کی

Read More

عابد سیال

لکھنا ہے میں نے لہرتے پانی پہ اُس کا نام اُس نے مری شبیہ بنانی ہوا میں ہے

Read More