سید علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔ بستر پر کانٹوں کا بستر کر دیتے ہیں

بستر پر کانٹوں کا بستر کر دیتے ہیں اندیشے دیواروں میں دَر کر دیتے ہیں دیوانے ہی وحشت سے منسوب نہیں ہیں ایسی باتیں ہم بھی اکثر کر دیتے ہیں غزلوں میں اظہارِ حقیقت ہوتا ہے لوگوں کو حالات سخن ور کر دیتے ہیں ایسے لوگوں میں ہے بود و باش میری جو لفظوں کو ناوک و نشتر کر دیتے ہیں جب میں اُن کا اسمِ گرامی لیتا ہوں وہ میرے حالات کو بہتر کر دیتے ہیں جو باتیں سینوں میں چبھتی رہتی ہیں ہم اشعر شعروں میں اجاگر کر…

Read More

قلندر بخش جرات

جس کے غم میں آہ ہم آرام سے واقف نہیں کیا غضب ہے، وہ ہمارے نام سے واقف نہیں

Read More

ہوا میں ٹھنڈک بتا رہی ہے ۔۔۔۔۔ محمد اظہارالحق

ہوا میں ٹھنڈک بتا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا میں ٹھنڈک بتا رہی ہے فراق کی رات آ رہی ہے طویل ہونے لگے ہیں سائے وہ دور جھاڑی سے پھڑپھڑاتا پروں کو نکلا کوئی پرندہ عجیب سا درد، دور، دل میں کہیں اٹھا ہے کہیں کوئی جیسے مر رہا ہے فضا میں واماندہ بادلوں کے غریب ٹکڑے بھٹک رہے ہیں اداس سا ہول زینہ زینہ اتر رہا ہے جدائی تیزاب ہے کہ چہرے پہ جس کے قطرے ٹپک رہے ہیں وہ ایک سورج ہی تھا جو سردی سے جسم میرا بچا…

Read More

ساقی فاروقی

طوافِ درد نہ کر، آنسوؤں کے پاس نہ رہ جواز ڈھونڈ کوئی، بے سبب اداس نہ رہ

Read More

بھولے بسرے شہر کے لیے ایک نظم ۔۔۔۔۔ محمد افتخار شفیع

بھولے بسرے شہر کے لیے ایک نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میناروں پر کچے آم کی خوشبو جیسی اک بے نام سی صبح اور اس میں اک چھوٹے سے سر اور بڑے بدن کا (شاہ دولے کے چوہے جیسا) آنکھیں مَلتا شہر کب سے اونگھ رہا تھا کہنہ قلعے کی دیواریں تو گردشِ دوراں چاٹ گئی تھی رکن عالم کے روضے پر گداگروں کا قبضہ تھا اور جالی میں جھانکتی کرنوں سے روزانہ سورج آ کر منہ دھوتا تھا خلقِ خدا بھی دیکھ کے اس کو شرماتی تھی ’ہوٹل تاج‘ کو جاتی رہ…

Read More

عرفان ستار ۔۔۔۔۔ سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہے

سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہے بتا دوں؟ مجھ سے خود اپنا پتہ گم ہو گیا ہے تمھارے دن میں اک روداد تھی جو کھو گئی ہے ہماری رات میں اک خواب تھا، گم ہو گیا ہے وہ جس کے پیچ و خم میں داستاں لپٹی ہوئی تھی کہانی میں کہیں وہ ماجرا گم ہو گیا ہے ذرا اہلِ جنوں! آؤ، ہمیں رستہ سجھاؤ یہاں ہم عقل والوں کا خدا گم ہو گیا ہے نظر باقی ہے لیکن تابِ نظارہ نہیں اب سخن باقی ہے لیکن…

Read More

اُس دن ۔۔۔۔۔۔ منیر نیازی

اُس دن ۔۔۔۔۔۔۔ میری بات کے جواب میں اُس نے بھی بات کی اُس کے بات کرنے کے انداز میں دیر کے گرے ہوئے لوگوں، ڈرا دیے گئے شہروں کا عجز تھا جو پختہ ہو گیا تھا اُس دن مَیں دیر تک اُداس رہا کیا حسن تھا کہ غرورِ حسن بھول گیا اتنے برسوں میں اُس پر کیا بیتی مَیں نے اُس سے نہیں پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: پہلی بات ہی آخری تھی

Read More

قاضی حبیب الرحمن ۔۔۔۔۔۔ تلاشِ ذات میں اپنا نشاں نہیں ملتا

تلاشِ ذات میں اپنا نشاں نہیں ملتا یقین کیسا؟ یہاں تو گماں نہیں ملتا سفر سے لوٹ کے آنا بھی اک قیامت ہے خود اپنے شہر میں اپنا مکاں نہیں ملتا بہت دنوں سے بساطِ خیال ویراں ہے بہت دنوں سے وہ آشوبِ جاں نہیں ملتا جہاں قیام ہے اُس کا ، عجیب شخص ہے وہ یہ واقعہ ہے کہ اکثر وہاں نہیں ملتا گواہ سارے ثقہ ہیں ، مگر تماشا ہے کسی کے ساتھ کسی کا بیاں نہیں ملتا شعورِ جاں ، عوضِ جاں ، بسا غنیمت ہے کہ…

Read More

سلیم احمد

لوگ کہتے ہیں ہوس کو بھی محبت، جیسے نام پڑ جائے مجاہد کسی بلوائی کا

Read More

معین ناصر ۔۔۔۔۔ شاخ پر پھول کچھ ادھ جلے آ گئے

شاخ پر پھول کچھ ادھ جلے آ گئے زندگی میں مِری دوغلے آ گئے شام تو ہو گئی مے کدے میں، مگر روشنی ہو گئی، دل جلے آگئے وقت نے بھی دیا ساتھ کچھ یوں مرا زندگی میں عجب ولولے آ گئے جب ملی اِک نظر، ہر نظر رُک گئی ہر طرف جا بجا زلزلے آ گئے چل پڑا تھا اُسے میں منانے ،مگر درمیاں پھر وہی فیصلے آگئے

Read More