سرِبازار ماضی ۔۔۔۔۔۔۔ یونس متین

سرِبازار ماضی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر شب ِہجراں چلی پھر شبِ ہجراں چلی گہنے پہن کر درد کی مشاّطگی سے تابناک اپنے ژولیدہ سوالوں کی طرف شرم آگیں زندگی کے اُن حوالوں کی طرف حافظے کی قید میں ہیں جو ابھی جو ابھی تاریخ کے دیوارو در پر درج ہیں یہ عجوزہ ہڈیوں کے کوسنے سہتی ہوئی تین سو سالوں سے جیتی آرہی ہے درد کے انبوہ پر تین سو سالوں کے ہاتھ تین سو ہاتھوں کے سال رینگتے ہیں اس کی زلف و چشم و لب پر بار بار روح میں…

Read More

خورشید ربانی ۔۔۔۔۔ خواب پھولوں کے دیکھتی دیوار

خواب پھولوں کے دیکھتی دیوار اس کے گھر تک پہنچ گئی دیوار کون آیا اجاڑ آنگن میں جی اٹھی ہے گری پڑی دیوار در بنایا گیا تھا اُس کے لیے اور در کے لیے بنی دیوار تُو نہیں ہے تو اب تری تصویر دیکھتی ہے گھڑی گھڑی دیوار پوچھتے ہو کہ ان کہی کیا ہے تم نے دیکھی نہیں کوئی دیوار! اپنی قسمت پہ ناز کرتی ہے اس کی دیوار سے ملی دیوار بات ایسی کوئی تو ہے اس میں اس سے مل کے چمک اٹھی دیوار کوئی تھامے کھڑا…

Read More

بانی ۔۔۔۔۔ سفر ہے مرا اپنے ڈر کی طرف

سفر ہے مرا اپنے ڈر کی طرف مری ایک ذاتِ دگر کی طرف بھرے شہر میں اک بیاباں بھی تھا اشارہ تھا اپنے ہی گھر کی طرف مرے واسطے جانے کیا لائے گی گئی ہے ہوا اک کھنڈر کی طرف کنارہ ہی کٹنے کی سب دیر تھی پھسلتے گئے ہم بھنور کی طرح کوئی درمیاں سے نکلتا گیا نہ دیکھا کسی ہم سفر کی طرف تری دشمنی خود ہی مائل رہی کسی رشتۂ بے ضرر کی طرف رہی دل میں حسرت کہ بانی چلیں کسی منزلِ پُر خطر کی طرف

Read More

ایک خواب ۔۔۔۔۔۔ خورشید رضوی

ایک خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ اگر تم ہوں تو پھر ہم ہنستے ہنستے، چلتے چلتے، دور آکاش کی حد تک جائیں کالی کالی سی دلدل سے تپتا تانبا پھوٹ رہا ہو مکڑی کے جالے کا فیتہ کاٹ کے ہم اُس باغ میں جائیں جس میں کوئی کبھی نہ گیا ہو کوکنار کے پھول کِھلے ہوں بھنورے اُن کو چوم رہے ہوں پتھر سے پانی چلتا ہو مَیں پانی کا چُلّو بھر کر  جب ماروں چہرے پہ تمھارے پہلے تم کو سانس نہ آئے اور پھر میرے ساتھ لپٹ کر ایسے چھوٹے…

Read More

شہزاد نیر

میں تو خود پر بھی کفایت سے اُسے خرچ کروں وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص

Read More

شاہ حاتم

تمھارے غنچہ لب کے شوق میں گلشن کی سب کلیاں چمن میں سن خبر آنے کی استقبال کو چلیاں

Read More

نعمان فاروق ۔۔۔۔۔ تمھارے ہجر کی نیلی کتھا سناتے ہوئے

تمھارے ہجر کی نیلی کتھا سناتے ہوئے گزر رہا تھا درختوں کو بھی رُلاتے ہوئے خود آپ اپنے گریبان میں بھی جھانک ذرا کسی کی ذات پہ تہمت کوئی لگاتے ہوئے کچھ اس طرح کہ خبر اس کو ہو نہیں پائی شفق نے چوم لیا تھا اسے نہاتے ہوئے پرانی یاد کوئی خوں رُلا گئی اس کو ہماری قبر پہ کتبہ کوئی لگاتے ہوئے مجھے یقیں ہے، کسی کو نہ خلق دیکھے گی ہمارے بعد محبت کا غم اٹھاتے ہوئے

Read More

فرار ۔۔۔۔۔ ساقی فاروقی

فرار ۔۔۔۔ شام شام باولے خواب کے عذاب سے ڈرے ہوئے پور پور نیند سے بھرے ہوئے بار بار سوچتے رہیں رات ہو تو رات کاٹ دیں حجلہء ملال میں خیمہء خیال میں دن پکارتا رہے شام شام باولے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read More

الفت رسول

کس زمرے میں آتی ہیں یہ لمبی کالی راتیں چاند اور سورج، مان لیا، ہیں جلوہ نمائے اللہ

Read More

رحمان حفیظ ۔۔۔۔۔ حسن ایسا کہ جو سب کو نظرآنے کا نہیں

حسن ایسا کہ جو سب کو نظرآنے کا نہیں عشق اِتنا کہ مِرے دل میں سمانے کا نہیں بات ہے اور زباں پر نہیں لانے والی راز ہے اور کسی سے بھی چھپانے کا نہیں جی میں آتی ہے کہ    لَے اور اٹھا تا جاؤں اور یہ گیت کسی کو بھی سنانے کا نہیں آپ سودائی ہیں تو شہر میں وحشت کیجے یہ اثاثہ کسی صحرا میں لٹانے کا نہیں آپ ہی اپنے لیے گوشہءعا فیّت ہُوں خود سے نکلوں تو کسی اور ٹھکانے کا نہیں

Read More